نجی اسپتال کے۸۰؍فیصد بیڈ استعمال کرنےکی حکومت کی ہدایت

Updated: May 23, 2020, 4:18 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ممبئی میں سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ۲۲؍ہزار بیڈکوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص ہوگئے ۔ چارج بھی متعین کردیا گیا۔کووڈ۱۹؍ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ان کےعلاج میں دشواریوں کی متواتر شکایتوں کےبعد جمعرات کو ریاستی حکومت نے بی ایم سی کو نجی اسپتالوں کے ۸۰؍فیصد بیڈ کو استعمال کرنےکی اجازت دے دی ہے ساتھ ہی ان بیڈ کا چارج بھی متعین کردیاہے جس سے سرکاری اسپتالوں کوراحت ملنے کا امکان ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کووڈ۱۹؍ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ان کےعلاج میں دشواریوں کی متواتر شکایتوں کےبعد جمعرات کو ریاستی حکومت نے بی ایم سی کو نجی اسپتالوں کے ۸۰؍فیصد بیڈ کو استعمال کرنےکی اجازت دے دی ہے ساتھ ہی ان بیڈ کا چارج بھی متعین کردیاہے جس سے سرکاری اسپتالوں کوراحت ملنے کا امکان ہے۔ ممبئی شہر و مضافات میں سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں میں تقریباً ۳۰؍ہزار بیڈ ہیں جن میں سے ۲۲؍ہزار بیڈ اب کووڈ ۱۹؍ کے مریضوں کیلئے مختص ہوں گے۔ متعدد پرائیویٹ اسپتال، بیڈ نہ ہونےکا عذر پیش کرکے کووڈ۱۹؍ کے مریضوں کاعلاج کرنے سے انکار کررہےتھے۔جن پرائیویٹ اسپتالوں میں کووڈ۱۹؍ کے مریضوں کا علاج جاری ہے وہ علاج کےنام پر من مانی رقم وصول رہے ہیں جس سے لوگ پریشان ہے۔ اس طرح کی متعدد شکایتوں کےپیش نظر کئی سیاسی لیڈران نے حکومت سےپرائیویٹ اسپتالوں کےبارےمیں گائیڈ لائن طے کرنےکی اپیل کی تھی تاکہ ان اسپتالوں میں کووڈ۱۹؍ کےمریضوں کا علاج معقول چارج پر ہوسکے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بھی نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سےاس بارےمیں درخواست کی تھی کہ جب پرائیویٹ اسپتال چیئریٹبل کےنام پر حکومت سے مراعات حاصل کرتےہیں تو ان کابھی فرض ہے کہ ہنگامی صور ت میں وہ حکومت کاساتھ دیں لہٰذا جوپرائیو یٹ اسپتال کووڈ۱۹؍ کے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کررہےہیں یا بیڈ نہ ہونے کے نام پر مریضوں کو اسپتال داخل نہیں کررہے ہیں ، ان کےخلاف کارروائی کی جائے اور ان اسپتالوں میں جو بیڈ ہے وہ حکومت اپنی تحویل میں لے لے تاکہ ان اسپتالوں میں کووڈ۱۹؍ کےمریضوں کا علاج ہوسکے۔ علاوہ ازیں ان اسپتالوں میں علاج کا چارج بھی متعین کردے جس سے پرائیویٹ اسپتالوں میں جاری لوٹ مار پر قابو پایا جاسکے۔‘‘ اس تعلق سے اسٹیٹ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے جمعرات کو ایک سرکیولر جاری کیاہے جس کے مطابق ۲۰؍ فیصد بیڈ پر پرائیویٹ اسپتال اپنے معمول کے مطابق مریضوں کا علاج کرسکتےہیں مگر ۸۰؍ فیصدمختص بیڈ پر بی ایم سی کی ہدایت پر ہی مریض کو داخل کیا جائے گا۔ ان بیڈپر بی ایم سی کا پورا اختیار ہوگا۔ان بیڈ کےمریضوں کے علاج کیلئے چارج بھی طے کردیا گیا ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ ۲۰؍ فیصد بیڈ کے مریضوں سے معمول کے مطابق چارج وصول کرسکتا ہے۔ 
 بی ایم سی ذرائع کےمطابق مذکورہ ۸۰؍فیصد بیڈ کیلئے ایک ایپ یاسینٹرل کنٹرول روم کا استعمال کیا جائے گا۔اس ایپ میں پرائیویٹ اسپتالوں کو اپنے اسپتال کےتعلق سے ضروری معلومات اور موجودہ بیڈ کی تفصیلات درج کرنی ہوگی۔ ایمرجنسی میں مریض کو اسپتال داخل کرنے کیلئے اس ایپ کی مدد سے اسپتالوں میں بیڈ کی پوزیشن معلوم کرکے بی ایم سی کنٹرول روم سے ٹوکن نمبر حاصل کرناہوگا جس کی بنیادپرمریض کا داخلہ اسپتال میں ہوگا۔ بی ایم سی کے ایک آفیسر نے بتایاکہ ’’نجی اسپتالوں میں بیڈ نہ ہونے کا عذر پیش کرکے مریضوں کو داخل نہیں کیاجارہاہے اورعلاج کیلئے من مانی رقم وصول کی جارہی ہے جس کی وجہ سے حکومت نےیہ فیصلہ کیاہے۔‘‘ پرائیویٹ اسپتالوں میں کووڈ ۱۹؍ کےجن مریضوں کا علاج ہوگا،ان کابل بی ایم سی اداکرےگی۔ یہاں علاج کیلئے آئی سی یو بیڈ( وینٹی لیٹر اور آئسولیشن کی سہولت کے ساتھ) کیلئے یومیہ ۹؍ہزار روپے سےزیادہ چارج نہیں لیاجاسکتاہے جبکہ بغیر وینٹی لیٹر والے آئی سی یوبیڈ کیلئے ساڑھے ۷؍ہزارروپے روزانہ کے حساب سے چارج کیاجائےگا۔جنرل وارڈ میں آئسولیشن کے ساتھ جو بیڈ فراہم کیاجائے گا،اس کاچارج ۴؍ ہزارروپے یومیہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK