امریکہ میں افغان گلوکار نے اپنے ملک کے بدحال باشندوں کی مدد کیلئے فنڈ جمع کیا

Updated: February 11, 2022, 9:15 AM IST | Washington

افغانستان پر عالمی برادری کی جانب سے عائد پابندی کے سبب وہاں لوگ بد حالی کا شکار ہیں ۔

Afghan singer Farhad Darya is concerned for his countrymen (file photo)
افغان گلوکار فرہاد دریا اپنے ہم وطنوں کیلئے فکر مند ہیں(فائل فوٹو)

) افغانستان پر عالمی برادری کی جانب سے عائد پابندی کے سبب وہاں لوگ بد حالی کا شکار ہیں ۔ دنیا کے دیگر ممالک میں رہنے والے افغان باشندے بھی اس تعلق سے پریشان ہیں ۔ وہ اپنے عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن قانونی مجبوریوں ( عالمی پابندیوں )کے سبب کر نہیں  پا رہے ہیں۔ گلوکار فرہاد دریا بھی انہی میں سے ایک ہیں جنہوں نے افغانستان کی مدد کی خاطر فنڈ اکٹھا کرنے کیلئے آن لائن مہم چلائی اور لوگوں نے انہیں امداد دی بھی لیکن وہ اسے افغانستان نہیں بھیج پا رہے ہیں۔ 
   اطلاع کے مطابق معروف افغان گلوکار فرہاد دریا اور ان کی بیوی سلطانہ کا کہنا ہے کہ وہ لاکھوں افغان باشندوں کو اس سردی میں بھوک سے تڑپتا نہیں دیکھ سکتے۔امریکی ریاست ورجینیا میں رہنے والے اس جوڑے نےاپنے گھر سے ’ گو فنڈ می‘  نامی  سائٹ  پر لوگوں سے عطیات اور خوراک کی ایک ہنگامی اپیل کی ہے تاکہ اسے افغانستان بھیجا جاسکے اور تنگدستی اور بدحالی کا شکار عوام کو حتی المقدور راحت پہنچائی جا سکے۔
 لوگوں نے فوری طور پر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں امداد بھیجی بھی ۔ اس طرح تقریباً ۳۱؍ ہزار ڈالر جمع  ہوگئےلیکن افغان نژاد امریکی جوڑا ابھی تک یہ رقم ضرورت مندوں تک نہیں پہنچا سکا  ہے۔اس کا سبب قانونی رکاوٹیں بتائی جاتی ہیں۔گو فنڈ می نامی ویب سائٹ کا، جہاں اس جوڑے نے رقم جمع کی ہے ، کہناہے کہ وہ افغانستان میں یہ رقم براہ راست لوگوں تک نہیں پہنچا سکا ہے، کیونکہ ملک پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے نافذ کی گئی پالیسی کے مطابق ،ویب سائٹ کو  یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ تمام قوانین اور ضابطوں پر عملدرآمد کر رہا ہےاور فنڈ اکٹھا کرنے والے منتظمین اور عطیہ دہندگان کا تحفظ کررہا ہے۔
 امریکہ نے افغانستان کے سینٹرل بینک سمیت طالبان کے تمام اداروں پر سخت اقتصادی اور مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں  ،لیکن امریکی عہدیداروں نے ملک میں صرف انسانی ہمدردی کیلئے کام کرنے والے اداروں کو ان پابندیوں سے استثنا دیا ہے۔افغانستان میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو خوراک، ادویات اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی اشد ضرورت ہے۔ حالانکہ وزارت خزانہ کے عہدیداروں نے غیر منافع بخش تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ انہیں انسانی ہمدردی کے کاموں پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ نائب وزیر خزانہ برائن نیلسن نے غیر منافع بخش تنظیموں کے لیڈروں کے تازہ ترین سوالات کا جواب دیتے ہوئے، افغانستان میں انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی میں مزید سہولت اور تجارتی سرگرمیوں میں شفافیت پر زور دیا ہے۔
  ادھر اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس سردیوں کے موسم میں لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہوں گےاور فرہاد دریا اور ان کی بیوی اس ہنگامی ضرورت کو سمجھتے ہیں ۔فرہاد دریا نے بتا یا کہ لوگوں کو اس لمحے خوراک ،دواؤں اور سر چھپانے کی ضرورت ہے۔گو فنڈ می ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ وہ فنڈجمع کرنے والوں کی نیت کو سمجھتے ہیں کہ وہ افغانستان میں ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ امریکی قوانین اور ضابطوں کی حکم عدولی نہیں کرسکتے۔اس سے پہلے کہ فنڈ ٹرانسفر ہوں ،افغانستان کے فنڈنگ مہم کے منتظمین کی پہلے گو فنڈ می کے ٹرسٹ اور سیفٹی ٹیم کی طرف سے تصدیق ضروری ہے۔فنڈنگ پلیٹ فارم نے بتایا کہ یہ عمل ،متوقع طور پر اپیل کے منتظمین اور عطیات دہندگان دونوں کو تحفظ فراہم کرے گا اور امریکی حکومت کے قوانین اور ضابطوں کی پاسداری کا یقین دلائے۔ یاد رہے کہ ۲۰؍ سالہ جنگ کے بعد افغانستان  میں دوبارہ طالبان اقتدار میں آئے ہیں جس کے بعد عالمی برادری نے ان پر پابندی عائد کردی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK