وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہند۔امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو نہایت مضبوط اور قومی مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی جیسی مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 10:09 PM IST | New Delhi
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہند۔امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو نہایت مضبوط اور قومی مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی جیسی مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہند۔امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو نہایت مضبوط اور قومی مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی جیسی مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مضبوط اور اچھے تعلقات ہیں، اور موجودہ پیچیدہ صورتحال میں ہندوستان سب کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔
جے شنکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ توانائی کی فراہمی کے معاملے میں ہندوستان سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔ اتوار کے روز ہندوستان کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جئے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، جو کئی شعبوں میں قومی مفادات کی مماثلت پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی کو واضح طور پر امریکہ فرسٹ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ ہندوستان کا نقطۂ نظر انڈیا فرسٹ ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک واضح طور پر اپنے اپنے قومی مفادات سے رہنمائی لیتے ہیں۔ دنیا بھر میں توانائی کی غیر یقینی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترجیح قابلِ اعتماد، بڑے اور کم قیمت ذرائع سے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک توانائی کے مسائل کا تعلق ہے، ہماری توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس متعدد، بڑے، قابلِ اعتماد اور سستے ذرائع ہوں۔ اس لحاظ سے امریکہ کئی اعتبار سے موزوں ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی ایسے ہیں۔ اسی لیے ہم توانائی کی فراہمی میں تنوع برقرار رکھیں گے اور مناسب لاگت پر اسے جاری رکھیں گے، کیونکہ آخرکار عوام کو سستی اور قابلِ رسائی توانائی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مجھے معلوم تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے، میں بہترین ذہنی حالت میں تھا: شریاس ایّر
جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت مضبوط تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان ممالک میں ہمارے حقیقی مفادات وابستہ ہیں، اس لیے ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم ان تمام تعلقات کو کیسے برقرار رکھیں، اپنی شراکت داری کی حفاظت کیسے کریں اور اپنے مفادات کو کیسے آگے بڑھائیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دونوں محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری تجارت کے حامی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں کم رہیں اور توانائی کے ذرائع زیادہ دستیاب ہوں۔ ہم اس خطے میں محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری تجارت کے بھرپور حامی ہیں۔ ہم بازاروں کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتے۔ دہشت گردی کو مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے نہ صرف مشترکہ مفادات ہیں بلکہ مشترکہ خطرات بھی ہیں، جن میں دہشت گردی نمایاں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ کے حقوق پر بولی کی جنگ، ہندی ڈیل ۴۵۰؍ کروڑ تک پہنچ گئی
انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے: زیرو ٹالرنس (صفر برداشت) کی پالیسی۔ ہم دونوں ممالک کی متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے امریکی نئی ویزا پالیسی کا مسئلہ بھی روبیو کے سامنے اٹھایا۔ جے شنکر نے کہاکہ لوگوں کے درمیان تعلقات ہمارے رشتے کا بنیادی حصہ ہیں۔ میں نے روبیو کو ویزا کے اجرا میں جائزمسافروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ اگرچہ ہم غیر قانونی اور بے ضابطہ نقل و حرکت کے خلاف تعاون کر رہے ہیں، لیکن ہماری توقع ہے کہ اس کا منفی اثر قانونی سفر پر نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ یہ تجارت، ٹیکنالوجی اور تحقیقی تعاون کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس موقع پر روبیو نے بھی کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تجارت سے متعلق بعض اختلافات صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ عالمی تجارت کے نتیجے میں امریکی معیشت میں عدم توازن پیدا ہوا ہے، جسے دور کرنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی معاملات پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔