سیمی کنڈکٹرکی کمی اثر،ستمبرسہ ماہی میں آٹو کمپنیوں کے منافع میں کمی آنےکاخدشہ

Updated: October 15, 2021, 11:00 AM IST | Agency | New Delhi

آٹو انڈسٹری کے ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی کمی کا اثر آٹو موبائل کمپنیوں کے منافع پر دکھائی دے گا۔

An employee in a car factory can be seen installing tires in the structure of a new car.Picture:INN
ایک کار فیکٹر ی میں ملازم نئی کار کے ڈھانچے میں ٹائر نصب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

 آٹو انڈسٹری کے ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی کمی کا اثر آٹو موبائل کمپنیوں کے منافع پر دکھائی دے گا۔ ستمبر سہ ماہی کے مالیاتی نتائج آنے شروع ہوگئے ہیں۔ ایسا اندازہ ہے کہ آٹو سیکٹر کا فائدہ ستمبر ۲۰۲۰ء کے موازنہ میں ۵۲؍ فیصد گھٹ کر ستمبر ۲۰۲۱ء میں ۳۵؍ ہزار ۱۷۴؍ کروڑ روپے ہوسکتا ہے۔    حالانکہ اس صورتحال  کے باوجود بروکریج ہاؤسیز نے زیادہ کمپنیوں  کے شیئرز کو خریدنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایسا اسلئے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جیسے ہی یہ مسئلہ ختم ہوگا کمپنیوں کا منافع بہتر ہوگا اور اس کا مثبت اثر کمپنیوں کے شیئرز پر دکھائی دے گا۔ حال ہی میں جب ستمبر ماہ میں گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار آئے تھے تو اس میں زیادہ تر کمپنیوں کی فروخت کم ہوئی تھی۔ ماروتی کی فروخت ستمبر میں ۸۶؍ہزار ۳۸۰؍ رہی جو ستمبر ۲۰۲۰ء میں ۱ء۴۷؍ لاکھ یونٹ تھی۔ مہندرا کی فروخت میں ۲۱ء۷؍ فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ اس نے ستمبر ۲۰۲۱ء میں ۲۸؍ہزار ۱۱۲؍ گاڑیاں فروخت کی ہیں جبکہ ستمبر ۲۰۲۰ء میں یہ تعداد ۳۵؍ہزار ۹۲۰؍ تھی۔ بروکریج ہاؤسیز کا اندازہ ہے کہ آٹو اور آٹو پرزے بنانے والی کمپنیوں کے فائدے میں بھاری گراوٹ آسکتی ہے۔ درجن بھر کمپنیاں دوسری سہ ماہی میں اپنے فائدے میں سالانہ بنیاد پر ۹۷؍فیصد کی گراوٹ دیکھ سکتی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر کی کمی کی وجہ سے آٹو کمپنیوں کا پروڈکشن نصف ہوگیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق  سیمی کنڈکٹر کی کمی سے نجی گاڑیاں، پریمیم ٹووہیلر اور لائٹ کمرشیل وہیکل (ایل سی وی )  کی سپلائی پر برا اثر پڑا ہے۔ اس سے کمپنیوں کو تہواری سیزن میں نقصان ہوسکتا ہے۔ ’یس سیکوریٹیز‘ نے کہا کہ پرسنل اور کمرشیل وہیکل کی مانگ کافی مضبوط ہوئی ہے۔ لیکن گلوبل چپ کی کمی سے اگست اور ستمبر میں کمپنیوں کی فروخت پر اثر دکھ رہا ہے۔ ان کمپنیوں کے والیوم میں ۴۰؍ سے ۴۵؍ فیصد کی کمی کا اثر دکھائی دیا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے کاروباری حجم میں ۴۰؍ سے ۴۵؍ فیصد کی کمی نظر آی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیوں نے ستمبر میں اپنے پروڈکشن میں کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پچھلی بار کے تہواری سیزن کے موانہ میں اس بار پرسنل وہیکل میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد ۱۸؍سے ۲۰؍ فیصد بڑھی ہے۔ ڈیلرس یا کمپنیوں کے پاس ۲؍ ہفتے سے بھی کم کی انوینٹری ہے۔  موتی لال اوسوال فائنانشیل سروسیز کا ماننا ہے کہ پرسنل وہیکل کے لئے تیزی سے مانگ بڑھی ہے لیکن دو پہیہ گاڑیوں کی مانگ میں ریکوری میں دھیماپن ہے۔ ٹریکٹر کی مانگ میں تیزی دکھائی دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK