افغانستان میں بنیاد ی ضروریات پوری کرنےکیلئے لوگ گھریلو اشیاء تک فروخت کررہےہیں

Updated: November 29, 2021, 12:48 PM IST | Agency | Kabul

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی اداروں سے افغانستان کے خلاف پابندیاں کم کرنے کی اپیل کی ، اس کے مطابق افغانستان انسانی المیہ کا سامنا کررہا ہے اور اس ملک میں کئی ملین افراد کی جان خطرے میں ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

افغانستان میں  سنگین معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اور بینکنگ کے شعبے کو بھی سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں انسانی بحران کے خدشات سے بھی خبردار کیا ۔ اس کے مطابق  ملک کی نصف آبادی یعنی ۳۸؍ لاکھ افراد سردیوں کے موسم میں بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ملک کی بگڑتی معاشی حالت کے  سبب شہری کھانے اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی گھریلو اشیاء تک فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔   یاد رہے کہ چند روز قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں افغانستان کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس عالمی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیاکہ بیرونی امداد کی معطلی، حکومت افغانستان کے سرمایوں کے منجمد ہونے نیز طالبان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں نے ملک کو غربت   اور  افلاس کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ اور افغانستان ایک شدید معاشی بحران میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی اداروں پر افغانستان کے خلاف پابندیاں کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان انسانی المیہ کا سامنا کررہا ہے اور افغانستان کے موجودہ بحران کے پیش نظر اس ملک میں کئی ملین افراد کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۲؍کروڑ ۲۸؍لاکھ افغان شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے جو افغانستان کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور ۱۰؍ لاکھ افغان بچےغذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے ہر ماہ انسانی بنیاد پر۲۰؍ کروڑ ڈالر امداد درکار ہے۔  واشنگٹن نے کابل کے ۱۰؍ ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کر دیئے ہیں اور دوسری جانب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے بھی فنڈ تک افغانستان کی رسائی معطل کردی ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں غیر ملکی عطیات دہندگان نے افغانستان کی گزشتہ حکومت کے ۲۰؍ سالہ دور میں سرکاری اخراجات کا ۷۵؍ فیصد حصہ فراہم کیا تھا۔  اسی دوران یورپی یونین کے کمیشن کے صدر اورسولا فون درلین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سماجی اور اقتصادی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جانی چاہئےاور افغانستان میں طاقت کے زور پر بننے والی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ یورپی یونین کے کمیشن کے صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سنیچر سے قطر کے شہر دوحہ میں طالبان، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔  اس سے قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی ایک خط میں امریکی کانگریس پر زور دیا تھا کہ وہ افغان عوام کے اثاثوں کو آزاد کرے، جبکہ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ مغربی ممالک افغانستان میں جان بوجھ کر اقتصادی بحران پیدا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان نے ۱۵؍اگست کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالا اور ۷؍ستمبر کو عبوری حکومت تشکیل دی تھی۔  گزشتہ سنیچر کو حکومت کے محکمۂ ریونیو کے ترجمان معراج محمد معراج نے کہا تھا کہ ۲؍سے ڈھائی ماہ کے عرصے میں ۲۶؍ارب افغانی (تقریباً ۲۷؍کروڑ ۷۰؍لاکھ ڈالر) ریونیو حاصل کرنے کے بعد اب حکام تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ایک  پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا :’’اس وقت تمام شعبہ جات فعال نہیں ہیں بلکہ صرف ۲۰؍سے ۲۵؍فیصد معیشت فعال ہے۔‘‘ انہوں نے کہا تھا :’’ حکام غریبوں اور یتیموں کیلئے امدادی منصوبوں کی غرض سے ایک نیا اسلامی ٹیکس متعارف کرائیں گے۔‘‘ اسی دوران افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند نے  قوم سے اپنے خطاب کے موقع پر عالمی برداری سے جنگ افغانستان کی مدد کی اپیل ۔ ان کے بقول :’’ہم تمام ممالک کو یقین دلاتے ہیں کہ کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور سب کے ساتھ بہترین معاشی تعلقات رکھنا چاہتےہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK