ممبرا :اسپتال میں داخلہ نہ ملنے سے ایک بچی اور ایک خاتون کی موت

Updated: May 21, 2020, 9:50 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

عوامی نمائندے برہم،درگاہ مسجد کے امام کی ۱۳؍سالہ بیٹی کے پیٹ میں پانی بھر گیا تھا جبکہ ۴۳؍سالہ خاتون کو بھی پیٹ میں تکلیف تھی

Hospital - Pic : INN
اسپتال ۔ تصویر : آئی این این

 تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی)  کی جانب سے جہاں ایک جانب ساری توجہ کووڈ ۱۹؍ سے لڑنے میں لگائی جارہی ہے وہیں دوسری جانب نان کووڈ(دیگر بیماریوں سے متاثر)مریضوں کو علاج کی سہولت نہ ملنے سے ان کی موت ہورہی ہے۔امرت نگر علاقےمیں حضرت فخر الدین شاہ بابا ؒدرگاہ مسجد کے امام صاحب کی ۱۳؍سال کی بیٹی اور تنور نگر میں رہنے والی ۴۳؍ سالہ خاتون نے ممبرا کوسہ کے اسپتالوں میں داخلہ نہ ملنے کے سبب تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ 
 ان اموات کے سبب عوام اور مقامی لیڈران میں اسپتالوں کے اس رویہ کے تئیں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اورمطالبہ کیاجارہاہے کہ ایسے اسپتالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے یہاں تک کہ ان کا لائسنس ہی منسوخ کیا جائے۔اس سلسلےمیں درگاہ مسجد کے امام حسیب الرحمان شیخ نےبتایا کہ ان کی بیٹی نقیبہ شیخ  (۱۳) کے پیٹ میں پانی بھر گیا تھا۔ اس کا علاج ممبرا سٹی اسپتال (نزد ممبرا پولیس اسٹیشن )میں جاری تھا۔ منگل کوبھی اسے سٹی اسپتال لے گئے لیکن وہاں اس کی طبیعت بگڑنے لگی اور سائنس لینے بھی تکلیف ہونے لگی جس کے بعد دن میں ساڑھے۱۲؍بجےسے ممبرا کوسہ کے متعدد اسپتالوں کے چکر لگائے لیکن کسی اسپتال نے اسے داخل نہیں کیا جن میں گوتمی اسپتال ،بلال اسپتال، کالسیکراسپتال، برہانی اسپتال، رحمانیہ اسپتال شامل ہیں۔آخر میں پرائم اسپتا ل لے گئے جہاں آئی سی یو بھی تھا وہاں کے ڈاکٹروں نےمنت سماجت کے بعد بہت ہی تاخیر سےبچی کو داخل کیا لیکن رات تقریباً  ۱۲؍  بجےبچی نے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ اگر پرائم اسپتال میں جلد داخل کر لیا ہوتا تو بچی بچ سکتی تھی۔اس سلسلے میں پرائم اسپتال کے منتظمین میں شامل زبیر سابلے سے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ’’حکومت کی جانب سے ایسی احتیاط برتنےکوکہا گیا ہے کہ مریض کا جب تک کورونا ٹیسٹ نہ کیاجائے اسے داخل نہ کیا جائے۔ البتہ بچی کامعاملہ مجھ تک بات پہنچا ہوتا تومیں ضرور حاضر ہوتا تھا۔ ‘‘
 اس سلسلے میں ڈپٹی میونسپل کمشنر کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں ممبرا کوسہ کے علمائے کرام، عوامی نمائندے، اسپتال اور اسکولوں کے انتظامیہ  بھی شریک تھے۔ اس میٹنگ میں کارپوریٹر ظفر نعمانی اور شاہ عالم نے ہنگامہ کیا اور نان کووڈ مریضو ں کو علاج کیلئے اسپتال میں داخل نہ کرنےوالے اسپتالوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ظفر نعمانی نے کہاکہ ’’ گزشتہ روز امرت نگر کی بچی اور تنور نگر کی ۴۵؍ خاتون کو ممبرا کوسہ کےکسی اسپتال نے داخل نہیں کیا اور دونوں مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔ اس خاتون کو بھی پیٹ میں تکلیف تھی اور سانس لینے میں پریشانی ہو رہی تھی۔وہ بھی کورونا متاثرہ نہیں تھی۔جو اسپتال مریضوں کو داخلہ کرنے اور علاج کرنے سے انکار کر رہے ہیں ایسے اسپتالوں کے خلاف سخت کا رروائی کی جانی  چاہئےبلکہ ان کا لائسنس منسوخ کرناچاہئے۔ شہری انتظامیہ کو ایسے مریضوں کے علاج کیلئے بھی ضروری انتظامات کرنا چاہئے۔‘‘
 اس سلسلے میں ممبرا کے ڈپٹی میونسپل کمشنر ( ڈی ایم سی)منیش جوشی نے کہاکہ’’ مقامی میونسپل ڈاکٹر کو بچی کی موت کے معاملے کی انکوائری کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔اسپتال کی لاپروائی سامنے آنے پر اس کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔‘‘
 انہوںنے مزید بتایا کہ نان کووڈ مریضوں کو علاج میں پریشانی نہ آئے اس کیلئے ڈاکٹروں اور اسپتالوں سے میٹنگ لی جائے گی اور اس سنگین مسئلہ کا حل نکالا جائے گا ۔ البتہ زیاد تر اسپتال اس سے ڈرتے ہیں کہ اگر کسی کووڈ متاثرہ مریض ان کےیہاں داخل ہو گیا تو دیگر مریضوں کو بھی کورونا وائرس متاثر کر سکتا ہے اور اسی لئے نان کووڈ کی جانچ کروا کرآنےکی درخواست کی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے واقعات کو  روکنے کیلئے نظم کیاجائے گا۔

city news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK