جانے کون سی نیکی کام آئی جو ہم بچ گئے

Updated: June 11, 2021, 8:13 AM IST | kazim shaikh | Mumbai

مالونی میں عمارت کے گرنے سے چند لمحہ پہلےاہل خانہ کو لے کر باہرنکلنے والے منیر احمد کی روداد

BMC staff removing debris while Munir Ahmed in Inset (Inquilab/Agency)
ملبے کو ہٹاتے ہوئے بی ایم سی کا عملہ جبکہ انسیٹ میں منیر احمد( ایجنسی؍ انقلاب)

 مالونی گیٹ نمبر ۷؍ کے قریب نیو کلکٹر کمپائونڈ میں ایک عمارت کے اچانک منہدم ہوجانے سے جہاں ایک طرف  بستی میں صف ماتم بچھا ہوا ہے وہیں  منیر احمد اور ان کے اہل خانہ کو یقین نہیں آ رہا ہے کہ اس دلدوز سانحے میں وہ زندہ بچ گئے ہیں۔ کیونکہ ۱۹؍ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر زمین بوس ہوجانے والی اس عمارت کے گرنے سے چند لمحے پہلے تک وہ اور ان کے گھر والے اسی کے اندر تھے۔ 
 منیر احمد  اپنے اہل خانہ کے ساتھ کئی برسوں سے یہاںرہتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کبھی انہیں یوں اپنی آنکھوں سے موت کا منظر دیکھنا پڑے گا۔  انہوں نے بتایا کہ ’’ میرا مکان رفیق بھائی ( محمد رفیق صدیقی) کے مکان کے عقبی جانب، بالکل ملحق تھا۔ دونوں کے درمیان ایک ہی دیوار تھی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ عمارت کے گرنے سے چند منٹ پہلے اسی دیوار میں مجھے دراڑ نظر آئی  اور خدشہ محسوس ہوا۔کیونکہ دراڑ پڑنے پر ایک آواز بھی پیدا ہوئی تھی۔‘‘ منیر احمد کہتے  ہیں کہ ’’ اس وقت میں، میری اہلیہ ، میرا بیٹا اوربیٹی گھر پرتھے ۔ میں نے فوراً بچوں سے باہر نکلنے کیلئے کہا۔ہمارے نیچے اترتے ہی بلڈنگ گر پڑی‘‘ 
 منیر احمد کے مطابق ’’ رفیق بھائی کا گھر اور اس سے لگاہوا میرا گھر دونوں ہی گر پڑے اور ان کی وجہ سے آس پاس کے چار اور مکان بھی زمین بوس ہو گئے۔‘‘ وہ کہتے ہیں’’ ہم نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ نہ جانے کون سی نیکی تھی جو کام آگئی اور ہم زندہ بچ گئے۔‘‘   واضح رہے کہ اس حادثے میں ۱۹؍ لوگ بلڈنگ کے نیچے دب گئے تھے جن میں سے ۱۱؍ فوت ہو گئے اور ۸؍ زخمی ہیں۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں۔ محمد رفیق  احمد جن سے ملحق منیر احمد کا مکان تھا۔ ان کے گھر کے تمام افراد اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ان کی اہلیہ، ان کے بڑے بھائی اور ان کی اہلیہ کے علاوہ بچے سبھی شامل تھے۔ صرف رفیق احمد زندہ بچ گئے کیونکہ وہ حادثے کے وقت گھر میں نہیں تھے ۔ کسی کام سے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ منیر احمد بتاتے ہیں کہ ’’ ہمارے گھر سے باہر نکلتے ہی  پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ کیونکہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری بلڈنگ نیچے بیٹھ گئی اور ملبے میں تبدیل ہوگئی۔ نوجوان ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کیلئے دوڑ پڑے ۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ تھوڑی دیر بعد  فائربریگیڈ اور ایمبولنس کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔
  مقامی نوجوانوں کی کارکردگی
   مقامی نوجوانوں نے دعویٰ کیا کہ  فائر بریگیڈ کے آنے سے پہلے ہی انہوں نے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ۱۹؍ میں سے ۳؍ لوگوں کو نکال لیا تھا اور اسپتال بھی پہنچا دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی    مقامی نوجوان میونسپل کارپوریشن اوراور فائر بریگیڈ کے عملے کے ساتھ دیر رات ملبے سےزخمیوں کو نکالنے کیلئے  اپنی  خدمات انجام دیتے رہے ۔ 
   قریب ہی رہنے والے انس قریشی اور سہیل شیخ نے بتایا کہ’’ حادثہ کی بھیانک آواز سن کر ہم لوگ گھروں سے نکل پڑے۔ باہر دیکھا تو  سڑک پر مکان کا ملبہ پڑا ہوا  جس میں سے بچاؤ بچاؤ کی آواز آرہی تھی ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’قریب پہنچے تو ایک زخمی شخص درد سے کراہتے ہوئے باہر نکالنے کی گزارش کر رہا تھا ۔ ہم نے اسے نکالا اس کے بعد مزید ۲؍ لوگوںکو نکالا ۔ اس کے بعد فائربریگیڈ بھی پہنچ گیا۔ ‘‘ایک نوجوان نے کہا کہ’’ کئی افراد وہاں ایسے بھی نظر آئے جو ملبے سے قیمتی سامان تلاش کرکے اپنے قبضے میں لے رہے تھے ۔ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ جائے حادثہ سے قیمتی سامان وغیرہ بھی چوری ہوگئے ہیں ۔‘‘

malad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK