اسرائیل کا وادیٔ گولان میں یہودی آباد کاری کا اعلان

Updated: December 29, 2021, 7:47 AM IST | Jerusalem

صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی ’خود مختاری‘ کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ موجودہ صدر جو بائیڈن نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے لہٰذا آئندہ ۵؍ سال میں اس خطے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے یہودی آبادی کو دگنا کر دیا جائے گا

Following the catastrophe in the West Bank, Israel now looks to the Golan Heights (Photo: Agency)
مغربی کنارے میں تباہی کے بعد اب اسرائیل کی وادیٔ گولان پر نظر ہے ( تصویر: ایجنسی)

 اسرائیل نے ایک بار پھر یہودی آبادکاری  میں اضافے کا شوشہ چھوڑا ہے۔  اس بار اس نے گولان کی پہاڑیوں میں یہودیوں کی آبادی دگنی کرنے کی بات کہی ہے۔  صہیونی ریاست کا کہنا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں میں یہودی آباد کاروں کی تعداد کو۵؍ سال کے اندر دگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل  نے ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں شام کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ یعنی اقوا م متحدہ کی جانب سے برطانیہ کی مدد سے ۱۹۴۸ء  میں قائم کردہ اسرائیل سے ان علاقوںکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
  اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۲۰۱۹ء میں اس علاقے پر اسرائیل کی’ خود مختاری‘ کو تسلیم کیا تھا، اور ایسی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن اس فیصلے کو تبدیل کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے یہاں کروڑوں ڈالروں کے ہاؤسنگ اور دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔  گزشتہ دنوں’ گولان ہائٹس‘ سے متعلق  ہونے والے بینیٹ کابینہ کے اجلاس میںگولان کی پہاڑیوں میں واقع کتزرین علاقے  میں یہودی آباد کاروں کیلئے ۷؍ ہزار ۳۰۰؍  ہاؤسنگ یونٹس قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔وزیر اعظم بینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد گولان میں آنے والے برسوں میں اسرائیلی رہائشیوں کی تعداد کو دوگنا کرنا ہے جس سے اس علاقے میں ۲۳؍ ہزار افراد کا اضافہ ہو گا۔
 بیان کے مطابق گولان میں دو نئی بستیاں بنانے کا بھی منصوبہ ہے اور وہاں ۴؍ ہزار گھر تعمیر کئے جائیں گے۔خیال رہے کہ گولان میں تقریباً ۲۰؍ ہزار دروز (شامی نسل کا اسماعیلی شیعہ فرقہ) آباد ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے ۱۹۸۱ء میں میں ایک ہزار ۲۰۰؍ مربع کلومیٹر(۴۶۰؍ مربع میل) پر محیط گولان کی پہاڑیوں کو اپنے علاقوں میں ضم کر لیا تھا۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جسے عالمی برادری نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔ادھر دفاعی اعتبار سے اہمیت کے حامل  اس علاقے کو شام  اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے اس پر اسرائیلی کنٹرول کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ لبنان اور اُردن کی سرحدیں بھی اس علاقے کے قریب ہیں۔البتہ اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ نے  کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اسرائیل کا دیرینہ مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا ہی حصہ ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا اور یہ کہ بائیڈن انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔رواں برس فروری میں امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے  `سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گولان پر کنٹرول اسرائیل کی سلامتی کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔
 بلنکن نے شام میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گروہ اسرائیل کیلئے خطرہ ہیں۔گولان میں اسرائیلی آباد کاری مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے مقابلے میں بہت چھوٹے پیمانے پر کی گئی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جن پر ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل نے کنٹرول حاصل کیا تھا۔ فلسطینی ان علاقوں کو مستقبل کی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے جو بائیڈن کی تو انہوں نے مزید فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی سرحد میں شامل کرنے کی اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی مخالفت کی تھی۔ دراصل، سابق اسرائیلی وزیراعظم  بن یامین نیتن یاہو نے  جب مغربی کنارے  میں مزید علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا تو بائیڈن نے اس کی مخالفت کی تھی جبکہ ٹرمپ جو اس وقت امریکہ کے صدر تھے انہوں نے  نیتن یاہو کی حمایت کی تھی۔ 
  جب ٹرمپ کی ایما پر متحدہ عرب امارات ، بحرین  اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا تب بھی یہی کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ اس  شرط پر ہوا ہے کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوںکو اسرائیلی سرحد میں داخل نہیں کرے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان معاہدوں کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں  بھی یہودی آبادکاری کیلئے فلسطینیوں کو بے گھر کیا، اور یروشلم سے قریب شیخ جراح میں بھی ایسا ہی ہوا  اور بالآخر گزشتہ رمضان میں بیت المقدس پر حملہ بھی ہوا۔ لیکن یہ تمام عرب ممالک خاموش رہے۔ جو بائیڈن نے اب تک اس تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے کئی یورپی ممالک کے علاوہ امریکہ نے بھی اسرائیل کی اس حرکت کی مخالفت کی تھی۔ 

israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK