اسرائیل نے یہودیوں کو مسجد اقصٰی میں عبادت کی اجازت دیدی؟

Updated: August 25, 2021, 8:08 AM IST | Jerusalem

صہیونی حکومت عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی خاموشی سے یہودیوں کو مسجد میں داخل ہو کر عبادت کرنے کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہیں روکنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسا کوئی ۵؍ سال سے ہو رہا ہے بلکہ اب تو یہودی کھلے عام مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوکر عبادت کرتے ہیں

Israeli forces continue to violate international agreements on Jerusalem (file photo)
اسرائیلی فورس مسلسل بیت المقدس کے تعلق سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے (فائل فوٹو)

اسرائیل نے یہودیوں کو  مقبوضہ بیت المقدس میں واقع  مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر عبادت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ لیکن یہ اجازت انتہائی خاموشی سے یا بغیر کسی اعلان کے دی گئی ہے۔ اور خدشہ ہے کہ بہت جلد مسجد اقصیٰ کی ’صورتحال‘ (عالمی معاہدوں کے مطابق) کو تبدیل کر دیا جائے گا۔  امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ انکشاف کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں (مئی میں ہونے والی ۱۱؍ دنوں کی جنگ کے بعد ) یہودیوں کے مختلف گروہ متعدد مرتبہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے ہیں اور وہاں عبادت کی ہے۔یاد رہے کہ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے  مشرقی یروشلم پر کئے گئے ناجائز قبضے کے بعد اردن اور اسرائیل حکومت میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق مسجد اقصیٰ کے احاطے کا سارے معاملات کی نگرانی وقف بورڈ( جس کی باگ ڈور اردن کے ہاتھ میں ہے ) کرے گا جبکہ اسرائیل مسجد کے باہر کی سیکوریٹی سنبھالے گا۔   یہودیوں کو صرف  وزیٹنگ ہائورس میں مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت ہوگی لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کرسکتے۔ 
   اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ’’ ربی یہودہ گلک مسجد اقصٰی  میں اپنی عبادت کو تھوڑا چھپا بھی رہے ہیں لیکن  ساتھ ہی اسے سوشل میڈیا پر لائیو بھی کر رہے ہیں ‘‘  مطلب یہ ہے کہ اب یہودی مسجد اقصیٰ  میں (وقتاً فوقتاً)  عبادت بھی کر رہے ہیں اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچا بھی رہے ہیں۔ اور  اس عبادت کو چھپایا اس لئے جا رہا ہے کہ ان کا یہ عمل عالمی معاہدوںکے برخلاف ہے۔ یہودہ گلک  ایک امریکی نژاد  یہودی ہیں اور دائیں بازو کے رکن پارلیمان ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے یہ مہم چلا رہے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کیا جائے  جسے وہ ’ مذہبی آزادی‘ کا نام دیتے ہیں۔   اسرائیل  میں اس کے علاوہ بھی کئی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں جن میں  یہودیوںکو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے اور وہاں عبادت کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 
  یہ سلسلہ کافی پہلے سے جاری ہے 
 نیویارک ٹائمز  سے یہودہ گلک نے کہا ’’   یہ تبدیلی سابق اسرائیلی وزیر اعظم  نیتن یاہو کے زمانے ہی میں آ گئی تھی جو خود ایک انتہائی دائیں بازو کے لیڈر تھے۔‘‘ گلک کے مطابق ’’ پولیس نے کوئی ۵؍ سال پہلے ہی مجھے اور میرے پیروکاروں کو مسجد  اقصیٰ میں کھلے طور پر داخل ہوکر عبادت کرنے کی اجازت دینی شروع کر دی تھی۔‘‘ یہودہ  گلک نے اس راز پر سے بھی پردہ اٹھایا کہ ’’ وقت کے ساتھ ساتھ( مسجد میں داخل ہو کر عبادت کرنے والوں کی) تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لیکن کشیدگی سے بچنے کیلئے اسے  ظاہر نہیں کیا گیا۔‘‘ اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ’’ اب صورتحال یہ ہے کہ روزانہ  درجنوں یہودی مقررہ جگہ پر کھلے عام یہاں عبادت کرتے ہیں۔ یہاں موجود پولیس انہیں اب روکتی نہیں ہے بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔‘‘
   ادھر اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو  مختلف حربوں سے  مسجدمیں داخل ہونے سے روکتی آئی ہے جس میں سب سے اہم ہے  ۲۰۰۰ء میں تعمیر کی گئی دیوار جو   مسجد اقصیٰ کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔  اس کے علاوہ کئی مقامات پر چیک پوائنٹ بنا کر فلسطینیوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔
  اسرائیل کی عالمی معاہدوں کی کھلے عام خلاف ورزیوں کی حالیہ تاریخ
  واضح رہے کہ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت یروشلم فلسطین میں ہوا کرتا تھا  ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے  یروشلم کے مشرقی حصے پر قبضہ کرلیا تھا  جس کے بعد اردن اور اسرائیل کے  درمیان معاہدہ ہوا جس کی رو سے  مسجد اقصیٰ  کے اطراف  تو اسرائیلی سیکوریٹی فورس کو تعینات کرنے کی اجازت دی گئی  لیکن مسجد کے اندربشمول یہودیوں کے غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی تھی۔ غیر مسلم صرف بحیثیت سیاح وزیٹنگ ہائورس میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو سکتے تھے۔  
  ۲۰۰۰ء میں  اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایئریل شیرون کوئی ایک ہزار پولیس جوانوں کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے جسے ’انتفادہ ثانی‘ کہا جاتا ہے جس میں کوئی ۳؍ ہزار فلسطینی اور کوئی ایک ہزار اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ ‘‘ ۲۰۱۷ء میں اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ کے گیٹ پر میٹل ڈیٹیکٹر لگوایا تھا جس کی وجہ سے یہاں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کی یہاں آمد کے دوران رکاوٹ کھڑی کرنا تھا ۔ اس کے بعد ۲۰۲۱ء یعنی اسی سال مئی میں اسرائیلی فوج نے جبراً    فلسطینیوںکو مسجد سے باہر نکالا ، ان کے مزاحمت کرنے پر نمازیوں پر فائرنگ بھی کی۔ اسی فائرنگ کی وجہ سے حماس نے راکٹ  داغے تھے  جس کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی ۱۱؍ دنوں تک جنگ ہوتی رہی۔ واضح رہے کہ اس کے باوجود اب تک عالمی برادری نے اسرائیل کے اقدامات کو روکنے کی کوئی کوشش نہیںکی۔ 

israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK