خبروں پر لگام کسنےکا معاملہ پارلیمنٹ کو اس سلسلہ میں قدم اٹھانا چاہئے: ہائی کورٹ

Updated: October 17, 2020, 12:46 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ذرائع ابلاغ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے،سنسنی پھیلانے اور جھوٹ پر مبنی خبروں کو بے خوف ہو کر عام کرنے کے خلاف ۸؍ آئی پی ایس افسران کی داخل کردہ عرضداشت پر جاری سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ریاستی اور خصوصی طور پر مرکزی حکومت سے کہا کہ ’’ کیوں نہ ایسا سسٹم یا میکانزم بنایا جائے جس کی مدد سے نقصان سے قبل ہی اس پر قابو پالیا جائے ۔

Sushant Singh Rajput . Picture INN
سشانت سنگھ راجپوت۔ تصویر: آئی این این

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ذرائع ابلاغ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے،سنسنی پھیلانے اور جھوٹ پر مبنی خبروں کو بے خوف ہو کر عام کرنے کے خلاف ۸؍ آئی پی ایس افسران کی داخل کردہ عرضداشت پر جاری سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ریاستی اور خصوصی طور پر مرکزی حکومت سے کہا کہ ’’ کیوں نہ ایسا سسٹم یا میکانزم بنایا جائے جس کی مدد سے نقصان سے قبل ہی اس پر قابو پالیا جائے ۔‘‘ کورٹ نے کہا کہ اگر ذرائع ابلاغ اپنی حدود کو پار کرتا ہے تو مجلس قانون ساز کو چاہئے کہ اس پر فوری روک لگائے ۔  بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی نے ۸؍ آئی پی ایس افسران کی سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق ذرائع ابلاغ میں بے دریغ جھوٹ بولنے والے چینلوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بھی کہا کہ ’’ خبروں پر لگام لگانے کے لئے عدالت  ذرائع ابلاغ کے گرد ’ لکشمن ریکھا ‘ کیوں کھینچے ، اس سلسلہ میں پارلیمنٹ د کو مداخلت کرنا چاہئے اور میڈیا پر غدغن لگانے کے لئے ٹھوس میکانزم تیار کرنا چاہئے ۔
 سابق آئی پی ایس افسروں کی اپیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ جس طرح سےذرائع ابلاغ نے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت پر جھوٹ کا سہارا لے کر کئی لوگوں کی شبیہ کو داغد دار کیا ہے ، ان پر لگام لگایا جانا   ضروری ہے ۔ جس طرح سے مذکورہ بالا کیس کی تفتیش کرنے والے افسروں پرتنقید کی گئی ہے اور انہیں نشانہ بنایا جاتا  رہا ، اسی طرح پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اور لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جھوٹ کا ساتھ نہ دیں یا جھوٹ کو عام نہ کریں ۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومتوں کے پاس پرنٹ میڈیا کے موضوعات پر سینسر کی کینچی چلانے کا حربہ تو موجود ہے لیکن ریاستیں الیکٹرانک میڈیا پر قدن لگانےمیں دلچسپی لیتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ کورٹ کے تبصرہ پر مرکزی حکومت کی جانب سے وکیل انل سنگھ نے عدالت سے کہا کہ ’’اس سلسلہ میں سپریم کورٹ نے حکومتوں کو ذرائع ابلاغ کی آزادی صلب کرنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے میڈیا کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اس نے اپنا خود ساختہ نظام بنا لیا ہے۔‘‘ اس پر چیف جسٹس نے سرکاری وکیل کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نےیہ فیصلہ ۱۳۔۲۰۱۲ء میں سنایا تھا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں موجودہ دور میں آزاد ی کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ہائی کورٹ نے یہ کہا تھا کہ آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کی تضحیک کریں یا کسی کا مذاق اڑائیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK