زندہ باد کسان، تاریخ رقم کردی، شرائط منوا کر ہی دم لیا

Updated: December 10, 2021, 8:47 AM IST | new Delhi

کسانوں میں جشن ، مودی حکومت سے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد ۳۷۸؍ دنوں سے جاری تحریک واپس لینے کا اعلان کیا ، کل سے گھر واپس جانے کا سلسلہ شروع ہو جائیگا

Leaders of Sanikat Kisan Morcha showing victory after fulfilling their demands from the government. (PTI)
سنیکت کسان مورچہ کے لیڈران حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے بعدفتح کا نشان دکھاتے ہوئے۔(پی ٹی آئی )

 حکومت کی طرف سے کسانوں کے زیر التوا مطالبات کوبھی تسلیم کرلینے کی تحریری یقین دہانی کے ساتھ ہی سنیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے ۳۷۸؍دنوں سے دہلی کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہوں اور دیگر مقامات پر جاری مورچوں کو ہٹانے کا باقاعدہ  اعلان کردیا ۔ یہ کسانوں کی بہت بڑی فتح ہے کیوں کہ انہوں نے اقتدار کے نشے میںمست  سرکار  کے ہوش ٹھکانے لادئیے ہیں اور اعلان بھی کیا ہے کہ اگر سرکار تحریری حامی بھرنے کے باوجودان کے مطالبات پورے نہیں کرتی ہے تو وہ دوبارہ دہلی کی سرحدوں پر آجائیں گی ۔ اسی لئے انہوں نے تحریک کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے اسے ختم نہیں کیا ہے۔
مورچہ نے کیا کہا ؟
   ایس کے ایم نے واضح کیا کہ موجودہ تحریک کو فی الحال ملتوی کیا گیا ہے۔ جنگ جیت لی گئی ہے اور کسانوں کے حقوق کو یقینی بنانے اور ایم ایس پی کے قانونی حق کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ مورچہ کےاعلان کے ساتھ ہی احتجاجی مقام فتح کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اب کسان ۱۱؍ دسمبر کو کسان وجے ریلی نکال کر اپنے گھروں کو روانہ ہوں گے۔
سرکار نے شکست تسلیم کی 
 حسب توقع جمعرات کو حکومت ہند نے، سیکریٹری، زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے سیکریٹری کے  ذریعے، سنیکت کسان مورچہ کو ایک رسمی خط بھیجا۔ خط میں کسانوں کے کئی زیر التواء مطالبات پر اتفاق کیا گیا۔ سرکاری خط پر ایس کے ایم نے اپنی میٹنگ میں بحث کی اور اس کے بعد ایس کے ایم کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں    تحریک کو ملتوی کرنے کے فیصلے کو منظوری دی گئی۔ اس کے جواب میں کسان مورچہ نے دہلی کی سرحدوں کے ساتھ قومی شاہراہوں اور دیگر مقامات پر جاری مختلف مورچوں کو ہٹانے کا باضابطہ اعلان کردیا۔   
لکھیم پور کھیری کا ذکر 
  کسان مورچہ نے اپنے بیان  میں کہا کہ وہ لکھیم پورکھیری سمیت تحریک کے تقریباً ۷۱۵؍  شہیدوں کی جدوجہد  کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس فتح کو انہی سے منسوب کرتے ہیں۔ ایس کے ایم نے تمام کسانوں، شہریوں اور ان کے حامیوں کا بے مثال جدوجہد اور تحریک کی شاندار جیت کے لئے شکریہ ادا کیا۔ 
کسانوں کا حلف
 ایس کے ایم نے کہا کہ کسانوں نے حلف اٹھایا ہے کہ ان کا اتحاد، امن اور صبر ہی فتح کی کنجی ہے اور اسے کسی بھی حالت میں ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ  محتاط رہنے اور وعدہ کو یقینی بنانے کا  فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اتحاد پر ہر قیمت پر قائم رہنے کا بھی اعلان کیا۔ 
جنرل بپن راوت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا 
  کسان مورچہ نے کہا کہ ملک سی ڈی ایس بپن راوت اور ان کے ساتھیوں کی موت پر سوگ منا رہا ہے۔ ایسے میں کسانوں کی جیت کے سلسلے میں جمعرات کو ہونے والی تمام تقریبات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جشن کی ریلیاں اب ۱۱؍دسمبر کو نکالی جائیں گی۔ اس دن کسان فتح کی ریلیاں نکال کر دھرنا اوراحتجاج والے مقامات کو ایک ساتھ چھوڑ دیں گے۔کوآرڈی نیشن کمیٹی کے رکن ڈاکٹر درشن پال نے کہا کہ کسان مورچہ کی اگلی میٹنگ اب اگلے سال ۱۵؍ جنوری کو  دہلی میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK