مہنگائی - اومیکرون معیشت کیلئےچیلنج، این پی اے بڑھےگا

Updated: December 31, 2021, 11:30 AM IST | Agency | New Delhi

آربی آئی کی مالیاتی استحکام رپورٹ میں شکتی کانت داس نے تشویش ظاہر کی ، معیشت اور اِکویٹی کی تیزی کے درمیان تال میل نہیں: آربی آئی

Shaktikanta Das.Picture:INN
آربی آئی گورنر شکتی کانت داس اظہار خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

 ریزروبینک آف انڈیا (آربی آئی ) کی مالیاتی استحکام رپورٹ میں موجودہ معیشت اور اکویٹی بازار میں تیزی کے درمیان عدم مساوات ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ساتھ ہی مہنگائی کے دباؤ کے ساتھ کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کو معیشت کے لئے چیلنج بتایا گیا ہے۔ بدھ کو جاری کردہ اس رپورٹ میں نان پرفارمنگ ایسیٹ(این پی اے) کے ستمبر ۲۰۲۲ء میں اچھل کر ۸ء۱؍فیصد سے۹ء۵؍ فیصد تک جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
آربی آئی گورنر نے کیا کہا؟
 آربی آئی کی مالیاتی استحکام  رپورٹ کی تمہید میں ریزروبینک کے گورنر شکتی کانت داس نے لکھا ہے کہ ’’اپریل مئی ۲۰۲۱ء میں کورونا کی تباہ کن دوسری لہر کے بعد گروتھ آؤٹ لک دھیرے دھیرے سدھر رہا ہےلیکن گلوبل ڈیولپمنٹ اور حال میں سامنے آنے والے  وائرس کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کی وجہ سے معیشت کے سامنے چیلنج پیدا ہوئے ہیں۔‘‘ ملک کی مرکزی  بینک کا ماننا ہے کہ ہندوستانی اکویٹی مہنگے دام پرکاروبار کررہے تھے اور قیمت سے آمدنی تناسب (پی ای ملٹی پل) پی بی(پرائس ٹو بک ریشو)، بازار سرمایہ-جی ڈی پی جیسے کئی معیار اور چکر نے پی ای ریشو کو تاریخی اوسط سے اوپر سنبھالا ہے۔ مثال کے لئے ۱۳؍ دسمبر کو ہندوستان کے لئے ایک سالہ آئندہ پی ای تناسب ۳۵ء۱؍ فی صد پر تھا، جو اس کے ۱۰؍ سالہ اوسط سے اوپر اور دنیا میں  سب سے زیادہ میں سے ایک ہے۔ آربی آئی نے اپنی  اس رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی سے پی ای ریشو کافی بڑھ گیا ہے۔
 غیر معمولی اونچے دام سے عدم استحکام بھی بڑھا ہوا تھا۔ عدم استحکام کا پیمانہ سمجھے جانے والے این ایس ای وی آئی ایکس میں اس سال ستمبر سے تیزی آنی شروع ہوئی۔ اتنا ہی نہیں  جولائی کے آخر میں ۱۱ء۸؍ کی نچلی سطح پر پہنچنے کے بعد اس میں تیزی شروع ہوئی۔ این ایس ای وی آئی ایکس ۱۳؍ دسمبر کو ۱۶ء۷؍ پر تھا جو قبل از کووڈ سطح کے مقابلے تھوڑا زیادہ تھا۔ حالانکہ اپنے ۱۷ء۸؍ کے پانچ سالہ اوسط کے مقابلے ابھی بھی کچھ کم ہے۔ کیش سیگمنٹ میں ادارہ جاتی کاروباریوں میں ، گھریلو ادارہ جاتی  سرمایہ کاروں، بالخصوص  میوچوئل فنڈ اپریل نومبر ۲۰۲۱ء کے دوران خالص خریدار رہے۔ جس سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کے ذریعہ کی گئی فروخت کی کافی حد تک بھرپائی ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا یا ہے کہ جہاں این ایس ای لسٹیڈ کمپنیوں میں ری ٹیل ہولڈنگ دسمبر ۲۰۱۹ء اور اس سال ستمبر کے درمیان بڑھی تھی وہیں اکویٹی میوچوئل فنڈ میں ان کا سرمایہ گھٹا تھا۔
اکویٹی بازار کے متعلق کیا کہا گیا 
 اس تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اکویٹی بازار میں موجودہ تیزی کی اہم خصوصیات میں سے ایک چھوٹے سرمایہ کاروں کی بڑھتی شراکت داری ہے، جن کی شیئر ہولڈنگ ویلیو کے ضمن میں این ایس ای پر لسٹیڈ کمپنیوں میں دسمبر ۲۰۱۹ء کے ۶ء۴؍ فیصد سے بڑھ کر ستمبر ۲۰۲۱ء میں  ۷ء۱؍  فیصد  ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ری ٹیل دلچسپی میں بھاری تیزی ایکسچینج پر بڑھتے کاروبار، آئی پی او میں شراکت داری میں اضافہ اور وعدہ اور متبادل جیسے دیگر بازار سیکٹر میں تیزی کے طور پر ظاہر دکھائی دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK