میڈیا میں ایران اور چین کے معاہدے کے تعلق سے محض قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں :ایران

Updated: August 01, 2020, 3:38 AM IST | Tehran

ایرانی سفیر کی وضاحت اس معاہدےمیں ایسی کوئی بات نہیں ہے جسے عوام سے چھپایا جائے، معاہدے کو حتمی صورت دینے کے بعد اسے منظر عام پر لایا جائے گا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایران نے کہا ہے کہ اس کی چین کے ساتھ معاشی شراکت داری کے ۲۵؍ سالہ معاہدے پر مشاورت جاری ہے اور رواں ماہ منظرِ عام پر آنے والی معاہدے کی مبینہ تفصیلات محض قیاس آرائیاں ہیں ۔پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے رواں ہفتے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران معاہدے کی ذرائع ابلاغ میں آنے والی تفصیلات کی تردید کرتے ہوئے اسے مغربی ملکوں کا پروپیگنڈا قرار دیا۔اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ایک آن لائن فورم میں ایران کے سفیر کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور ایران کے درمیان تاحال معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے اور اس بارے میں منظرِ عام پر آنے والی خبریں محض افواہیں اور سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش ہے۔البتہ محمد علی حسینی نے تصدیق کی کہ ایران اور چین مجوزہ معاہدے پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اُن کے بقول دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعاون کی بنیاد چین کے صدر شی جن پنگ کے ۲۰۱۶ء میں دورۂ ایران کے دوران رکھی گئی تھی۔ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سیاسی اور معاشی شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان برابری اور شفافیت کی بنیاد پر ایک طویل المدتی اور ٹھوس فریم ورک ہو گا۔
  خیال رہے کہ رواں ماہ ایران اور چین کے درمیان ۴۰۰؍ ارب ڈالر کے مجوزہ اقتصادی معاہدے کی بعض تفصیلات سامنے آئی تھیں جن میں دونوں ملکوں کے درمیان توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیلی کمیونی کیشن سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا تھا۔ چین کو ایران کا اہم تجارتی پارٹنر سمجھا جاتا ہے اور وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھی ہے۔ تاہم ۲۰۱۸ء میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علاحدگی اور ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد چین اور ایران کے درمیان تجارت بھی متاثر ہوئی تھی۔
 چین اور ایران کے درمیان حکمت عملی کے معاہدے پر کام ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کورونا کی عالمی وبا اور امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی اقتصادی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ اقتصادی صورتِ حال کے باعث ایران کے صدر حسن روحانی پر اندرونِ خانہ دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ایران کے کئی سیاست دانوں بشمول سابق صدر محمود احمدی نژاد نے صدر روحانی پر تنقید کی ہے کہ وہ خفیہ طور پر چین کے ساتھ معاہدہ کر کے ملک کی خود مختاری داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے رواں ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اس معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جسے چھپایا جائے۔ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد ہی اس کی تفصیلات منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK