جمال خشوگی کے بیٹے نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا

Updated: May 23, 2020, 4:36 AM IST | Riyadh

شب قدر کی مناسبت سے صالح خشوگی نے ٹویٹ کرکے سعودی صحافی کے قتل کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ۔

Saleh Khashoggi with Shah Salman and Muhammad bin Salman. Photo: INN
صالح خشوگی، شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

سعودی صحافی جمال خشوگی کے بیٹے صالح خشوگی نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔جمال خشوگی کے صاحبزادے صالح نے جمعہ کو ٹویٹر پر عربی زبان میں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم اُن تمام افراد کو معاف کرتے ہیں جو ہمارے والد کے قتل میں ملوث ہیں ۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’فضیلت والی رات (شبِ قدر) کے موقع پر وہ اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کرتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص معاف کر دے اور مفاہمت کر لے تو اس کا اجر اللہ دے گا۔‘‘ اس سے قبل صالح نے کہا تھا کہ اُنہیں سعودی نظامِ انصاف پر مکمل اعتماد ہے۔ وہ مخالفین پر والد کے قتل کا کیس خراب کرنے کے الزامات بھی عائد کر چکے تھے۔صالح خشوگی ان دنوں سعودی عرب میں ہی مقیم ہیں ۔ واضح رہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی کو اکتوبر ۲۰۱۸ء میں ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا جن کی باقیات آج تک نہیں مل سکی ہیں ۔
 جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھتے تھے اور وہ سعودی شاہی خاندان کے ناقد تھے۔واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ برس اپریل میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صالح خشوگی سمیت جمال خشوگی کے دیگر بچوں کو حکام کی جانب سے پرتعیش گھر کے علاوہ ماہانہ ہزاروں ڈالرز وظیفہ دیا جا رہا ہے۔تاہم صالح نے ان خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے اہلِ خانہ کے سعودی حکام کے ساتھ کوئی مالی معاملات نہیں ۔ 
 حالانکہ سعودی عرب کے سرکاری نیوز ایجنسی نے ایک تصویر جاری کی تھی جس میں شاہ سلمان صالح خشوگی اور ان کے دیگر اہل خانہ سے ملاقات کر رہے ہیں ۔ تصویر میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بھی نظر آر ہے ہیں ۔ اس تصویر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ خشوگی فیملی کو شاہی خاندان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔
  واضح رہے کہ جمال خشوگی کا قتل اس وقت ہائی پروفائل کیس بن گیا تھا جب اس قتل میں سعودی شاہی خاندان کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے تھے۔امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں اور اقوامِ متحدہ کے نمائندۂ خصوصی نے جمال خشوگی کے قتل کا براہِ راست الزام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر عائد کیا تھا۔ تاہم سعودی شاہی خاندان اِن تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK