کورونا کے بحران میں مکانوں کی فروخت میں زبردست کمی

Updated: July 11, 2020, 10:47 AM IST | New Delhi

کورونا وائرس کی وبا اور ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے۹؍ بڑے شہروں میں مکانات کی فروخت۶۷؍ فیصد گھٹ گئی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس کی وبا اور ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے۹؍ بڑے شہروں میں مکانات کی فروخت۶۷؍ فیصد گھٹ گئی ہے۔ ڈیٹا انیلسیس فرم ’پراپی ایکویٹی ‘کے تجزیہ کے مطابق اپریل تا جون ۲۰۲۰ءکے دوران مکانات کی کُل فروخت۲۱،۲۹۴؍یونٹ رہی جو اس سے ایک سال پہلے کی مدت میں ۶۴،۳۷۸؍ یونٹ تھی۔ کورونا کے بحران میں اس میں ۶۷؍ فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چنئی اور حیدرآباد میں بھی مکانات کی فروخت میں ۷۴؍ فیصد کمی واقع آئی ہے اوربنگلورو میں ۷۳؍ فیصد ،ممبئی میں ۶۳؍ فیصد ، تھا نے میں ۵۶؍ فیصد اور پونے میں ۷۰؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔حال ہی میں ، پراپرٹی کنسلٹنٹ ایناراک نے بتایا تھاکہ رواں سال اپریل سے جون کے دوران ۷؍ شہروں میں مکانوں کی فروخت ۸۱؍ فیصد گھٹ کر۱۲،۷۴۰؍ یونٹ ہوگئی ہے۔
 این سی آر میں فلیٹ ملنے میں تاخیر ہوگی
 پراپرٹی کنسلٹنٹ جے ایل ایل کے مطالعے کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے این سی آر میں ۳؍ لاکھ سے زائد فلیٹوں کی فراہمی میں تاخیر ہوگی۔ اس میں سے۱ء۲۴؍ لاکھ فلیٹ سب سے زیادہ فروخت ہونے والے مڈ سیگمنٹ کے ہیں ۔ اس میں وہ۲؍ لاکھ فلیٹ شامل نہیں ہیں جو رکے ہوئے منصوبے کی فہرست میں شامل ہیں ۔ واضغح رہے کہ۲۰۲۰ء میں این سی آر کے۶۸؍ ہزار سے زیادہ گھر خریداروں کو مکانات ملنے والےتھے لیکن نومبر دسمبر میں نیشنل گرین ٹریبونل یہاں تعمیراتی منصوبوں پرپابندی عائد کردی تھی اور اب وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عائد کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب خریداروں کو مقررہ کردہ مدت میں گھر ملنے کا امکان کم ہے۔
  ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر مزدوروں کی ہجرت اور ان کے دوبارہ لوٹنے میں ہونے والی مشکلات کے مدنظر کئی تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکا ہوسکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK