نیویار ک میں’ بین الاقوامی اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین‘ کا افتتاح

Updated: September 25, 2022, 10:02 AM IST | New York

اقوام متحدہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے یہ ادارہ قائم کیا گیا ، اس کا مقصد ان افراد کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئےہیں

Dr. Abdullah Al-Rabiyyah speaking. (Photo: SPA)
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ خطاب کرتےہوئے۔ ( تصویر: ایس پی اے)

 یہاں اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے ذریعہ  ان افراد کی مدد کی جائے گی جو کسی وجہ سے اپناگھر بار چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوگئےہیں۔ 
  میڈیارپورٹس کے مطابق جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ  اور اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے بین الاقوامی اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین کا قیام  کا اعلان  کیا گیا ہے۔ فنڈ کا ابتدائی سرمایہ ایک سو ملین ڈالر ہے۔
   سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے ) کی رپورٹ  کے مطابق بین الاقوامی اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین کی افتتاحی تقریب میں شاہ سلمان مرکز برائے امداد او ر انسانی خدمات کے نگراں اعلی ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قائم کیا جانے والا بین الاقوامی اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین وقت کی ضرورت ہے۔یہ ادارہ ان  افراد کی مدد کیلئے قائم کیا گیاہے جو کسی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پناہ گزینوں کی مدد کرنا سماجی عدل وانصاف کاتقاضا ہے ۔ساتھ ہی سماجی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے بھی  انتہائی ضروری ہے۔
  ان کے بقول:’’ دنیا میں مختلف مسائل اور  بحران کے سبب پناہ گزین بننے پر مجبور ہونے والوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کے رکن ممالک میں پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہمیں اس سنگین صورتحال کے  سبب اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ اسی کے پیش نظر یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ 
 واضح رہے کہ بین الاقوامی اسلامی فنڈ برائے پناہ گزین کیلئے سب سے پہلے اسلامی ترقیاتی بینک نے۵۰؍ ملین ڈالر جبکہ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے۵۰؍ ملین ڈالر دیا۔ فنڈ میں عطیہ کرنے والوں کیلئے موقع دیا جائے گا جس کے ذریعہ۴؍سو ملین ڈالر کا ہدف  طے کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK