مجاہد آزادی حکیم اجمل خان کوسہ میونسپل اسپتال کی نجکاری کی مخالفت

Updated: June 25, 2022, 9:26 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے شہری انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسپتال کی نجکاری نہ کرے۔ میونسپل کمشنر کے مطابق یہاں مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوگا اسی لئے کیش کاؤنٹر نہیں رکھا گیا ہے

Hakim Ajmal Khan Hospital whose privatization has angered people.
حکیم اجمل خان اسپتال جس کی نجکاری کی خبر سے لوگ ناراض ہیں۔

یہاں ’ مجاہد آزادی حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال (کوسہ )‘ ایک بار پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور جیسے جیسے میونسپل الیکشن قریب آرہا ہے ، اس پر سیاست بھی تیز ہوتی جارہی ہے۔  وجہ یہ ہے کہ تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی) نے اس اسپتال کی نجکاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہری انتظامیہ کے اس فیصلہ کےخلاف حال ہی  میں عام آدمی پارٹی (آپ)  کے لیڈروں پر مشتمل وفد نے  میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما سے ملاقات کی اور کوسہ میونسپل اسپتال کی نجکاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل انڈین یونین مسلم لیگ اور مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم )  نے بھی میونسپل اسپتال کو نجی ہاتھوں میں دینے کی مخالفت کی تھی، اس کے باوجود تھانے میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرماکا یہی کہنا ہے کہ مجاہد آزادی حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال میں شہریوں کا علاج بالکل مفت ہوگا ،اسی لئے اس اسپتال میں کیش کاؤنٹر ہی نہیں رکھا گیا ہے۔
 اس سلسلے عام آدمی پارٹی (آپ) کے تھانے شہر کے نائب صدرراکی ہندوستانی، ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے کارگزار صدر محمد بغدادی ،رکن رونق خان  اور دیگرکارکنان  نے میونسپل کمشنر سے ملاقات کی  اور انہیں  بتایا کہ ممبرا کے شہری گزشتہ ۱۳؍ برس سے کوسہ میونسپل اسپتال مکمل ہونے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ انہیں علاج کیلئے کلوا ، تھانے اور دیگر اسپتالوں  میں نہ جانا  پڑے لیکن اب میونسپل کارپوریشن خود اس اسپتال کو شروع کرنے کے بجائے اس کی نجکاری کر رہی ہے ۔ اس کی اطلاع ملنے پر عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ 
  عام آدمی پارٹی کے رکن رونق خان نے بتایا کہ ممبرا کوسہ کے بیشتر شہری غریب   ہیں جو پرائیویٹ اسپتالوں کی فیس برداشت نہیں کر سکتے ہیں اسی لئے یہاں میونسپل سپر اسپیشلٹی اسپتال کی اشد ضرورت ہے لیکن اور کوسہ کا میونسپل اسپتال پرائیویٹ کر دیا جائے گا تو پھر یہاں کے غریب لوگ  علاج کہاں کروائیں   گے؟ انہوںنے الزام لگایا کہ’’میونسپل افسران  چند مفاد پرست لیڈروں کے ساتھ  مل کراس  میونسپل اسپتال کے پرائیویٹائزیشن کی کوشش کررہے ہیں جو کسی بھی طرح عوام کے حق میں نہیں ہے۔
 اس ضمن میں  انڈین یونین مسلم لیگ کے ایک وفد نے بھی میونسپل کمشنر سے ملاقات کی تھی۔ اس بارے میں انڈین یونین مسلم لیگ  مہاراشٹر کی خاتون ونگ کی صدر فرحت شیخ  کا کہنا ہے کہ کوسہ میونسپل اسپتال کی نجکاری کیلئے پہلے تجویز تیار کی جائے گی  اور ہم  اس تجویز کا مطالعہ کریں گے اور اگر یہ محسوس ہوا کہ اس سے عوام کو مہنگا علاج ملےگا تو اس کی نجکاری 


کرنے والوں میں شامل افراد ( چاہے وہ وزیرہاؤسنگ  ہو یا میونسپل کمشنر) کے خلاف عدالت  میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کروں گی ، یہ ممبرا کے شہریوں سے میرا وعدہ ہے کیونکہ وزیر ہاؤسنگ  نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اس میونسپل اسپتال کی نجکاری کی جائے گی۔‘‘
 فرحت شیخ کے بقول ذرائع ابلاغ کی رپورٹ سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ ممبرا کے میونسپل اسپتال کی نجکاری کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں ہماری پارٹی کے ایک وفد نے  میونسپل کمشنر سے بھی ملاقات کی ، اس دوران انہوں نے یقین دلایا  ہے کہ کوسہ میونسپل اسپتال میں علاج بالکل مفت ہوگا  اسی لئے یہاں کوئی کیش کاؤنٹر نہیں ہوگا۔ علاج مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت کیا جائے گالیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اگر اسپتال کی نجکاری کی جائے گی  تو مفت خدمات کیسے مہیا کرائی جائیں گی؟اس تعلق سے ممبراکوسہ کے عوام میں بھی تجسس پایاجارہا ہے۔‘‘
 فرحت شیخ نے کہا کہ’’ ممبرا کوسہ کے عوام شہری انتظامیہ کو سالانہ ٹیکس کی شکل میں تقریباً  ۵۰؍  کروڑ روپے  ادا کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے عوام کو کیا مل رہا ہے؟ شہر کا کچرا اٹھانے کے کام کی نجکاری کر دی گئی  اور کرسٹل کمپنی کو اس کاٹھیکہ دیا گیا جس کے سبب مین سڑک پر پورا دن کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے،بجلی سپلائی کے نظام نجکاری کر دی گئی  اور ٹورینٹ پاورکو مسلط کر دیا گیاہے ، میونسپل اسٹیڈیم کا بھی پرائیویٹائزیشن کیا گیا ہے اور اب میونسپل اسپتال کو نجی ہاتھو ںمیں دیاجارہا ہے۔حالانکہ اس نئے اسپتال کی دیکھ ریکھ پربمشکل  سالانہ ۲؍ کروڑ روپے خرچ ہوں گے تو کیا ۵۰؍ کروڑ روپے وصول کر کے شہری انتظامیہ ممبرا کے میونسپل اسپتال کی دیکھ ریکھ کرنے کیلئے ۲؍ کروڑ بھی خرچ نہیں کر سکتا۔ یہ افسوسناک ہے اور ممبر ا کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے ، پھر ممبرا کے شہریوں کا ٹیکس ادا کرکے کیا فائدہ؟‘‘
  مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم )  ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے صدر سیف پٹھان نے سوال کیا ہے کہ ممبرا کوسہ میں ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کے ۱۲۸؍ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے کوسہ میونسپل اسپتال کی نجکاری کرنے سے کس کو فائدہ ہوگا؟  انہوںنے یہ بھی کہا ہےکہ اگر کوسہ میونسپل اسپتال کی نجکاری کی گئی تو عوام سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔
 واضح رہے کہ مئی میں تھانے کے واگلے اسٹیٹ کے سری نگر علاقے میں  جدید ترین سپر اسپیشلٹی علاج اور سرجری کی سہولیات سے آراستہ ’ماتوشری گنگوبائی سمبھاجی شندے اسپتال‘  شروع کیا گیا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کوئی کیش کاؤنٹر نہیں ہے اوریہ دعویٰ  کیا گیا ہے کہ اس اسپتال میں  ’مہاتما جیوتی با پھلے جن آروگیہ یوجنا ‘کے تحت مرض کی تشخیص اور علاج  بالکل مفت کیا جائے گا۔ اس اسپتال کو اپنی نوعیت کا ریاست کا پہلا میونسپل اسپتال قرار دیا گیا ہے۔
 ممبرا میونسپل اسپتال کے تعلق  سے ڈپٹی میونسپل کمشنر (ہیلتھ)  منیش جوشی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہاں بھی سرکاری اسکیم کے  تحت مفت علا ج کیا جاے گا اور اس اسپتال میں بھی ’کیش کاؤنٹر‘   نہیں ہوگا۔
 یہ بھی یاد رہے کہ چند دنوں قبل جب تھانےمیونسپل کمشنر نے کوسہ اسپتال کا دوہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے متعلقہ افسران کو اسپتال میں ڈائیلیسس سینٹر شروع کرنےکے کام کو تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK