یورپی ممالک ترکی کو اسلحہ کی سپلائی بند کردیں: یونان کا مطالبہ

Updated: October 22, 2020, 6:37 AM IST | Agency | Brussels

یونانی وزارت خارجہ کی جانب سے اسپین، اٹلی اور جرمنی کے نام خطوط، ترکی پر پابندیوں کا بھی مشورہ

Turkey Ship - Pic : PTI
ترکی جہاز : تصویر : پی ٹی آئی

یونان نے یورپی یونین میں شامل اپنے اتحادی ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ ترکی کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کریں۔یونان کی ایک نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ نیکوس دیندیاس نے ایک روز قبل جرمن ، اسپینی اور اطالوی وزرائے خارجہ کو ایک خط لکھا ہے۔اس میں انھوں نے ترکی کے حالیہ اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات پر زوردیا ہے کہ اس کو ہتھیاروں کی فروخت بند کردی جائے۔
 انھوں نے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے نام خط میں برلن حکومت پر زوردیا ہے کہ ترکی کو آبدوزوں ، جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کی برآمد بند کردی جائے۔ایک سفارتی ذریعے کے مطابق یونانی وزیر خارجہ نے یورپی کمیشن کے نام الگ سے ایک خط لکھا ہے اور اس میں یورپی بلاک سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’ترکی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی پاداش میں اس کے ساتھ کسٹم کے سمجھوتے کو معطل کردیا جائے۔‘‘ تاہم انھوں نے ترکی کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وضاحت نہیں کی ہے۔یورپی یونین کے لیڈروں نے گزشتہ ہفتے اپنے اجلاس کے اختتام پر ترکی کے بحیرہ روم میںکئے گئے قدامات کی مذمت کی تھی۔یورپی لیڈروں نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو دسمبر میں آئندہ اجلاس میں اس پر  پابندیوں کے نفاذ پرغور کیا جائے گا۔
 ترکی کا یونان اور  قبرص کے ساتھ بحیرہ روم  کے مشرقی حصے میں تیل اور گیس کی دریافت  کے معاملے پر شدید تنازع چل رہا ہے اور دونوں کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کررہے ہیں۔یونان بحیرہ روم کے مشرقی حصے پر ملکیت کا دعوے دار ہے جبکہ ترکی اس پر اپنی ملکیت کا حق جتلا رہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کو وہاں گیس اور تیل کی تلاش اور انھیں نکالنے کا حق حاصل ہے۔ترکی کی بحری افواج کا یونانی بحریہ سے گزشتہ ماہ بحیرہ روم  میں فوجی مشقوں کے دوران میں ٹکرائو  بھی ہوا تھا۔ واضح رہے کہ نگورنو کاراباخ  کی جنگ کے دوران ترکی کا کھل کر آذر بائیجان کی حمایت کرنا بھی یورپی ممالک کی نظروں میں کھٹک رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK