جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن میں مسلم نوجوان کی شاندار کامیابی

Updated: October 18, 2021, 12:11 PM IST | Agency | Mumbai

۱۶۵۱؍ ۹۸ء۶؍مارکس حاصل کئےاور جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن ایڈوانس میں قومی سطح پر او بی سی زمرے میں۱۶۵۱؍ واں جبکہ جنرل کٹیگری میں۸۳۲۲؍واں مقام حاصل کیا

Promising student Arhan Ahmed achieved significant success..Picture:INN
ہونہار طالب علم ارحان احمد نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔۔ تصویر: آئی این این

عزم مصم ،محنت ،دلجمعی اور لگن کے ساتھ کسی بھی کام کو تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے اورکامیابی کی مثال قائم کی جاسکتی ہے۔ جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن (جے ای ای) مین امتحان میں۹۸ء۶؍ مارکس حاصل کرتے ہوئے کچھ ایسا ہی کردکھایا ہے ارحان احمد سید عظیم نے۔کامیاب ہونے والے اس طالب علم کا جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن ایڈوانس میں قومی سطح پر او بی سی زمرے میں ۱۶۵۱؍ واں جبکہ جنرل کٹیگری میں۸۳۲۲؍واں مقام ہے۔  اس طالب علم کے پڑھائی میں دلچسپی کا یہ حال ہے کہ وہ جہاں اپنے تابناک مستقبل کی فکر کرتے ہوئے یومیہ ۱۰؍ تا ۱۲؍ گھنٹے انہماک سے حصول علم میںمصروف رہتا تھا وہیں اس نے اپنے کمرے کی درودیوارکوبھی مختلف طریقے کے نوٹس سے سجا رکھاہے تاکہ کتابوں کے ساتھ ان نوٹس سے بھی مدد لی جاسکے ۔ کمرے کی دیواروں کو دیکھنے سے یہ گمان ہوتا ہے گویا یہ بھی کتاب کا ایسا ورق ہو جس پرحاشیہ لگایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی مذکورہ طالب علم نے دیگر امتحانات میں  نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ایس ایس سی میں ارحان نے ۹۴ اور ایچ ایس سی میں ۹۰؍ فیصد مارکس  حاصل کئے تھے۔  نمائندۂ انقلاب نے اس طالب علم سے بات چیت کی تو اس نےاپنی کامیابی پراللہ رب العزت ،والدین اور اساتذہ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے ہی کیمیکل  انجینئر بننا چاہتا تھا۔ اب جبکہ مارکس کی بنیاد پر اسے دہلی آئی آئی ٹی میںداخلہ ملنے کی قوی امیدہے تواس کا خواب ہے کہ وہ کیمیکل انجینئر بن کرایسا کیمیکل تیار کرنا چاہتا ہے جس پرخرچ کم آئے ،ماحولیات کو نقصان نہ پہنچے اور انسانوں کیلئے نافع ہو ۔اس نے اپنے مشاہدہ میںیہ بھی کہا ہے کہ’’ اگرکسی چیزپریکسوئی سے عمل کیاجائے اورصحیح رہنمائی حاصل ہوجائے تو منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔‘‘  اس ہونہار طالب علم ارحان احمدکے والدسید عظیم ریلوےمیںملازم ہیںجبکہ طالب علم کی والدہ معلمہ ہیں اور کلیان میں مقیم ہیں۔ سید عظیم نے۳؍ برس تک لوکل ٹرین چلائی اس کے بعد ۶؍برس تک مین لائن کی ٹرینوںکے ڈرائیور بنائےگئے اور راجدھانی ایکسپریس چلانے کے بعد ان کی بہترین صلاحیت کی بنیاد پرانہیں انسٹرکٹر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے چنانچہ وہ فی الوقت کلیان میںواقع ریلوے کے موٹرمین ٹریننگ اسکول میںنو منتخب موٹر مینوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ مختلف مواقع پرریلوے انتظامیہ کی جانب سے انہیں ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔وہ اپنے بیٹے کی کامیابی پربہت خوش ہیں اوران کا کہنا ہے کہ بیٹے نے کیمیکل انجینئر بننے کا جو خواب دیکھا ہے وہ انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا۔

mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK