کشمیر کی فوٹو جرنلسٹ پرفرانس جانے پر پابندی، ہوائی اڈے پرروک لیا گیا

Updated: July 04, 2022, 12:51 PM IST | Agency | New Delhi

پلٹزر انعام یافتہ ثنا ارشاد مٹوکتاب کے اجراء اور فوٹوگرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے جارہی تھیں،فرانس کا ویزا ہونے کے باوجود جانے نہیں دیا گیا

Pultz Award winning journalist Sana Irshad Manto who was stopped in Delhi before leaving for France.Picture:INN
پلٹزر انعام یافتہ صحافی ثنا ارشاد مٹو جنہیں فرانس جانے سے قبل دہلی ہوئی اڈے پر روک دیا گیا۔ تصویر: آئی این این

کشمیری فوٹو جرنلسٹ اور پلٹزر انعام یافتہ ثنا ارشاد مٹو کو سنیچرکےروز دہلی ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ واضح رہےکہ وہ ایک کتاب کے اجراء اور فوٹوگرافی کی نمائش میں شرکت کے لیے پیرس جا رہی تھیں۔ایسے میں امیگریشن حکام نے دہلی ایئرپورٹ پر انہیں روک لیا۔مٹوکا الزام ہے کہ حکام نے بغیر کوئی وجہ بتائے انہیں سفر کرنےسےروک دیا اور کہا کہ وہ بیرون ملک سفرنہیںکر سکتیں۔ اپنےایک ٹویٹ میں، انہوں نے اپنا منسوخ شدہ بورڈنگ پاس شیئر کیا اور لکھا،’’میں سیرینڈپیٹی آرلس گرانٹ ۲۰۲۰ءکے ۱۰؍ایوارڈ یافتگان میں سے ایک کے طور پر ایک کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش کیلئے دہلی سے پیرس کا سفر کرنے والی تھی۔ فرانس کا ویزا ملنے کے باوجود مجھے دہلی ایئرپورٹ پر امیگریشن ڈیسک پر روک لیا گیا۔‘‘
نو فلائی لسٹ میں رکھا گیا تھا
  اس کارروائی کے بارے میں ریاست یا مرکز کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیاہے۔ جموں کشمیر پولیس کےذرائع نے بتایا کہ مٹو وادی کے ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت نے نو فلائی لسٹ میں شامل کیاتھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کچھ کشمیری صحافیوں، کارکنوں اور ماہرین تعلیم کو ہوائی اڈے پر روکا گیا تھا۔
لک آؤٹ سرکیولر کا غلط استعمال
 اس واقعہ پرسابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کے بیٹےکارتی چدمبرم نےکہاکہ ایل او سی (لک آؤٹ سرکلر)کا اندھا دھند غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت پرتنقید کرنے والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ثنا ارشاد مٹو کون ہیں؟
 واضح رہے کہ ۲۸؍سالہ ثنا ارشادمٹو سری نگر کی رہنے والی ہیں۔ وہ بین الاقوامی وائر ایجنسی رائٹرز کے لیے فوٹوجرنلسٹ کے طورپر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں کووڈکی دوسری لہر کی کوریج کے لئے رائٹرز کے۳؍دیگر فوٹوگرافروں کے ساتھ فیچر فوٹوگرافی میں ۲۰۲۲ءکا پلٹزر انعام حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوںنےجنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں بھی فوٹو گرافی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK