بھاگلپور میں ریشم چمکانے والوں کی زندگی سے چمک غائب

Updated: June 23, 2020, 2:15 PM IST | Inquilab News Network | Bhagalpur

بنکر بے بس اور بد حال، ایک ساڑی تیار کرنے پر ۷۰؍ روپے محنتانہ ملتا ہے،نصف رقم لوم کے رکھ رکھاؤ اور بجلی پر خرچ ہو جا تی ہے۔بنکروںکے پاس پونجی بھی نہیں ہے کہ وہ روزگار کھڑا کر سکیں گزشتہ ۳؍ مہینوں سے لوم کا شور بند ،۹۰ ؍فیصد بنکروں کو سرکاری منصوبوںکا علم نہیں ہے ، ۸۰؍ ہزارسے زائد بنکروں کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ، ۲۵؍ ہزار سے زائد پاورلوم بند

Bunkar - Pic : Inquilab
بھاگلپور کےبنکر مشکل دور سے گزر رہےہیں۔ تصویر : انقلاب

ان دنوں بہار کے ضلع بھاگلپور  کے  بنکر بے بس اور بد حال ہیں  ۔ ان کیلئے دو قت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔  ریشمی شہر کے بنکروں کا شاید یہ مقدر بن چکا ہے ۔ بنکر اپنے ہنر سے دھاگوں کو چمکا کرکے خوبصورت کپڑے تیار کرتے ہیں لیکن  ان دنوں اُن کی زندگی کی چمک غائب ہے ۔  ان کے معمولات زندگی میں بہتری نہیں آرہی ہے۔ 
  ناتھ نگر کے محمد کلیم انصاری بتاتے ہیں کہ ایک ساڑی تیار کرنے پر۷۰؍ روپے محنتانہ ملتا ہے، اس میں بھی نصف رقم لوم کے رکھ رکھاؤ اور بجلی پر خرچ ہو جا تی ہے ۔ اب تو پونجی بھی نہیں ہے کہ روزگار کھڑا کر سکیں ۔ گزشتہ۳؍ مہینوں سے لوم کا شور بند ہے ۔ ۹۰؍ فیصد بنکر ایسے ہیں جن کو یہ بھی نہیں معلو م ہے کہ ان کے لئے کون کون سا منصوبہ حکومت  نےشروع کیا ہے ؟
  ناتھ نگر اور چمپا نگر کے بنکروں کا کہنا ہے کہ یہاں کیندریہ ریشم بورڈ  اورپاور لوم سروس سینٹر وغیرہ کا دفتر بھی ہے ۔ ٹیکسٹائل وزارت نے پاور لوم اورہینڈ لوم سیکٹر کے لئے کئی منصوبے  بنائے ہیں لیکن اس کا سیدھا فائدہ انہیں  نہیں مل رہا ہے ۔ پاور لوم سروس سینٹر سے پاور لوم کو اپ ڈیٹ کرنے کے منصوبے میں ۹۰ ؍فیصد سبسیڈی کا نظم ہے لیکن اس کے لئے پہلے خود ہی ۳۰؍ہزار روپے ایک لوم کو اپ گریڈ کر نے میں لگانے پڑ تے ہیں ۔ اتنے پیسے نہیں کہ پہلے خود پونجی لگا سکیں ، ہینڈ لوم کے لئے کچھ بنکروں کو ۱۲ ؍ہزار کی رقم ضرور ملی جبکہ اکثر محروم ہو گئے ہیں ۔ بنکروں کا کہنا ہے کہ ۵؍ سال قبل دھاگا کارڈ دیا گیا جس سے انہیں ۱۰؍ فیصد سبسیڈی پر دھاگا دستیاب کرایا جانا تھا ۔ اس منصوبے میں انہیں پہلے رقم جمع کر نی پڑتی تھی پھر۱۰؍ دنوں بعد دھاگا ملتا تھا چونکہ پونجی نہیں تھی ،اس لئے وہ مہاجن کے دھاگے  ہی پر   مزدوری کرنے لگے ۔
  اس سلسلے میں پرتھوی راج نول کہتے ہیں کہ ریشم صنعت کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو پیکیج دینا چاہئے۔ بالمیکی داس کہتے ہیں کہ مزدوری نہیں مل رہی ہے ۔ دانے دانے کے محتاج ہیں۔ منیش بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے ہینڈ لوم پر کام ٹھپ ہے ۔
 مدثر  کے مطابق آرڈر ملنے کے بعد ۵؍ ہزار دوپٹہ تیار کیا لیکن تاجر لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ، پونجی پھنس گئی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو نے سے اب بیرون ریاست جانے کی نوبت آگئی ہے ۔ 
  بنکر سنگھرش سمیتی کے  سیکر یٹری ایاز انصاری نے کہا کہ حکومت نے ۵؍ لاکھ روپے کی پونچی ۴؍ فیصد شرح سود پر دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ بنکر ہاٹ بناکر کپڑا فروخت مر کز کھول نے کے اعلان پر بھی عمل نہیں ہو ا ۔ اس وقت ۸۰؍ہزار سے زائد بنکرو ں کے سامنے کھانے پینے کا مسئلہ ہے ۔ ۲۵ ؍ہزار سے زائد پاور لوم بند ہیں ۔ ۲  ؍ ہزار۴۰۰؍ ہینڈ لوم بنکر بھی بے روزگار ہو چکے ہیں جن کی گھر بار  مزدوری سے چلتاتھا ۔ تقریباً ۲۶۰ ؍دھاگا رنگائی کیندر ، ڈائننگ اور فنیشنگ کا کام بھی ٹھپ ہے۔ تانی بھرنی اور لری بھرنے والے تقریباً ۶؍ہزار افراد بے روزگار ہیں ۔

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK