Inquilab Logo

قربان ہونے سے بچانے کیلئے جین نوجوانوں نے مسلم حلیہ اختیار کیا، ۱۲۴؍ بکرے خریدے

Updated: June 18, 2024, 9:09 PM IST | New Delhi

پرانی دہلی میں عید الضحیٰ کے موقع پر جین سماج کے نوجوانوں نے بکروں کو ذبح ہونے سے بچانے کیلئے آن لائن مہم چلا کر ۱۵؍ لاکھ روپئے اکٹھا کئے اور مسلمانوں جیسا حلیہ اختیار کرکے ۱۲۴؍ بکرے خریدے۔ ان کا مقصد بکروں کو قربان ہونے سے بچانا تھا۔ اس کے علاوہ شرپسندوں کی جانب سے آن لائن اور آف لائن مہم چلائی گئی گئی جس میں عید الضحیٰ کے تعلق سے اشتعال انگیز تبصرے کئے گئے۔

A scene of goats market. Photo: INN
بکروں کی خرید و فروخت کا ایک منظر۔تصویر: آئی این این

پرانی دہلی میں، جینوں کے ایک گروپ نے مسلمانوں کا لباس پہن کر ۱۵؍لاکھ روپے اکٹھے کیے، اور عید الاضحی کے موقع پرذبح ہونے سے’’بچانے‘‘کیلئے کم از کم ۱۲۴؍بکرے خریدے۔عید الاضحی کے ایک حصے کے طور پر، جو سالانہ حج کے بعد آتا ہے، نمازی عام طور پر بکرے اور بھینس کو ذبح کرتے ہیں اور گوشت کا کچھ حصہ غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ہندوستان میں اس سال کا تہوارگزشتہ سالوں کی طرح، مسلمانوں کے خلاف آن لائن اور آف لائن مہمات کے پس منظر میں آیا جو مذہبی تعلیمات کے تحت ذبییحہ کا عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ اس سے کسی قسم کی نظم و نسق یا اشتعال انگیزی کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ہیں، لیکن پھر بھی اسلام سے بغض کے سبب اس طرح کی مہم چلائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: اسپتال میں آتشزدگی، ۹؍ مریض ہلاک، دیگر زخمی

دی پرنٹ نے۳۰؍سالہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ وویک جین کے حوالے سے لکھا ہے جس کا کہنا ہے کہ ’’یہ امن اور مثبت سوچ لانے کیلئے ایک طاقتور جین منتر ہے۔ یہ بکریاں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ انھیں ذبح کرنے کیلئے اکٹھا کیا گیا ہے۔ وہ نہیں جانتیں کہ ہم نے انھیں زندگی کا ایک دورعطا کیا ہے۔‘‘ ۱۵؍جون کی شام کو ۲۵؍افراد کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جو تمام جین برادری سے تھے۔ ایک واٹس ایپ پیغام جاری کیا گیا جس میں عطیہ کی درخواست کی گئی۔ دی پرنٹ کے مطابق، اس کے بعد، ٹیم نے ان علاقوں کا سروے کیا جہاں بکرے فروخت کیے جا رہے تھے۔برادری کے ایک اور فردچراغ نے کہا، ’’ہم نے مسلم سماج کے فرد کے طور پرحلیہ اختیار کیا اور بکرے کی فروخت قیمت کے بارے میں دریافت کیا۔وویک نے کہا کہ انہوں نے گجرات، حیدرآباد، کیرالہ، پنجاب اور مہاراشٹر میں جین برادری کے اراکین سے ۱۵؍لاکھ روپے اکٹھے کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی بچوں کو بابری مسجد کے بارے میں معلوم ہونا چائے: اسد الدین اویسی

اس کے بعد، یہ ایک آن لائن سنسنی بن گیا اورایکس پر’ ہیش ٹیگ جین‘ ۲۱۰۰۰؍سے زیادہ پوسٹس کے ساتھ ٹرینڈ کرنے لگا۔اگرچہ کچھ پوسٹ اشتعال انگیز نہیں ہیں، لیکن بہت سی مسلمانوں اور ان کے مذہبی طریقوں کے خلاف توہین آمیز ہیں۔اس کے علاوہ شر پسند ہندو بھی مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جو عید الاضحی کے موقع پر اپنے مذہبی تہوار پر عمل کرتے ہیں، اس مہم میں مسلم مخالف بیان بازی اور اشتعال انگیز تبصرے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جہاں شر پسند ہندوتوا کے ہجوم نے عید کے دنوں میں جانوروں کو ذبح کرنے والے مسلمانوں کو روکا اور ہراساں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK