ممبرا : حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال میں ڈائیلیسس کی معیاری سہولتیں

Updated: November 12, 2022, 9:45 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

شملہ پارک علاقے میں واقع ’مجاہد آزادی حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال (کوسہ اسپتال) میں ڈائیلیسس یونٹ میں مشینوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے ا

Patients are undergoing dialysis at Hakeem Ajmal Khan Hospital.
حکیم اجمل خان اسپتال میں مریضوں کا ڈائیلیسس کیا جارہا ہے۔ (تصویر: انقلاب)

شملہ پارک علاقے میں واقع ’مجاہد آزادی حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال (کوسہ اسپتال) میں ڈائیلیسس یونٹ میں مشینوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب مریضوں کا ۱۰؍ مشینوں پر ڈائیلیسس کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں ۱۰؍ ویں مشین کا افتتاح   مقامی رکن اسمبلی  جتیندر اوہاڑ کے ہاتھوںہوا۔اس سینٹر میں ان  غریب مریضوں کو سال بھر ڈائیلیسس کی مفت سہولت دی جارہی ہے جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہے ۔
 تھانے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کوسہ میونسپل اسپتال کےڈائیلیسس  یونٹ کی نگرانی کرنے کا ذمہ ’اپیکس کڈنی کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ ‘کو دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے ڈائیلیسس کے نگراں ڈاکٹرسنیل بھویئر نے بتایا کہ’’ ۱۱؍ جولائی ۲۰۲۲ء سے اس یونٹ میں  ڈائیلیسس کی ۵؍ مشینیں تھیں جو،اب  ۱۱؍ ہوگئی ہیں ۔ البتہ بیک وقت ۱۰؍ مشینوں پر مریضوں کا ڈائیلیسس کیا جاتا ہے اور ایک مشین ہنگامی حالات کیلئے اضافی رکھی گئی ہے۔ اس یونٹ میں ۳؍ شفٹ صبح ۷؍ تا  ۱۱؍ بجے، صبح ۱۱؍ تا دوپہر ۲؍ بجے اور دوپہر ۲؍ تا شام  ۵؍ بجے   ڈائیلیسس کیا جاتا ہے۔ مریضوں کی پہلے ضروری طبی جانچ کی جاتی ہے پھر ڈائیلیسسکی اجازت دی جاتی ہے۔کئی غریب مریض ایسے ہیں جو پہلے ممبئی کے  اسپتالوں میں  ڈائیلیسس کراتے تھے لیکن اب یہاں انہیں یہ سہولت مفت مہیا کرائی گئی ہے اور وہ بھی کسی پرائیویٹ اسپتال کے ڈائیلیسس سینٹر جیسی سہولتوں کے ساتھ اس لئے وہ یہاں منتقل ہو گئے ہیں۔ ایک ڈاکٹر ، ۴ ؍ سینئر ٹیکنیشین  اور  ۳؍ ٹیکنیشین  مریضوں کی نگرانی کرتے  ہیں۔  فی الحال ایک لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدنی والے مریضوں کا ہی  ڈائیلیسس بالکل مفت کیا جارہا ہے  اور ایک تا ۸؍ لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی والے مریضوں  سے ۵۰؍ فیصد چارج لیا جارہا ہے۔
 اس ضمن میں جتیندر اوہاڑ نے یقین دلایا ہے کہ اسپتال مکمل طور پر شروع ہونے پر غریبوں کا علاج بالکل مفت کیاجائے گا۔
  جس وقت نمائندۂ انقلاب گزشتہ روز دوپہر ڈھائی بجے اس یونٹ میں پہنچا  تو دیکھا کہ وہاں ۱۰؍ بیڈ پر مریضوں کا ڈائیلیسس کیا جارہا ہے۔ ان میں ایک  رکشا ڈرائیور تھا جو گردہ کی خرابی کے سبب کام نہیں کرپا رہا ہے ۔ یہ مریض ممبرا میں رہتا ہے اور پہلے واڈیا اسپتال(ممبئی ) میں ڈائیلیسس کرانے جاتا تھا جس کی وجہ سے اسے آمد ور فت میںپریشانی ہوتی تھی لیکن کوسہ میونسپل اسپتال میں یہ سہولت شروع ہونے پر اب وہ یہاںہفتے میں ۳؍ مرتبہ ڈائیلیسس کرانے آتا ہے۔
  اسی طرح ایک خاتون جو اپنے شوہر سے علاحدہ ہوکر اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے،  نے بھی بتایا کہ اسپتال میں بہتر سہولتوں کے ساتھ ڈائیلیسس کیا جارہا ہے۔ ان دونوں ہی مریضوں نے تصدیق کی کہ ان سے کوئی چارج نہیں لیا جارہا ہے۔ایک معمر خاتون بھی  اسی بیچ میں ڈائیلیسس کرارہی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK