جتنا کرفیو کے بعد بازار کھلتے ہی دکانوں میں بھیڑ

Updated: March 24, 2020, 3:13 PM IST | Inquilab News Network | Rampur

عوامی کرفیو ختم ہوتے ہی خوب خریداری کی گئی ،رامپور میں صبح کے وقت ماحول پر سکون تھا لیکن دھیرے دھیرے بھیڑ بڑھنے لگی اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا ڈی ایم کو ہدایت دینی پڑی لیکن اس کا کوئی اثر نہیںہوا ، افسران کی سختی کے سبب کئی شادیاں منسوخ کردی گئیں، بریلی میں پارک اور باغیچے بھی ویران رہے

Moradabad Vegetable Market - Pic : PTI
مرآباد سبزی منڈی ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ترپر دیش  کے اضلاع رامپور اوربریلی میں جنتا کرفیوختم ہوتے ہی بازاروں میں بھیڑ جمع ہوگئی۔ کم وبیش  یہی صورتحال مراد آباد اور اطراف کے اضلاع میں بھی رہی۔ 
 رامپور میں۲۳؍گھنٹوں تک گھروں میں قید رہنے والے لوگ پیر کی صبح سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے روز مرہ کی چیزوں کی خریداری کی ۔ ماحول  پرسکون تھا  لیکن جب بازار کھلے تو افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ۔بازار میں بھیڑ  جمع ہوتے ہی لوگ پریشان ہوگئے۔ اسی دوران رامپور کے ضلع مجسٹریٹ نے اپنے پیغام میں کہا کہ لوگ گھبرائیں نہیں ، صرف اتنا  سامان خریدیں جتنی انہیں ضرورت ہے۔ دکانوں پر غیر ضروری بھیڑ نہ لگائیں اورکسی بھی دکان پر ۵؍سے زیادہ لوگ نظر نہ آئیں۔ اس کے باوجود افواہوں کا بازار گرم  رہا۔ اناج منڈی بند ہوگئی، چوکی جمیان کی دکانیں  پولیس نے بند کرادیں، حالانکہ افواہ یہ بھی اڑی کہ شام کو کرفیو لگ جائےگا، حالانکہ خبر لکھے جانے تک اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ اتنا ضرور تھا کہ  عوام میں خوف تھا کہ کہیں رامپورمیں بھی لاک ڈائون نہ ہوجائے۔محکمۂ صحت کی ٹیم ایسے  افراد کو تلاش کررہی ہے جو دوسرے شہروں سے اپنے گھرآئے ہیں۔ انہیں شبہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں وہ کورونا وائرس کو ساتھ لائے ہوں۔ 
 ضلع مجسٹریٹ نے مرادآباد، بریلی اور اتراکھنڈ کی سرحدوں کو سیل کردیا ہے اور کسی بھی گاڑی کو ضلع میں داخل ہونے نہیں دیا جارہا ہے۔ پیر کو ضلع کے انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے ڈاکٹروں سے  میٹنگ کرکے کورونا وائرس میں مدد کرنے کی اپیل کی۔ ان کےمطابق  جتنا کرفیو کے دوران عوام نے بھرپور تعاون کیا۔ ضلع اسپتال  میں پیر کو   بھی اوپی ڈی بند رہی۔ بخار، دست اور الٹی کے مریضوں نے ایمرجنسی میں ڈاکٹرکو دکھا کر دوا لی۔ سنیچر اتوار اور پیر کے دن بہت ساری شادیاں تھیں لیکن افسران کی سختی کے سبب شادیاں نہیں ہوئیں پولیس علاقہ، محلہ اور میں گشت کررہی ہے۔ 
  اسی طرح بریلی میںاتوار کو جنتا کرفیو کے دوران عام زندگی کی تھم سی گئی تھی۔ اس دوران شہر کی ویران سڑکوں پر محض پولیس کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آئی  لیکن پیر صبح کے وقت کرانہ کی کچھ دکانیں کھلیں تو لوگ خریداری کیلئے ٹوٹ  پڑے ۔ جنتا کرفیو میں مزید  اضافہ کے خدشہ سے سہمے لوگ ضروری اشیاء کی خریداری کرتے نظر آئے ۔ ایلن کلب میں واقع سبزی منڈی میں بھی خریداروں کا ہجوم نظر آیا۔ حالانک بعد میں پولیس کی جانب سے کرانہ دکانداروں کو زیادہ بھیڑ جمع نہ ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔ پیر کی صبح سے شروع ہونے والی خریداروں کی آمدورفت دوپہر سے پہلے تھم گئی۔ اس کے بعد پولیس نے بھی ضرورت کے بغیر سڑکوں پر نظر والوں سے تھوڑی سختی برتی اور بے وجہ گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی۔ دوپہر ہوتے ہوتے ایک مرتبہ پھر شہر کی تمام سڑکیں ویران نظر آنے لگیں۔ محض پولیس کی گاڑیاں  نیز اخبار  اور نیوز چینل کے نمائندے ہی سڑکوں پر نظر آئے۔ تمام گھنی آبادی والے علاقوں میں گھروں کے باہر جھنڈ بنا کر بیٹھے افراد کو پولیس نے پھٹکار لگا کر گھروں میں رہنے کی تاکید کی۔ 
   اسی دوران پیر کو  بریلی شہر کے تمام پارک اور باغیچے بھی ویران رہے۔ کورونا کا خوف اور لاک ڈاؤن کے سبب  پیر کو بھی شہر کے عوامی مقامات ویران نظر آئے۔ 
 شہر کے تاریخی کمپنی گارڈن میں محض پرندوں کے چہکنے کی آوازیں سنائی پڑ رہی تھیں۔کمپنی گارڈن میں ڈیوٹی پر  مامور گارڈ رتن لال نے بتایا کہ روز صبح یہاں کثیر تعداد میں لوگ سیر کیلئے آتے ہیں ۔شام کو بھی سیکڑوں افراد موجودرہتے ہیں  لیکن جنتا کرفیو کے سبب پیر کو بھی یہاں ویرانی چھائی رہی۔ کمپنی گارڈن اور دیگر تمام باغیچوں کے گیٹ پر انتظامیہ کی جانب سے پارکوں میں داخلے کی ممانعت کا ہدایت نامہ بھی چسپاں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جنتا کرفیو کے دوسرے روز بھی شہر کے عوام نے حکومت اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کورونا کیخلاف چلائی  جانے والی مہم میں مکمل طور پر اپنا تعاون پیش کیا۔   مرادآباد کی سبزی منڈی میں بھی بھیڑ نظر آئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK