Updated: May 24, 2026, 6:19 PM IST
| New Delhi
ہندوستان نے عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی قرارداد کے بعد اپنے شہریوں کو ’’ایبولا‘‘سے متاثرہ افریقی ممالک کے سفر سے گریز کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے، وزارت نے واضح کیا کہ بنڈیبوگیو قسم کے ایبولا وائرس سے پیدا ہونے والی اس بیماری کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا خاص علاج موجود نہیں ہے۔
ہندوستان کی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے اتوار۲۴؍ مئی کو کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس وبا کو ،’’بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ کی ہنگامی صورت حال‘‘قرار دینے کے بعد، ہدایت دی ہے کہ شہری ایبولا سے متاثرہ ممالک کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔وزارت کے مطابق، ڈبلیو ایچ او کی بین الاقوامی صحت کے ضوابط کی ایمرجنسی کمیٹی نے۲۲؍ مئی کو عارضی سفارشات جاری کی ہیں جن میں آمد کے مقامات پر بیماری کی نگرانی سخت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں ان مسافروں کی نشاندہی، تشخیص اور اندراج شامل ہے جو ایبولا سے متاثرہ علاقوں سے آئے ہیں اور انہیں بخار ہو۔ ساتھ ہی ایبولا سے متاثرہ علاقوں کے سفر سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناقابل یقین واقعہ، شیر کے حملے میں ایک ساتھ ۴؍ خواتین کی موت
واضح رہے کہ ۲۱؍ مئی تک ڈبلیو ایچ او نے جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے ۷۴۶؍مشتبہ معاملات اور ۱۷۶؍اموات (مشتبہ معاملات میں) درج کی ہیں۔جبکہ دونوں ممالک (کانگو اور یوگنڈا) میں ۸۵؍تصدیق شدہ معاملات اور۱۰؍ تصدیق شدہ اموات ہوئی ہیں۔مزید برآں وزارت نے کہا کہ کانگو اور یوگنڈا سے ملحقہ ممالک (جنوبی سوڈان سمیت) زیادہ خطرے میں ہیں۔ بعد ازاں وزارت نے واضح کیا کہ بنڈیبوگیو قسم کے ایبولا وائرس سے پیدا ہونے والی اس بیماری کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا خاص علاج موجود نہیں ہے۔ تاہم ہندوستان میں اب تک اس قسم کے ایبولا کا کوئی معاملا درج نہیں ہوا۔وزارت نے تمام ہندوستانی شہریوں کو ہدایت کی کہ جب تک کہ مزید اطلاع نہ دی جائے وہ جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں ۔