Inquilab Logo

ایران میں غم و اندوہ، پانچ روزہ سوگ کا اعلان، محمد مخبر عبوری صدر بنائے گئے

Updated: May 20, 2024, 8:13 PM IST | Tehran

ہیلی کاپٹر حادثے میں ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی رحلت کے بعد پورے ملک پر سکتہ طاری ہے، جگہ جگہ دُعائیہ مجالس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تمام شہداء کی شناخت ہوگئی ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

Mohammad Mukhaber during the press conference. On the front is a picture of the late President Ebrahim Raisi. PTI
محمد مخبر پریس کانفرس کے دوران۔ سامنے مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی تصویر۔ پی ٹی آئی

 ایران کے صدر کی رحلت کی تصدیق سرکاری طور پر کردی گئی ہے۔ اس ضمن میں ایران کی مذہبی قیادت حضرت علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی اور دیگر کی رحلت پر پانچ روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا اور قائم مقام صدر کے طور پر محمد مخبر کو فائز کیا ہے جو نائب صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ صدر رئیسی کے انتقال پر ایرانی عوام دم بخود ہیں۔ جگہ جگہ دُعائیہ مجالس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ایران کے آئین کی دفعہ ۱۳۱؍ کے مطابق اول نائب صدر، پارلیمانی اسپیکر اور سربراہِ عدلیہ پر مشتمل کمیٹی آئندہ پچاس دن میں نئے صدر کے انتخاب کی تیاری کرے گی۔ ایرانی نیوز ایجنسی ’’اِرنا ‘‘ نے ایران کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ  کے سربراہ محمد حسن نامی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی شخصیات کی شناخت ہوگئی ہے اور اُن کے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایرانی محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ کے مطابق تمام مرحومین کے جسد خاکی  ایمبولنس کےذریعے جائے حادثہ سے منتقل کئے جاچکے ہیں ۔ ان میں تبریز کے امام ِجمعہ سید محمد علی آل ہاشم کا جسد خاکی زیادہ بہتر حالت میں ہے۔محمد حسن نامی نے یہ بھی بتایا کہ تبریز کے امام جمعہ حادثے کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بقید حیات  رہے اور اس دوران صدر کے چیف آف اسٹاف غلام حسین اسماعیلی کے ساتھ موبائل پر اُن کی بات چیت بھی ہوئی۔ شہداء تک پہنچنے میں امدادی دستوں نے بڑی محنت کی اور اٹھارہ گھنٹے کی لگاتار کوششوں کے بعد پیر کی صبح اس جگہ کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے جہاں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا اور اس کے بعد اس سانحے کے آٹھ شہیدوں کے جنازے ایمبولنسوں کے ذریعے منتقل کئے گئے۔ اس خبر کے لکھے جانے تک یہ اطلاع نہیں ہے کہ تدفین کب عمل میں آئے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران: صدر ابراہیم رئیسی کا انتقال، گزشتہ دن ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا

اس دوران سید ابراہیم رئیسی اور اُن کے رفقاء کی رحلت پر دُنیا کے متعدد ملکوں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ان میں ہندوستان، یورپی یونین، یمن اور پاکستان شامل ہیں۔ ہندوستان یک روزہ سوگ کا اعلان کرچکا ہے۔ حماس نے اپنے طویل تعزیتی پیغام میں اہل فلسطین کے ساتھ صدر ابراہیم رئیسی کی یک جہتی اور اُن کی جدوجہد کو حاصل ہونے والے تعاون کا ذکر کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ صدر رئیسی نے صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینی عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کی، اُسے قیمتی تعاون دیا اور غزہ کے معاملے میں ہمارے ساتھ مکمل یک جہتی کا طرز عمل اپنایا۔ یہ بیان مختلف نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ منظر عام پر آیا ہے۔ ’’ارنا‘‘ کی ویب سائٹ پر متعلقہ خبر میں درج ہے کہ حماس کے بیان کے مطابق ’’یہ شہداء، ایران کے اُن بہترین رہنماؤں میں تھے جنہوں نے فلسطین اور فلسطینی عوام نیز استقامتی تحریک کی حمایت اور  مدد سے کبھی بھی دریغ نہیں کیا اور فلسطینی کاز کی حمایت میں ہمیشہ قابل فخر موقف اپنا یا۔‘‘ واضح رہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے ہمراہ جن شخصیات نے داعی ٔ اجل کو لبیک کہا اُن میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، صوبہ مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، صدرکے سیکورٹی دستے کے کمانڈر جنرل سید مہدی موسوی ، صدر کے محافظین اور تبریز کے امام ِ جمعہ محمد علی آل ہاشم شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK