یونان کا ترکی کے خلاف سخت اقدامات پر اصرار

Updated: December 11, 2020, 12:38 PM IST | Agency | Brussels

یورپی سربراہ اجلاس کے افتتاح سے قبل یونان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ترکی کے ساتھ زیادہ شدید موقف اختیار کیا جائے

Turkey - Pic : INN
ترکی اور یونان تنازع ۔ تصویر : آئی این این

 یورپی سربراہ اجلاس کے افتتاح سے قبل یونان  نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ترکی کے ساتھ زیادہ شدید موقف اختیار کیا جائے۔یونان کی راجدھانی برسلز میں منعقدہ اجلاس  جمعرات اور جمعہ ۲؍ روز چلے گا۔ اجلاس میں یورپی سربراہان انقرہ پر پابندیوں کے عندیے کے  درمیان ترکی کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کو زیر بحث لائیں گے۔ اس کی وجہ ترکی کا مشرق وسطیٰ میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مبینہ برتاؤ ہے۔اس سے قبل یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میٹسوٹاکس نے نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ یورپی یونین کے دباؤ کے بغیر ترکی خطے میں اپنے اقدامات ترک نہیں کرے گا۔  انہوں واضح کیا انقرہ کے برتاؤ میں تبدیلی کے بعد مکالمہ ممکن ہے۔واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب  اردگان  نے بدھ کویورپی یونین کی جانب سے  دی گئی پابندیوں کی دھمکی کے جواب میں کہا تھا کہ  ترکی بحیرہ روم میں اپنے حقوق رکھتا ہے اور وہ ان حقوق کا دفاع کرے گا۔ اس کے باوجود اردگان  نے گفتگوپرآمادگی  ظاہر کی تھی۔
 تاہم ایک یورپی سفارتکار نے جمعرات کو باور کروایا ہے کہ ترکی کے ساتھ گفتگو کی خواہش کا مطلب اس کی’ اشتعال انگیزی‘ کو نظر انداز کر دینا نہیں ہے۔ سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کے برتاؤ نے یورپی یونین کی یک جہتی کو مضبوط کر دیا ہے۔دوسری جانب اردگان کے مشیر کا کہنا ہے کہ ترکی مغربی اتحاد کا حصہ ہے اور وہ یورپی یونین میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ صدارتی مشیر نے انقرہ کی جانب سے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ ترکی پر کسی بھی قسم کی یورپی پابندیوں کے برعکس نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکی بحیرہ روم کے مشرق میں کسی بھی ملک کے ساتھ  فوجی تصادم نہیں چاہتا۔ یورپی یونین میں خارجہ امور کے اعلی نمائندے جوزف بوریل نے چند روز قبل بتایا تھا کہ ترکی نے اپنی پالیسیوں میں بنا کسی تبدیلی کے بحیرہ روم میں کھدائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

greece turkey Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK