بحیرۂ جنوبی چین پر چینی حکومت کا دعویٰ غیر قانونی ہے: مائیک پومپیو

Updated: July 15, 2020, 12:25 PM IST | Agency | Washington

امریکہ اس تنازع میں فریق نہیں ہے پھر بھی اس میں مداخلت کرتا رہتا ہے: چین کا رد عمل، استحکام کے بہانے کشیدگی پھیلانے کا الزام

South China Sea - Pic : PTI
بحیرۂ جنوبی چین میں اس وقت چین کا غلبہ ہے (تصویر: ایجنسی

امریکہ نے کہا ہے کہ بحیرۂ جنوبی چین کے بیشتر حصوں میں آف شور وسائل پر ملکیت کا چین کا دعویٰ مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور یہ بیجنگ کی جانب سے اس خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ امریکہ کا بحیرۂ جنوبی چین پر یہ مؤقف پیر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے سامنے آیا ہے۔پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس خطے پر اپنی مرضی نافذ کرنے کیلئے چین کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ اُن کے بقول امریکہ بحیرۂ جنوبی چین کے بیشتر حصے پر بیجنگ کا دعویٔ ملکیت مسترد کرتا ہے۔
 مائیک پومپیو نے کہا کہ خطے میں دوسری ریاستوں کی جانب سے کی جانے والی ماہی گیری اور دیگر سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا اور بیجنگ کا یک طرفہ طور پر اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا قطعاً غیر قانونی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا چین کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ بحیرۂ جنوبی چین کو اپنی سلطنت سمجھے۔
مائیک پومپیو کے بیان پر چین کا ردعمل
 چین نے مائیک پومپیو کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے اس علاقے پر چین کے دعووں کو مسترد کرنا اور بیجنگ پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے ہمسایہ ملکوں کو ہراساں کرتا ہے، مکمل طور پر غیر منصفانہ عمل ہے۔امریکہ میں قائم چین کے سفارت خانے نے منگل کو جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اس علاقے میں جاری تنازع میں فریق نہیں  ہے، پھر بھی وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرتا رہتا ہے۔نیز امریکہ استحکام برقرار رکھنے کے بہانے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور تصادم کو بھڑکا رہا ہے۔
بحیرۂ جنوبی چین پر تنازع کیا ہے؟
 بحیرۂ جنوبی چین کا خطہ ۳۵؍لاکھ مربع کلو میٹرپر مشتمل ہے جو چین، ویتنام، فلپائن، تائیوان ، ملائیشیا اور برونائی کے مابین کئی دہائیوں سے تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہ تمام ملک اس کے مختلف حصوں کے دعویدار ہیں۔بحیرۂ جنوبی چین پر تنازع کی ایک بڑی وجہ یہاں جزائر کے دو بڑے سلسلے ہیں جن کے نام پیراسیلز اور اسپری ٹیلز ہیں۔ یہ جزائر قدرتی وسائل سے بھرپور ہیں جب کہ اس سمندری علاقے میں تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر بھی ہیں۔اس کے علاوہ بحیرۂ جنوبی چین تجارتی گزرگاہ اور فشنگ انڈسٹری کیلئے بھی اہم ہے۔اس وقت چین اس خطے کے بڑے حصے پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK