کانپور، کانپور دیہات اور بلرامپور میں ٹڈی دل کا حملہ، انتظامیہ مستعد

Updated: July 02, 2020, 11:35 AM IST | Inquilab News Network | Kanpur

ٹڈی دل کانپور شہرمیں حملے کے بعد کانپور دیہات پہنچا،دہشت سے لوگ گھروں میں چھپے رہے ، کسان اپنے کھیتوں میں تھالی پیٹ کر ، ڈھول بجا کر اور پٹاخے چھوڑ کر ٹڈیوں کو بھگاتے رہے ، انتظامیہ کی جانب سے بھی اقدامات کئے گئے

Locust Attack - Pic : INN
ٹڈیوں کا سب سے بڑا حملہ ۔ تصویر : آئی این این

اتر پردیش کے  اضلاع کانپور اور کانپور دیہات   ٹڈی دل نظر آئے ۔ان کے اضلاع کے کسان خوفزدہ ہیں ۔ وہ اپنی فصلوں کی حفاظت کیلئے تیار ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے فصلوں کو ٹڈیوں سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
  کانپور میں پیرکی دیر  رات ٹرانس گنگا سٹی کے اوپر نظر آنے والا ٹڈیوں کا لشکر منگل کی صبح گنگا بیراج سے شہری آبادی  پہنچا لیکن ضلع انتظامیہ کی مستعدی اور شہریوں کی بیداری سے جلد ہی ٹڈی دل شہر ی آبادی سے گائوں ہوتے کانپور دیہات کی طرف بھاگنے  پر مجبور ہو گیا۔   پیر کی دیر رات  ٹرانس گنگا سٹی، کٹری اور گنگا بیراج  میں ٹڈیوں کا لشکر  نظر آنے کے بعد ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر برہم دیو رام تیواری نے الرٹ جاری کر  کےشہر میں داخلہ روکنے کے تمام تر انتظامات کرائے اور شہریوں کو بھی حملے کی صورت میں اپنے گھر کے دروازے اورکھڑکیاں بند کر کے تھالیاں بجانے کی تاکید کی۔ پٹاخے  اورمیوزک سسٹم بجا کر بھی ٹڈیوں کو بھگانے کی اپیل کی۔ 
 منگل کی صبح کٹری، ٹرانس گنگا سٹی  اور گنگا بیراج    میں دوبارہ نظر آنے والا ٹڈیوں کا لشکر بدھ کو گنگا بیراج ہوتے ہوئے کانپور کی طرف بڑھا اور   نواب گنج تھانہ کے کھیورا اور اودھ پوری علاقے میں داخل ہوا تو لوگ  خوفزدہ ہوگئے لیکن ضلع انتظامیہ کے الرٹ پر لوگ پہلے سے تیار تھے ۔  جلد ہی وہ گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر کے  میوزک سسٹم اور تھالیاں بجانے کیساتھ پٹاخے  چھوڑ نے لگے ۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مستعد گاڑیوں نے بھی سائرن بجا کر ٹڈیوں کو بھگانے کی حکمت عملی پر  اپنائی  تو ٹڈی دل بٹھور کے پیم گائوں کی طرف بڑھ گیا۔ بٹھور کے سنگھ پور ہوتے ہوئے پیم گائوں میں ٹڈیوں کا لشکر پہنچا تو محکمہ زراعت کے افسران بھی پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ ساتھ ہی گائوں والے بھی ٹڈیوں کے حملے کی خبر پر اپنے کھیتوں میں مستعد ہو گئے تھے۔تھالی بجا نے اور پٹاخے چھوڑ نےلگے ۔ کسانوں نے ٹڈیوں کو بھگانے کیلئے دھواں بھی کیا جس سے لشکر میں شامل لاکھوں ٹڈیوں کو فصلوں کو نقصان پہنچانے کا موقع نہیں ملا ۔ آگے بڑھتے ہوئے ٹڈیوں کے لشکر مکئی کی فصلوں پر بیٹھے تو وہاں بھی کسانوں نے پٹاخے  چھوڑے ا ور تھالی بجاتے ہوئے پہنچ گئے جس سے ایک بار پھر ٹڈیوں کا لشکر آگے بڑھنے پر مجبور ہوگیا۔ تقریباً ایک کلو  میٹر طویل ٹڈیوں کے لشکر کو بھگایا اورلوگ ٹڈیوں کو دیکھنے کیلئے بھی گھروں سے نکل آئے۔ 
  محکمہ زراعت کے افسر اوما شنکر یادو  اورامیش دھر دویدی کے مطابق ٹڈیوں کا لشکر کٹری سے نکل کر چوبے پور کے پچور وبنسٹھی گائوں کی طرف نکل گیا۔ دوپہر کے وقت ٹڈیوں کا یہ لشکر کانپور دیہات کے شیولی گائوں میں داخل ہوا  جہاں کسانوں نے تھالی اورڈرم بجانے کے ساتھ پٹاخے  پھوڑکر ٹڈیوں کے لشکر کو بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ٹڈیوں کا یہ گروپ بسوسی، ٹونڈرپور، شیخوپور، راست پور، باگھ پور، ککردہی، سنبھرپور، بیری سوائی، بیری دریائو، بیری بستہ، انوپ پور، پرتاپ پور، بکھریا اور جھمانوادہ وغیرہ   پہنچا۔ یہاں سے دو حصوں میں تقسیم ہونے  والا ٹڈیوں کا لشکر نیاپوروہ، بھیوان، سہتاون پوروہ، اورنگ آباد، بنا پورا ور اونہاں وغیرہ کی طرف بڑھا جبکہ دوسرا گروپ شیولی، رام پور، جساپوروہ، اونگی ، نالا پرتاپ پور اور ارشد پور گائوں کے اوپر سے گزرتا دیکھا گیا۔ سہ پہر کے وقت ٹڈیوں کا گروپ رسول آباد میں  واقع نرالہ نگر پہنچا تو ایس ڈی ایم انجو ورما، تحصیلدار راکیش کمار  اوردیگر افسران بھی موقع پر پہنچے اور مقامی افراد کی مدد سے ٹڈیوں کو بھگانے کی کوشش کی۔ بدھ کو دیر شام تک ٹڈیوں کا لشکر رسول آباد، پتانپوروہ، کوشل پوروہ، بہادر پور، پہاڑی پور، اسریا، مترسین پور، کہنجری اورنرالہ نگر وغیرہ علاقوں میں  نظر آیا جہاں  لوگ تھالی  اورڈرم بجا کر  انہیں بھگانے کی کوشش کرتے رہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK