کھار:جنوبی کوریا کی یوٹیوبر سے دست درازی کے الزام میں۲؍نوجوان گرفتار

Updated: December 02, 2022, 12:53 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

یوٹیوبر ہیوجیونگ پارک نےپولیس کی کارروائی کی ستائش کی ، کہا : وہ ’ونڈرفل انڈیا‘ کے بارے میں بتاتی رہیں گی اور ایک برا واقعہ اس جذبے کو متاثر نہیں کرے گا

Police personnel taking the accused to court. (Photo: PTI)
پولیس اہلکار ملزمین کو عدالت لے جاتے ہوئے۔(تصاویر: پی ٹی آئی)

 یہاں   جنوبی کوریا کی ایک یوٹیوبر  ویڈیو گرافی کررہی تھی تبھی  ۲؍نوجوانوں نے اس سے دست درازی کی جس کا ویڈیووائرل ہونے کے بعد پولیس نے خود کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو حراست میں لے لیا۔متاثرہ خاتون نے پولیس اس کارروائی کی ستائش کی۔
 پولیس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق  ہیوجیونگ پارک  نامی جنوبی کوریائی یوٹیوبرکھار کی ایک گلی میں ویڈیو بنارہی تھی ۔ اس دوران کچھ نوجوانوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ۔یہ ویڈیو  سوشل میڈیا پر  وائرل ہوگیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس سلسلے میں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے لیکن انھوں نے خود واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے چھان بین شروع کی۔ یہ معاملہ میڈیا میں آنےکے بعد پولیس نے ان نوجوانوں کی تلاش شروع کردی تھی اور جمعرات کو  ۲؍ نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ۔پولیس نے بتایا کہ ملزمین میں مبین چاند محمد شیخ  (۱۹)  اور محمد نقیب صدرعالم انصاری(۲۰)  شامل ہیں۔  ان کے خلاف کھار پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۵۴؍ کےتحت کیس درج کیا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو ویڈیو وائرل ہوا ہے، اس میں ایک نوجوان یوٹیوبر کے قریب آیا اور مزاحمت کے باوجود اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کی ۔ جب وہ وہاں  سے جانے لگی تو وہی نوجوان  ایک دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر آیا اور اسے اس کی منزل تک پہنچانے کی پیشکش کی لیکن اس نے  اپنی زبان میں اس پیشکش کو ٹھکرادیا ۔  
 ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق اس واقعہ کے بعدجنوبی کوریا کی یوٹیوبر ہیوجیونگ پارک نے جمعرات کو کہا کہ وہ’ونڈرفل انڈیا‘ کے بارے میں دیگر ملکوں کوبتانے  کے اپنے جذبے کو جاری رکھے گی اور ایک برا واقعہ  اس جذبے کو متاثر نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ نےاس  معاملے میں فوری کارروائی کی جہاں وہ پولیس کو بھی کال نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے خبررساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’’میرے ساتھ دوسرے ملک میں بھی (ایسا ہی کچھ )ہوا لیکن اس وقت میں پولیس کو بلانے کیلئے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ انڈیا میں بہت تیزی سے کارروائی کی جارہی ہے۔ میں ۳؍ ہفتوں سے ممبئی میں ہوں، مزید قیام کا ارادہ کررہی ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK