کھرگون تشدد: کشیدگی برقرار ،کئی گرفتاریاں

Updated: April 13, 2022, 9:16 AM IST | bhopal

؍ ۹۵؍ افراد کو حراست میں لیا گیا ،دگ وجے اور شیو راج سنگھ میں لفظی جھڑپیں،بی جے پی لیڈر کپل مشرا پر فساد بھڑکانے کا الزام لیکن پولیس نےکوئی کارروائی نہیں کی

Shops and houses of Muslim accused being demolished after sectarian violence in Khargone
کھرگون میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد مسلم ملزمین کی دکانوں اور مکانوں کو مہندم کیا جارہا ہے

:گزشتہ دنوں رام نومی کے جلوس کے دوران ہونے والی شر انگیزی کی وجہ سے ایم پی کے کھرگون میں ہونے والا تشدد تو تھم گیا ہے لیکن وہاں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔  اس دوران پولیس اور انتظامیہ نے جہاں فساد پھیلانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کے مکان  منہدم کردئیے ہیں وہیں اس معاملے میں ۹۵؍ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ اس تشدد کے معاملے میں ایک اور نیا موڑ بھی آیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تشدد بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی تقریر کی وجہ سے بھڑکا جو انہوں نے اتوار کے ہی دن کھرگون سے ۴۰؍ کلومیٹر دور ایک علاقے میں کی تھی اور اس میں بار بار کھرگون کا ذکر کیا تھا ۔ فی الحال پولیس نے اس تقریر کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے اور نہ کوئی کارروائی کی ہے لیکن کپل مشرا  کے خلاف کارروائی کے مطالبے میں شدت آتی جارہی ہے ۔
کھرگون کے حالات 
 کھرگون ضلع ہیڈکوارٹرس کے مضافات میں کھنڈوا  بڑودہ  روڈ پر جیتا پور پولیس چوکی کے تحت واقع مکینک نگر علاقے میں کل دیر رات کچھ شرپسندوں نے پینٹر کے گیراج میں کھڑی دو بسوں، ایک کار اور اس کی دکان کو آگ لگا دی۔ واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے جیتا پور پولس چوکی کے انچارج پروین آریہ نے بتایا کہ کچھ شرپسندوں نے عمران شیخ کی دکان اور اس میں رکھی دو بسوں کے علاوہ قریب میں رکھی ایک کار کو بھی آگ لگا دی۔ اطلاع ملنے پر فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال کسی نے اس معاملے کی شکایت نہیں کی ہے تاہم پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واقعہ کا نوٹس لے رہی ہے۔   دوسری طرف  تشدد کے معاملے میں اب تک ۹۵؍ افراد کو گرفتا رکیا جاچکا ہے۔
افواہوں کا بازار گرم 
  شہر میں کشیدگی برقرار ہے اور افواہوں کا بازار بھی گرم ہے لیکن پولیس نے حالات پر قابو رکھنے کے لئے انتہائی سخت بندوبست لگارکھا ہے جس کی وجہ سے شرپسندوں کو فی الحال کھل کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔ پولیس کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ رام نومی کا جلوس تاخیر سے نکلنے کی وجہ سے حالات خراب ہوئے کیوں کہ جلوس میں شامل افراد نے مسجد کے سامنے ڈی جے بجانا شروع کردیا تھا ۔ جب تک انہیں روکا جاتا تب تک وہاں پر ہاتھاپائی اور پھر پتھرائو شروع ہو گیا تھا ۔
کپل مشرا کی تقریر نے کھیل بگاڑا ؟
  بتایا جارہا ہے کہ بی جے پی لیڈر کپل مشرا جو دہلی میں بھی فساد بھڑکانے کے ذمہ دار ہیں ، نے کھرگون  سے قریب ۴۰؍ کلومیٹر دور گائوں میں اشتعال انگیزی کی تھی اور اس میں انہوں نے بار بارکھرگون کا ذکر کیا تھا ۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس پروگرام میں شامل بہت سے افراد بعد میں کھرگون میں رام نومی کے جلوس میں شامل ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بند طریقے سے فساد پھیلانے کی کوشش کی ۔ جلوس میں تاخیر بھی انہی ہی وجہ سے ہونے کی بات بھی سامنے آرہی ہے۔ کپل مشرا کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے لیکن اب تک پولیس نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
شیو راج سنگھ چوہان اور دگ وجے میں لفظی جھڑپیں
  کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کے درمیان ٹویٹر پرلفظی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔  دگ وجے سنگھ نے  ایک ٹویٹ کے ساتھ ایک متنازع تصویر پوسٹ کی جس  پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور دیگر کے ردعمل ظاہر کیا۔ ٹویٹ میں ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے  دگ وجےسنگھ نے لکھا کہ ’’کیا تلوار لاٹھی لیکر کسی مذہبی مقام پر جھنڈا لگانا مناسب ہے؟ کیا کھرگون انتظامیہ کو اسلحہ لے کر جلوس نکالنے کی اجازت تھی؟ کیا  جنہوں نے پتھر پھینکنے چاہے  سبھی کے گھروں پر بلڈوزر چلیں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK