فرانس کے صدارتی انتخابات میں حجاب اور گوشت اہم موضوع

Updated: April 22, 2022, 10:01 AM IST | Agency | France

انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پین حجاب پر پابندی لگانا چاہتی ہیں۔ میکرون اگرچہ حجاب پر پابندی تو نہیں لگانا چاہتے لیکن انکے دور حکومت میں کئی مساجد اور اسلامی گروپوں کو بند کیا گیا

Marine Le Pen and Emmanuel Macron during a TV discussion.Picture:INN
لی میری پین اور ایمانویل ماکرون ایک ٹی وی مباحثہ کے دوران۔ تصویر: آئی این این

 فرانسیسی انتخابات میں حالیہ صدر ایمانویل میکرون  کے ساتھ صدارت کی دوڑ میں سرفہرست میرین لی پین صدر بن کر مسلمان خواتین کے حجاب سمیت جانوروں کو ذبح کرنے کے روایتی طریقے پر بھی پابندی لگانا چاہتی ہیں۔ایک عالمی نیوز ایجنسی کے مطابق حجاب کا مسئلہ فرانسیسی صدارتی انتخابات میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پین حجاب پر پابندی لگانا چاہتی ہیں۔ ایمانویل میکرون اگرچہ حجاب پر پابندی تو نہیں لگانا چاہتے لیکن ان کے دور حکومت میں کئی مسجدوں اور اسلامی گروپوں کو بند کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس انتخابی مہم میں مسلمانوں کو ناجائز طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
 جنوبی شہر پیٹروس کی مقامی فارمرز مارکیٹ میں چند حجاب پہننے والی مسلمان خواتین نے میرین لی پین سے ان کی مہم کے دوران سوال اٹھائے۔ ایک خاتون نے کہا ’’میرا حجاب سیاست میں کیوں گھسیٹا جا رہا ہے؟‘‘ میرین لی پین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک یونی فارم ہے جو وقت کے ساتھ اسلام کے ایک شدت پسند خیال نے مسلط کیا ہے۔‘‘میرین لی پین کی جانب سے حجاب کی مخالفت پر ان کے ناقد انہیں فرانس کے اتحاد کیلئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی مسلمان آبادی کو، جن کی تعداد لاکھوں فرانسیسی مسلمانوں پرمشتمل ہے، نشانہ بنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لی پین مہاجرین کی آمد پر بھی پابندی لگانا چاہتی ہیں اور جانوروں کو ذبح کرنے کے روایتی طریقے کو بھی بند کرنا چاہتی ہیں۔ جانوروں کے ذبح کرنے کے روایتی طریقہ کار پر پابندی کی وجہ سے لاکھوں مسلمان اور یہودی حلال گوشت تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے۔میرین لی پین کا کہنا ہے کہ تمام جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے انہیں بے ہوش کرنا چاہئے۔ وہ اسے جانوروں کی بہبود کا مسئلہ سمجھتی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کو سٹن کرنے سے وہ زیادہ تکلیف سے گزرتے ہیں اور اپنے ذبح کرنے کے طریقے کو کم تکلیف دہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر یہ انتخابی وعدہ پورا ہو گیا تو مبصرین کا کہنا ہے کہ فرانس کو اس سے کئی طرح کے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں لاکھوں مسلمانوں اور یہودیوں کو ناراض کرنے کے علاوہ فرانس کی جانب سے حلال گوشت کی درآمدات پر بھی منفی اثر پڑے گا۔اگلے اتوار کے روز صدر میخواں، لی پین کے ساتھ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں اتریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار انتخابی دوڑ میں مقابلہ سخت ہے۔خیال رہے کہ  صدر ماکرون  نے۲۰۱۷ء میں لی پین کو ایک آسان مقابلے میں ہرا کر صدارتی دوڑ جیتی تھی۔

france Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK