ممبرا : میونسپل اساتذہ کا قابل ستائش اقدام، طلبہ کو اُن کے گھر جاکر پڑھا رہے ہیں

Updated: July 17, 2021, 12:14 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

ایسے بچے جن کے والدین اور سرپرست مالی مشکلات کے سبب موبائل فون اور نیٹ پیک کا خرچ برداشت نہیں کر پارہے ہیں ، انہیں ان کے گھرپر ۴۵؍ منٹ یا ایک گھنٹہ تعلیم دی جاتی ہے ۔ ۳۵۰؍ تا ۴۰۰؍ بچوں کیلئے محض ۸؍ اساتذہ ۔ تھانے کے میونسپل محکمۂ تعلیم نےطلبہ کے ڈراپ آؤٹ کو روکنے کیلئے ٹیچروں کو بچوں کے گھر جاکر پڑھانے کی ہدایت دی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

کوروناوائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب اس تعلیمی سال بھی  بچوں کو آن لائن پڑھایا جارہا ہے   اورریاستی حکومت کی جانب سے یہ نعرہ دیا گیا ہے کہ ’ اسکول بند لیکن پڑھائی چالو رہے‘ لیکن  پریشان حال غریب اور متوسط طبقے کے افراد کیلئے  اہلِ خانہ کی کفالت ہی دشوار ہو رہی ہےتو وہ اپنےبچوں کیلئے مہنگے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ پیک  کا خرچ کیسے برداشت کرسکیں گے۔ موبائل فون کی عدم دستیابی  کے سبب ممبرا کوسہ کے بھی متعدد غریب طلبہ آن لائن پڑھائی میں شرکت نہیں کر پارہے ہیں۔  ایسے حالات میں میونسپل اسکولوں کے اساتذہ  بچوں کو تعلیم سے جوڑے رکھنے کیلئے آن لائن پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسے طلبہ کے گھروں پر بھی جاکرپڑھا رہے ہیں جنہیں آن لائن پڑھائی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے ممبرا دیوی  روڈ پر واقع میونسپل اسکول کے پرنسپل زاہد سید سے رابطہ قائم کیا گیا تو  انہوںنے بتایا کہ ’’اس میونسپل اسکول کی عمارت میں اردو میڈیم کے ۴؍ اسکول جاری ہیں۔ہر اسکول  میں ۳۵۰؍ تا ۴۵۰؍طلبہ  زیر تعلیم  ہیں ۔ ان   میں اکثربچے ایسے  ہیں جن کے والدین یا سرپرست مزدور ، پھیری والے،آٹو رکشا ڈرائیور یا چھوٹا موٹا کام کرتے  ہیں اور  مائیں گھریلو کام کاج کر کے اہلِ خانہ کی کفالت کرتی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں تو ان کی حالت پہلے سے ہی خراب ہے۔ اکثر طلبہ کے گھروں میں ایک ہی اسمارٹ موبائل فون ہے جو  ان کے والد کے پاس رہتاہے  اسی لئےجب وہ ملازمت پر جاتے ہیں تو فون اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ ایسے حالات میں یہ بچوں  آن لائن پڑھائی  نہیں کرپاتے ہیں  ۔ ایسے بچوں کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کیلئےاسکول کے اساتذہ ان کے گھر جاتے ہیں اور انہیں ۴۵؍ منٹ یا ایک گھنٹہ پڑھاتے ہیں۔ ۳۵۰؍ تا ۴۰۰؍ بچوں کیلئے محض ۸؍  اساتذہ ہیں جو آن لائن پڑھانے کے ساتھ ساتھ پہاڑ پر اور دیگرعلاقوں میں مقیم بچوں کو پڑھانے جاتے ہیں۔ اگر ایک ہی جماعت کے بچے آس پاس رہتے ہیں توکسی ایک طالب علم کے گھر والوں کی اجازت لے کر انہیں اسی گھر میں بلا کر پڑھایا جاتا ہے۔‘‘ 
 انہوں  نےیہ بھی بتایا کہ متعدد طلبہ اب بھی آبائی وطن میں ہیں جن میں سے چند ایک طلبہ آن لائن پڑھائی میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان میں ایک طالب علم مغربی بنگال اور ایک اترپردیش سے آن لائن پڑھائی میں شرکت کر تا ہے۔‘‘   انہوں نے مزید کہا کہ ’’ کووڈ۱۹؍  سے تحفظ کیلئے تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی) کی حدود میں لیول ۳؍ کے اصول نافذ کئے گئے ہیں،  اس کے باوجود ہمارے سارے اساتذہ  اسکول آتے ہیں ۔ ان میںچمبور، بھیونڈی، کلیان اور کرلا  کے اساتذہ بھی شامل ہیں ۔‘‘
 کوسہ میونسپل اسکول  جس کی ایک ہی عمارت میں ۱۱؍ اردو میڈیم اور ایک مراٹھی میڈیم اسکول جاری ہے ، کے ایک ٹیچر سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایاکہ ’’کوسہ کے دور دراز علاقے جیسے کوسہ کے آخری کونے میں واقع سری لنکا اور دیوری پاڑہ  ، شیل پھاٹا اور کلیان پھاٹا  علاقوں سے بھی غریب طلبہ کوسہ اسکول میں  تعلیم حاصل کرنے  آتے ہیں۔ حالانکہ زوم، گوگل میٹ اور وہاٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن پڑھائی جاری ہے لیکن کئی طلبہ اسمارٹ فون یا انٹر نیٹ پیک کا خرچ برداشت نہ کر پانے کے سبب آن لائن پڑھا ئی نہیں کر پا رہے ہیں ۔ ایسے طلبہ کو ہم ان کے گھر جاکر پڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں دیوری پاڑہ(سری لنکا) علاقے میں جاکر ایک طالب علم کو پڑھا کر آیا ہوں۔ اسی طرح دیگر اساتذہ بھی اسکول سے کافی فاصلے پر رہنے والے طلبہ کے گھروں پر جاکر پڑھاتے ہیں ۔اس طرح آمد ورفت کا خرچ اور وقت بھی کافی لگتا ہے۔‘‘ انہوںنے ایک اسکول کی مثال دی کہ ایک اسکول (پہلی تا آٹھویں) میں کل ۴۹۰؍ طلبہ ہیں تو ان میں سے زوم پر ۱۳۶؍  وہاٹس ایپ ویڈیو کال پر ۱۴۹؍ طلبہ ، فون پر ۱۰۷؍  طلبہ اور   ہاؤس وزٹ (گرہ بھیٹ) پر ۸۶؍ طلبہ کو تعلیم دی جارہی ہے ۔ البتہ اب بھی ۴۵؍ طلبہ آبائی وطن یا دیئے گئے نمبروںپر نہ ملنے کے سبب  رابطے میں نہیں آ سکے ہیں۔‘‘ زاہد سید  کے مطابق ’’اساتذہ کو پڑھانے کے علاوہ کورونا سروے کی بھی ڈیوٹی دی گئی تھی اور انہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر اسے پورا بھی کیا ۔ اسی دوران ہمارے ممبرا میونسپل اردو اسکول کے محنتی ٹیچر عبدالرقیب عبدالعزیز کا کورونا کے سبب ۲۹؍ جون کو انتقال بھی ہو گیا ۔ وہ چیتا کیمپ سے آتے تھے ۔‘‘ انہوںنے مزید  بتایا کہ’’ ان کے علاوہ عرفان  شیخ سر کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔کووڈ ۱۹؍ کی ڈیوٹی انجام دینے کے باوجود اساتذہ کو ٹرین سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس سے انہیں مشکلات پیش آرہی ہے۔‘‘
 ایک طالب علم کے سرپرست نے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ میرے ۴؍  بچے ہیں ۔ ان میں  ایک بیٹی دسویں جماعت میں،   ایک نویں ،ایک آٹھویں اور ایک بیٹا دوسری جماعت میں زیر تعلیم ہے۔  ہمارے پاس  ۲؍  اسمارٹ فون ہیں۔  ایک موبائل فون  بچوں کے والد  کام  پر لے جاتے  ہیں اور دوسرا گھر میں رہتا ہے لیکن  ۳؍ بچوں کی آن لائن پڑھائی بیک وقت ہوتی  اسی لئے ایک ہی بچی اس سے پڑھ پاتی ہے،  بقیہ ۲؍ بچے اس سے محروم  رہتے  ہیں۔ کسی طرح مَیں نے ایک رشتہ دار کے یہاں ایک بچی کو بھیج کر اس کا تعلیمی سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایک سے زیادہ بچوں والے گھروں میںیہ بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ تھانے میونسپل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے  بیٹ آفیسر اسلم کنگلے سے گفتگو کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ لاک ڈاؤن میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور بچے تعلیم سے محروم نہ ہوں اس لئے میونسپل اساتذہ کو طلبہ سے رابطہ میں  رہنے، انہیں آن لائن پڑھانے اور جو طلبہ آن لائن پڑھائی میں شامل نہیں ہو رہے ہیں،   ان کے گھرکا دورہ کرنےکی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘  انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ میونسپل اسکولوں کے غریب طلبہ کو  آن لائن پڑھائی میں دشواریاں ہو رہی ہیں اسی لئے اساتذہ کو ان کے گھر جانابھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK