مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ عدالت میں حاضر

Updated: February 28, 2020, 12:19 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ سمیت تمام ۷؍ ملزمین کو بدھ کو خصوصی عدالت نے ہفتہ میں ایک بار کورٹ میں حاضر ہونےکا حکم دیا تھا ۔اس کے دوسرے ہی دن یعنی جمعرات کو سادھوی پرگیہ سنگھ نے عدالت کے روبرو حاضری دی ۔

سادھوی پرگیہ ۔ تصویر : آئی این این
سادھوی پرگیہ ۔ تصویر : آئی این این

ممبئی :مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ سمیت تمام ۷؍ ملزمین کو بدھ کو خصوصی عدالت نے ہفتہ میں ایک بار کورٹ میں حاضر ہونےکا حکم دیا تھا ۔اس کے  دوسرے ہی دن یعنی جمعرات کو سادھوی پرگیہ سنگھ نے عدالت کے روبرو حاضری دی ۔ عدالت کی کارروائی ختم ہونے کے بعد نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ذریعے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کی مانگ پرانہوں نے کہا کہ ’’ امیت شاہ کا استعفیٰ مانگنے والی کانگریس کون سی اخلاقیات کی بات کررہی ہے جس نے سکھ مخالف فساد میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی ۔‘‘
 بم دھماکہ کی سماعت کے دوران  ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ جو  بھوپال کی ممبر آف پارلیمنٹ ہیں، اپنے بھگوا لباس میں دوپہر ایک بجے کمرۂ عدالت میں حاضر ہوئی تھیں۔ سادھوی کی آمد سے کورٹ کو آگاہ کیا گیا اورکارروائی ختم ہونے کے بعد عدالت نےدوبارہ ہفتہ میں ایک بار کورٹ میں حاضر ہونے کی ہدایت یاد دلائی۔ بعدازیں عدالت کے احاطہ میں ملزمہ سادھوی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کورٹ نے اس کے خلاف سمن جاری کیا تھا اور عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا اس لئے کورٹ کے حکم پر وہ یہاں موجود ہے۔‘‘واضح رہے کہ سادھوی گزشتہ سال آخری مرتبہ جون ۲۰۱۹ء میں عدالت کے روبرو پیش ہوئی تھی ۔
  امیت شاہ سے استعفیٰ کی مانگ پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں سادھوی پرگیہ نے کہا کہ ’’ کانگریس کس اخلاقیات کی بات کررہی ، وہ ۷۷-۱۹۷۵ءمیں ایمرجنسی نافذ کرنے اور ۱۹۸۴ء میں سکھوں کے خلاف فساد ات کی خود ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کانگریس کو ہی دہلی  تشدد کا ذمہ دار بھی قرار دے دیا ، کہا کہ بی جے پی نے کبھی ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا بلکہ اس کی بھلائی کیلئے ہی قدم اٹھاتی رہی ہے اور یہ پوری دنیا جانتی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK