قریش نگر کے ۳؍ مکان منہدم ، ۲۵؍ مکانات خالی کرائے گئے

Updated: September 27, 2020, 5:30 AM IST | Kazim Shaikh | Kurla

کرلا قریش نگر کی پہاڑی پر صغریٰ بی کمپاؤنڈچال میں مکان کا حصہ منہدم ہونے کے بعد علاقے میں افراتفری ۔راتوں رات مکانات خالی کرائے گئے ۔ متاثرہ مکین کے گھر میں ۲؍ دن بعد شادی تھی اور ایک مکین بیوہ اپنی ۴؍بیٹیوں اور ایک چھوٹے بیٹے سمیت گھریلواشیا کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنے پر مجبور

Qureshnagar Kurla
کرلا قریش نگر میںمکان کی انہدامی کارروائی اور دوسری تصویر میں پریشان حال متاثرین دیکھے جاسکتے ہیں

یہاں قریش نگر ( قصائی واڑہ )  کی پہاڑی پر  واقع صغریٰ بی کمپاؤنڈکے مکان میں پڑنے والی دراڑ اور کچن کا حصہ گرنےسے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔اطلاع ملتےہی  راتوں رات میونسپل کارپوریشن اور پولیس نے نہ صرف مکینوں سے گھر خالی کرایا بلکہ دوسرے دن سنیچر کو ۳؍ مکانات منہدم بھی کردیئےگئے۔اس کے علاوہ تقریباً ۲۵؍مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔  منہدم ہونے والوں میں ایک مکان ایسا تھاجس میں ۲؍ دن بعدشادی ہونے والی تھی۔متاثرین میں ایک  بیوہ خاتون ایسی بھی شامل ہےجو اپنی ۴ بیٹیوں اور ایک چھوٹےبیٹےاور اپنے گھریلوسامان کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنے پر مجبور ہے ۔ 
 کرلاقریش نگر میں صغریٰ بی کمپاؤنڈ چال میں رہنے والی شمس النساء کی بیٹی زویاشیخ نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتےہوئےکہاکہ صغریٰ بی کمپاؤنڈ کے مالک اخترحسین کاگراؤنڈ فلور پر مکان ہے ۔ اس مکان کے اوپر ایک جانب احمد علی اور دوسری جانب میری والدہ اپنی ۴؍ بیٹیوں اور ایک  بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں ۔ 
 زویا کا کہنا ہے کہ اختر کے خاندان میں ۲؍ ۳؍ دنوں بعدشادی ہونے والی ہے ۔ اس لئے مکان میں کچھ مرمت کاکام چل رہا تھا ۔ اس سےپہلے ان کے مکان میں دراڑ پڑچکی تھی اور خستہ حال ہونے کی  وجہ سے انھوں نے مکینوں سےکئی مرتبہ لوہے کا اینگل ڈالنے کیلئے پیسے کیلئےدباؤ ڈالا تھا ۔ اسی دوران انھوں نے ہمارے گھروالوں سے بدکلامی بھی کی تھی۔مکینوں نےوعدہ کیا تھا کہ جب مکان مرمت کرناہوگا پیسےلےلینا۔ کل  شام کام کے دوران ان کے گھرمیںباورچی خانہ کاکچھ حصہ منہدم ہوگیاتو انھوں نے کسی کو بھی نہیں بتایا اور اچانک گھر خالی کرکے چلے گئے۔ اس حادثے کی وجہ سے علاقے میں افراتفری مچ گئی ۔ 
 انھوں نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی مکان سےملحق پہاڑی کی چٹان کاٹ کر اس میں گڑھا کرکے مکان مالک  اختر کے  رشتہ دار صابرنے دکان بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی شکایت ملنےپرپولیس اور بی ایم سی نےکام کور کوادیاتھا اوروہ کھنڈ رابھی تک  ایسا ہی پڑا ہے۔  بقول شمس النساء مکان کے نیچے کھدائی کے بعد سے مکان کی بنیاد کافی کمزورہوگئی تھی۔ اسلئے مکینوں کے جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا ۔ 
 شمس النسانےکہاکہ۲؍سال پہلے شوہر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ایک بیٹی کام کرتی تھی، جس سےگھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کاکام بھی چھوٹ گیا۔اس وقت ہم لوگ گھر کے اخراجات کیلئےپریشان تھے۔میرا مکان تھا لیکن اس حادثے کی وجہ سے میرے سر سے سایہ بھی اجڑگیا ۔ رات میں اختر کے مکان کا حصہ گرنے کے بعدسےسنیچر کو علی الصباح ۴؍بجے تک گھر سے سامان نکال کر بغل کے ایک مکان کے سامنے رکھ کر کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنے پرمجبورتھے۔ صبح پڑوسیوں کی مدد سے ناشتہ ہوا لیکن شام ۴؍بجے تک کھانا نصیب نہیں ہوا ہے اور ہم لوگ کھانے پینےکی چیزوں   کے محتاج ہوگئے ہیں ۔
 جائے وقوع کے قریب رہنے والے سلیم شیخ نے بتایا کہ حادثہ کےبعدسے بی ایم سی نے آس پاس کے تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور کئی مکین آس پاس کے رشتہ داروںکےیہاں منتقل ہوگئے ہیں۔حادثے کے بعد سے بجلی سپلائی بھی منقطع کردی گئی ہے اور لوگ بجلی اور پانی کیلئے پریشان  ہیں  ۔ 
 اس سلسلے میں مقامی کارپوریٹر وجے تانڈیل سے بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ نہیں ہوسکا ۔ البتہ  اس ضمن میں کرلا ایل وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر منیش ولنج سے گفتگو کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ مکان  میں دراڑ پڑنے سے کئی مکانات منہدم کئےگئے ہیں اور آس پاس کے مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مکان مالک اختر حسین سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی مگربات چیت نہیں ہوسکی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK