مسجد قوت اسلام سے متعلق عدالتی فیصلےکا مسلم تنظیموں نے خیر مقدم کیا

Updated: December 01, 2021, 7:50 AM IST | new Delhi

دہلی میں قطب مینار کے احاطے میں قائم مسجد کو ہندوتوادی گروپ نے مندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی تحویل میں دینے کا مطالبہ کیا تھا، عدالت نے اس عرضی کو مسترد کردیا

Quwwat Ul Islam Mosque in the compound of Qutb Minar
قطب مینار کے احاطے میں قائم مسجد قوت الاسلام

ہلی کی ایک عدالت نے قطب مینار کمپلیکس میں واقع قوت الاسلام مسجد پر دعویٰ کرنے والے سخت گیر ہندوتوادیوں کے ایک گروپ کی طرف سے دائر سول سوٹ کو خارج کر دیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسجد کو اس گروپ کے حوالے کر دیا جائے اور وہاں مورتی پوجا کی اجازت دی جائے۔ مسلم تنظیموں نے اس فیصلے کاخیر مقدم کرتے ہوئے مسلمانوں سے کسی بھی قسم کے رد عمل سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔  
 عرضی گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مسجد کو غور کے مسلم حکمراں  محمد نے جین اور ہندو مندروں کو منہدم کرنے کے بعد تعمیر کیا تھا۔   ساکیت کورٹ نمبرکی جج نیہا شرما نے پیر کو سی پی سی کے تحت  اس سول سوٹ کو خارج کردیا جو ہری شنکر جین، رنجنا اگنی ہوتری اور جتیندر سنگھ `وشن وغیری کی جانب سے داخل کی گئی تھی۔اس معاملے میں’لیگل ایکشن فار جسٹس ٹرسٹ‘ نے بھی عدالت میں  ایک فریق بنائے جانے کی درخواست دائر کی تھی۔  اس کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ نے ایک اوردرخواست داخل کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ مدعیان کیلئے اس معاملے میں مقدمہ دائر کرنےکی کوئی وجہ نہیں ہےکیونکہ یہ مقدمہ قدیم یادگار سے متعلق ایکٹ یا پھر عبادت گاہوں کے ایکٹ۱۹۹۱ء سے متصادم اور اس کے برخلاف ہے۔  ’لیگل ایکشن فار جسٹس ٹرسٹ‘ نے کہا کہ یہ مقدمہ قابل سماعت ہی نہیں ہے،اسلئے   انہیں خارج کیا جانا چاہئے۔
 لیگل ایکشن فار جسٹس ٹرسٹ کے سیکریٹری  ایڈوکیٹ محمد انور صدیقی نے بتایا کہ ان کی جانب سے عدالت میں دلیل پیش کی گئی کہ قطب مینار اور اس کے پورے کمپلیکس کو حکومت ہند  نے۱۶؍ جنوری۱۹۱۴ء کو ایک سرکاری گزٹ شائع کرکے اسے محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ اُس وقت (بلکہ اس سے۸۰۰۔۷۰۰) سال قبل تک) اس عمارت میں کسی بھی مذہبی گروپ کی طرف سے کوئی عبادت نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح کسی نے بھی ۱۹۱۴ء یا اس کے بعد کے تین سال تک کسی عمارت کو۱۹۰۴ء کے ایکٹ کے تحت محفوظ قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے یا اس میں  عبادت کرنے کیلئے اپنے حق کو بحال کرنےسے متعلق کوئی  عرضی داخل نہیں کی تھی۔محمد انورصدیقی کے مطابق ٹرسٹ نے عدالت کو مزید بتایا کہ نوٹیفکیشن کے تقریباً۱۰۶؍ سال بعد، عبادت کا حق حاصل کرنے کا مطالبہ ’’غیر معقول اور غیر قانونی‘‘ ہے۔اسی طرح عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ قطب مینار کی تعمیر سے قبل یا بعد میں کمپلیکس میں مندر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
 اس فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے آل انڈیا ملیّ کونسل کے سربراہ ڈاکٹرمحمد منظورعالم نےکہاکہ ’’ مسجدقوت الاسلام کے تعلق سے عدالت فیصلہ حقیقت ،سچائی ، اصول اورقانو ن کا آئینہ دار ہے ۔ شرپسندوںنے جس طرح سے اپنی عرضی میںشوشہ چھوڑا تھا، عدالت نے اسے خارج کردیا اورمسجد کی حیثیت پر فیصلہ صادر کیا۔ اس سے جہاں مسلمانوں کواطمینان ہوا وہیں عدلیہ کاوقاربھی بلند ہوتا ہے اورعوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔‘‘
 مجلس مشاورت کے سربراہ نوید حامد نے کہا کہ ’’مسجد قوت الاسلام کے تعلق سے دہلی عدالت کا فیصلہ بہت واضح اوراس قانون پر ایک طرح سے مہر بھی ہے جو۱۹۴۷ء کے وقت عبادت گاہوں کی حیثیت جو ںکا توں رکھنےکے تعلق سے بنایا گیا تھا۔ ہمیںیہ بھی سوچناچاہئے کہ آخرہندتوا وادی طاقتیں اس طرح کے شوشے کیوں چھوڑتی رہتی ہیں؟ دراصل یہ طاقتیں کسی نہ کسی انداز میںمسلمانوںکے حوالے سےموضوع تلاش کرتی ہیں اوراس پرمسلمانوںکے ردعمل کے اظہارسے گویا ان کے من کی مراد برآتی ہے۔ اسی لئے ہمارے لئے یہ فیصلہ اطمینان کا باعث تو ہے لیکن ہمیں اس پراپنی جانب سے بیان بازی یا ردعمل سےگریزکرنا چاہئےکیونکہ یہ طاقتیں اسی کی تلاش میں ہیں۔‘‘
 جماعت ِ اسلامی کے نائب امیر مولانا محمدجعفر نے کہاکہ ’’یہ فیصلہ خوش آئند ہے اورہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے ،اس میںکسی کو کوئی اختلاف نہیںہوسکتا ۔عدالت نے اسی اصول پرمہر لگائی ہے جوصحیح اورحق ہے۔‘‘
 مولانا محمدنسیم رحمانی (آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اصلاح معاشرہ کمیٹی کے کنوینر)نے کہاکہ ’’فیصلہ اچھا اورخوش آئند ہے لیکن جن شواہد ،اصول اورقانون کی بنیاد پرعدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے وہ آئندہ بھی برقرار رہے۔ان کے مطابق ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شرپسند عناصر دیگر تاریخی مساجد کے حوالے سے بھی ایسا ہی شوشہ چھوڑتےرہتے ہیںجس سے مسلمان مشتعل ہوں ، اس لئے ہمیشہ عدالت کوحق اور شواہد کی بنیاد پرہی فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو اورشوشہ چھوڑنے والوں کوبھی سبق ملے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK