چین میں بھیانک طیارہ حادثہ، ۱۳۲؍ افراد سوار تھے، کسی کے بچنے کی اُمید کم

Updated: March 22, 2022, 8:27 AM IST | Beijing

۲۶؍ ہزار فٹ کی اونچائی سے محض ۳؍ منٹوں میں زمین پر آگرا،  ۶؍ سال پرانا تھا، چینی صدر شی جن پنگ نے جانچ کا فوری حکم دیا

Preliminary photo of the plane crash
طیارہ حادثہ کی ابتدائی تصویر

جنوبی چین کے گوانگشی زوانگ علاقے میں پیر کی سہ پہر ایک مسافر  بردارطیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں۱۳۲؍ افرادسوار تھے۔ حادثے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ کنمنگ سے گوانگزو جانے والا چینی ایسٹرن ایئرلائن کا بوئنگ۷۳۷؍ صوبہ ووزو شہر کے ٹینگزیان میں گر کر تباہ ہو گیا اور پھر اس میں آگ لگ گئی۔ چین کے شہری ہوا بازی کے انتظامیہ  نے بتایا کہ۱۳۲؍ افراد میں سے۱۲۳؍ مسافر  تھے جبکہ   بقیہ ۹؍ افراد طیارہ کے عملے کا حصہ تھے۔ 
 چین کے صدر شی جن پنگ نے حادثے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی جانچ کے فوری احکامات جاری کردیئے ہیں۔  انہوں نے ’’حادثے کی وجوہات کا  فوری طورپر پتہ لگانےا وراحتیاطی اقدامات‘‘ کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔   اب تک حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے مگر ابتدائی  جانچ میں یہ واضح ہوا ہے کہ ۲۶؍ ہزار کلومیٹر کی بلندی سے طہارہ محض ۳؍ منٹ میں پہاڑی پرآگرا جس کے بعد اس میں  اور پہاڑ پر آگ لگ گئی۔  انتظامیہ نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونےو الا طیارہ محض ۶؍ سال پرانا تھا اور  ۲۹؍ ہزار کلومیٹر کی بلندی پرواز کرتا تھا۔  بچاؤ کارکن حالانکہ  اس مقام پر  پہنچ گئے ہیں جہاں حادثہ پیش آیا ہے مگر اب تک طیارہ تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔رات کا اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے اس میں دشواری پیش آرہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حادثے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کسی کے زندہ بچ جانے کی امید کم ہے۔ 
 چین کے سرکاری ٹیلی ویژن  کی جانب سےجاری کی گئی تصویروں میں دیکھا جاسکتاہے کہ بچاؤ کارکن سرچ لائٹ  کے ساتھ طیارہ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایئر لائن نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ میں کوئی غیر ملکی مسافر نہیں تھا تاہم ان خاندانوں میںصف ماتم بچھ گئی ہے جن کے اعزہ طیارہ میں سوار تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK