یومِ جمہوریہ کے موقع پر ممبرا میں خواتین کی زبردست ریلی

Updated: January 28, 2020, 2:13 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

یوم جمہوریہ کے موقع پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ممبر ا میں خواتین نے خاموش ریلی نکالی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔

یومِ جمہوریہ کے موقع پر ممبرا میں خواتین کی زبردست ریلی
ممبرا میں یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ ریلی ۔ تصویر : انقلاب

 ممبرا : یوم جمہوریہ کے موقع پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کےخلاف ممبر ا میں خواتین نے خاموش ریلی نکالی  جس میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔ یہ ریلی دارالفلاح مسجد سے شروع ہو کر ممبرا میں واقع ڈاکٹر امبیڈ مجسمےکے پاس ایک بڑے جلسہ میں  تبدیل ہوگئی ۔روتا اوہاڑ کےذریعے آئین کی تمہید کے ہندی ترجمہ کو پڑھنے کے بعداس  ریلی کا اختتام ہوا۔اس احتجاجی ریلی کی خاص بات یہ رہی کہ ممبرا کی ہندو، عیسائی، بودھ، سکھ بہنوں نے ترنگا لہراتے چلنے والی خواتین مظاہرین پر پھول برسائے اور کہا کہ یہ سب ہمارے حق، ہمارے مستقبل اور ہماری نسلوں کیلئے کیا جارہا ہے۔
 ریلی کے منتظمین ’’ممبرا کوسہ خواتین تنظیم‘‘ اور مظاہرین نےیہ واضح کیاکہ دستور پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا جب تک کہ اس کالے قانون کو واپس نہیں لے لیاجاتا۔ اس موقع پر خواتین کے ایک گروپ نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو میمورنڈ م بھی پیش کیا۔
فرینڈز آف ڈیموکریسی کی بھارتی شرمانے کہا کہ ’’حکومت  لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرناچاہتی ہے  ہمارا دستور یہ کہتا ہے کہ ہم مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ  نہیںکر سکتے۔‘‘جے این یو کی طالبہ اپیکشا پریہ درشنی  نے کہا کہ ’’آسام میں ۳۶؍ کروڑ روپے خرچ کرکے این آر سی کیا گیا اور عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہی حکومت تعلیم کے لئے رقم کیوں خرچ نہیں کر رہی  بلکہ جے این یو میں جب ہم طلبہ احتجاج کر رہے ہیں تو ہم پر حملہ کیا جارہا ہے۔یہ لڑائی ہمارے حقوق کی لڑائی ہے۔‘‘جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم میران حیدر نے کالے قانون کے خلاف دھرنے پر بیٹھی ماؤں  بہنوں کی ستائش کی۔ 
 یومِ جمہوریہ کے موقع پر ممبر ا  میں منعقدہ کل ہند احتجاجی مشاعرہ  میں جے این یو کے سابق طلبہ لیڈر کنہیا کمار نےبھی شرکت کی  اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ہر شہری کو اپنی سطح پر اس کالے قانون کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہئے  ۔یہ لڑائی ابھی اور لمبی چلے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK