ممبرا:انکم سرٹیفکیٹ کے حصول میں دشواری سے غریب طلبہ پری میٹرک اسکالر شپ سے محروم

Updated: September 18, 2021, 7:08 AM IST | Iqbal Ansari

لانہ آمدنی کا سرٹیفکیٹ منسلک کرنے کی شرط کے سبب مسائل کا سامنا ، سماجی اور سیاسی تنظیمیں ناراض ، بتایا : کئی اسکول محکمہ تعلیم کے افسر کی ہدایت پر اسی لئے اسکالرشپ کے فارم منسوخ کررہے ہیں کیونکہ طلبہ نے گزیٹیڈ آفیسر سے جاری کردہ انکم سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا تھا۔ سیلف ڈکلیریشن قبول کرنے کامطالبہ

A Center for Scholarship Scholarship form is being filled out.Picture:Inquilab
ممبرا کے ایک سینٹرپراسکالرشپ فارم پُر کیا جارہا ہے۔ تصویر انقلاب

ممبرا:اقلیتی طبقے سےتعلق رکھنے والےغریب طلبہ تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کر دے، اس کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے متعدد اسکالر شپ اسکیمیں شروع کی گئی ہیں لیکن  چند شرائط کے سبب ان اسکیموں سے مستحق طلبہ کا اسکالر شپ حاصل کرنا دشوار ہوتا جارہا ہے۔  ایسی ہی شرائط میں پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے انکم سرٹیفکیٹ (آئی سی ) منسلک کرنے کی شرط بھی شامل  ہے اورآمدنی کا سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے سبب ممبرا کوسہ کے ہزاروں غریب طلبہ  اسکالر شپ سے محروم ہوگئے ہیں۔ میونسپل اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ بھی ان میں شامل ہیں۔
 اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کیلئے پری میٹرک اسکالر شپ دی جاتی ہے جو مسلم  ، عیسائی اور بودھ وغیرہ  جیسے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہے۔ ایجوکیشن محکمہ کے ایک افسر سے معلومات حاصل پتہ چلا کہ اسکالر شپ میرٹ کی بنیاد پر دی جاتی ہے اور میرٹ اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ جس طالب علم  یا طالبہ کی سالانہ آمدنی سب سے کم ہوگی اور گزشتہ سالانہ امتحان میں  مارکس سب سے زیادہ ہوں گے، اسے پہلے اسکالر شپ دی جائے گی اور ا س کے بعد اس طالب علم کو جس کے خاندان کی سالانہ آمدنی پہلے والے طالب علم یا طالبہ   سےزیادہ اور مارکس کم ہوگا  اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ضلع کا جو کوٹہ دی گیا ہے ، وہ پُر ہو جائے۔ اب ممبرا اور کوسہ کےغریب طلبہ پہلے تو اسکالر شپ سے ہی لاعلم ہوتے ہیں  اسی لئے نہ تو وہ آن لائن فارم پُر کرتے ہیں اور نہ ہی انکم سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں۔ البتہ جنہیں  چند غیر سرکاری تنظیموں، اسکولوں   اورسیا سی  نیز غیر سیاسی سوشل ورکروں سے اس کی معلومات ہوتی ہے اور اگر ان کے غریب، بیوہ اور سنگین بیماری میں مبتلا سرپرست جن کی اصل آمدنی  ۳۶؍ تا ۷۰؍ ہزارروپے ہوتی ہے، کو انکم سرٹیفکیٹ نہیں مل پاتا۔
مسئلہ کیا ہے   ؟
   غیر سرکاری تنظیم ملی تحریک اور سماجوادی پارٹی کے ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے  جنرل سیکریٹری ابو فیصل چودھری  نے بتایا کہ ’’  رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی اور مقامی صدر عادل خان کی سرپرستی میں ہم گزشتہ تقریباً ۷؍ برس سے ممبرا کوسہ کے غریب طلبہ کا فارم آن لائن مفت پُر کرتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً ۲؍ سال سے لاک ڈاؤن کے سبب بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں امید تھی کہ اقلیتی طبقے کے غریب طلبہ کو اسکالر شپ دینے میں بھی نرمی برتی جائے گی  لیکن ایسا نہیں ہوا۔ممبرا کوسہ میں سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد، بیوہ، یتیم بچوں اور گھریلو خادمہ اور دیگر  چھوٹے موٹے کام کاج کر کے اہل خانہ کی کفالت کرنے والے افراد کی بڑی تعداد ہے۔ کئی ایسے خاندان ہیں جن کی کفالت رشتہ دار یا سماج کے مخیر حضرات کرتے ہیں اور ان کی اپنی سالانہ  آمدنی  ۳۶؍  ہزار تا ۵۰؍  ہزار  روپے بھی  نہیں ہے۔‘‘ انہوںنے الزا م عائد کیا کہ ’’مقامی تلاٹھی ۹۶؍ تا ۹۸؍  ہزار روپے سے کم آمدنی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیتا۔ کئی سرپرستو ں نے مجھ سے شکایت بھی کی ہے ۔ دوسری جانب کئی اسکول  ایجوکیشن محکمہ کے افسر کی ہدایت  پر اسی لئے فارم منسو خ کر رہے ہیں کیونکہ طالب علم یا طالبہ نے گزیٹیڈ آفیسر ( تلاٹھی  یا تحصیلدار وغیرہ ) سے جاری کردہ  انکم سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا  تھا۔گزشتہ برس پری میٹرک اسکالر شپ کے ۱۲؍ تا ۱۵؍ ہزار فارم پُر کئے گئے تھے اور تقریباً ۱۵۰۰ ؍ طلبہ کو ہی اسکالرشپ مل سکی اور انکم سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے سبب باقی ہزاروں طلبہ اسکالرشپ سے  محروم ہو گئے۔‘‘
  اس سلسلے میں اتحاد ویلفیئر ٹرسٹ  کے صدر اور ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے این سی پی کے صدر شمیم خان جن کے آفس میں بھی اسکالر شپ فارم پُر کرنے کا نظم کیا جاتا ہے ، سے رابطہ قائم کرنے پرانہوںنے بتایا کہ’’  انکم ٹیکس نہ ملنے میں شہریوں کو ہونے والی دشواریوں کے تعلق سے ہمیں بھی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ طلبہ اور سرپرستوں کو درپیش ان ہی مسائل کے حل کیلئے ہم نے جلد ہی انکم سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا خصوصی کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور اسے جلد ہی منعقد کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ غریب شہریوںکو انکم  سرٹیفکیٹ نہ ملنے سے ان کے بچے اسکالر شپ سے محروم ہو رہے ہیں گویاایک جانب حکومت غریب طلبہ کو اسکالر شپ دینے کا علان کر تی ہے وہیں حکومت کے افسران ہی دشواریاں پیدا کر کے  غریبوں کو اسکالر شپ سے محروم کر رہے ہیں ۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’ انکم سرٹیفکیٹ کے مسئلہ کے حل کے لئے ہم نے تھانے تحصیلدار سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔‘‘
 خواتین کی تنظیم ’ سنگھرش ‘کی چیئرپرسن رُتا جتیندر اوہاڑ سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ دراصل اسکالر شپ کیلئے جو لوگ واقعی مستحق ہوتے ہیں ،وہ نہ انکم سرٹیفکیٹ حاصل کر پاتے ہیں اورنہ ہی اسکالر شپ لے پاتے ہیں  اسی لئے ہم   غریب  افراد کو نیشنل اسکالر شپ ( پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس ) کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ کمپنی ’موکش‘ کی اسکالر شپ کا فارم پُر کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔ نیشنل اسکالرشپ میں کاغذات جمع کرنے پر جتنا خرچ اور پریشانی ہوتی ہے ، ا س کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ۔ انکم سرٹیفکیٹ بنانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔البتہ موکش کمپنی کے تحت نمایاں مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کو اسکالر شپ  دی جاتی ہے۔  ‘‘
 فیصل چودھری نے  اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا ایک ویڈیو بتاتے ہوئے کہا کہ ’’گزشتہ برس نوی ممبئی کے ایک پروگرام کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بائٹ دیتے ہوئے مختار عباس نقوی نے یہ بیان دیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ اقلیتی طبقے کے غریب بچوں کو اسکالر شپ کی رقم مل  سکے اس لئے نیشنل اسکالر شپ ( پری میٹرک ،پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس) میں انکم سرٹیفکیٹ کی جگہ سیلف ڈکلیریشن قابلِ قبول ہوگالیکن اس  بیان پر نہ گزشتہ تعلیمی سال میں عمل ہوا اور نہ ہی اب کیاجارہا ہے ۔ اس ضمن میں مَیں نے مختار عباس نقوی اور وزیر اعظم کو ٹویٹ بھی کیا ہے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں آیا  لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر اپنے بیان کو عملی جامہ پہنائے۔‘‘
تحصیلدار کی یقین دہانی
 غریب اور انتہائی کم آمدنی والے افراد کو انکم سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں دشواری کی شکایتوں سے متعلق  تھانے کے تحصیلد ار سے استفسار کرنے پر انہوں نے یقین دلایا کہ وہ مقامی تلاٹھی اور متعلقہ افسران کو ہدایت دیں گے کہ عرضی گزار کےگھر جاکر تصدیق کرنے کے بعد انکم سرٹیفکیٹ جاری کرے۔
تلاٹھی کی وضاحت
 ممبرا کے تلاٹھی وشواناتھ راٹھوڑسے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ’’ بیوہ اور سنگین بیماریوں میں مبتلا شہریوں کوایک لاکھ سے کم آمدنی کا بھی سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے البتہ جن عرضی گزار کے کاغذات برابر نہیں ہوتے یا کچھ شبہ ہوتا ہے ،انہی کے فارم مسترد  کئے جاتے ہیں۔اگر کوئی 
کہتا ہے کہ مَیں نے بلا وجہ کسی کوآئی سی نہیں دیا تو آپ مجھے بتایئے۔‘‘

 


’’ اورنگ آباد میں محض ۳؍ دستاویز پر انکم سرٹیفکیٹ تو ممبرا میں کیوں نہیں؟‘‘
  ایک بچے کے سرپرست نے بتایاکہ’’ اورنگ آباد میں ان کے ایک غریب رشتہ دار نے محض ۳؍ دستاویز آدھار،الیکشن کارڈ اور حلف نامہ کی مدد سے آن لائن فارم  پُر کرنے پر محض ۳؍ دن میں سالانہ ۴۵؍ ہزار کا انکم سرٹیفکیٹ  آن لائن جاری کیا جارہا۔ جب اورنگ آباد میں ایسا ہو رہا ہے تو تھانے ضلع میں کیو  ں نہیں؟‘‘
اقلیتی طلبہ کیلئے   اسکالر شپ پر ایک نظر 
 اقلیتی طبقے:مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ، جین اور  پارسی  طبقے کے غریب طلبہ کو  مالی مدد فراہم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے  پری میٹرک  ،پوسٹ میٹرک  اور میٹرک کم مینس اسکالر شپ  نیز دیگر اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ امسال ان اسکالر شپ کا آن لائن فارم پُر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔    پری میٹرک  اسکالر شپ کے لئے طلبہ ۱۵؍ نومبر تک ، پوسٹ میٹرک اور میٹرک کم مینس اسکالر شپ کیلئے ۳۰؍ نومبر تک آن لائن درخواست دے سکتےہیں۔اس سلسلے مزید معلومات کیلئے  ویب  سائٹ : scholarships.gov.in  سے استفادہ کیاجاسکتا ہے۔
اسکالر شپ کی مختصراً معلومات
(۱)پری  میٹرک اسکالر شپ:
 اسکالر شپ کی رقم:اس اسکالر شپ کے   تحت پہلی تا پانچویں جماعت کے طلبہ کو سالانہ ایک ہزار روپے  اور چھٹی تا دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ کو سالانہ ۵؍ ہزار روپے دیئے جاتے ہیں۔ چونکہ ممبرا کوسہ سے سب سے زیادہ فارم اسی اسکالر شپ کے پُر کئے جاتے ہیں اسی لئے اس کالم میں پری میٹرک  اسکالر شپ کے بارے میں ہی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ 
شرائط : پری میٹرک اسکالر شپ حاصل کرنے کیلئے طالب علم کے خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہونا لازمی ہےساتھ ہی طالب علم یا طالبہ کا گزشتہ  سالانہ امتحان ۵۰؍ فیصد یا اس سے زیادہ مارکس کے ساتھ کامیاب ہونا ضرور ی ہے۔
(۲) پوسٹ میٹرک اسکالر شپ:
اسکالر شپ کی رقم:اس اسکالر شپ کے تحت گیارہویںاور بارہویں جماعت کے طلبہ کو سالانہ ۶؍ہزار روپے، انڈرگریجویٹ طلبہ کیلئے  ۶؍ ہزار تا ۱۲؍ ہزار روپے دیئے جاتے ہیں۔
شرائط : درخواست گزار طالب علم یا طالبہ کے خاندان کی سالانہ آمدنی ۲؍ لاکھ روپے سے کم ہونا لازمی ہے ساتھ ہی گزشتہ  سالانہ امتحان ۵۰؍ فیصد یا اس سے زیادہ مارکس کے ساتھ کامیاب ہونا ضرور ی ہے۔
(۳) میرٹ کم مینس اسکالر شپ:
اسکالر شپ کی رقم: اس اسکالر شپ کے   تحت پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورس کے طلبہ کو سالانہ ۲۵؍  ہزار تا ۳۰؍ ہزار روپے  دیئے جاتے ہیں۔
شرائط : درخواست گزار طالب علم یا طالبہ کے خاندان کی سالانہ آمدنی ڈھائی  لاکھ روپے سے کم ہونا لازمی ہے اور گزشتہ  سالانہ امتحان ۵۰؍ فیصد یا اس سے زیادہ مارکس کے ساتھ کامیاب ہونا ضرور ی ہے۔

mumbra Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK