نوی ممبئی : پانڈوکڑاجھرنے پرآنے والے سیاحوں کو روکنے کیلئے پولیس کی پوسٹر مہم

Updated: July 28, 2021, 7:29 AM IST | Mumbai

کھارگھر پولیس کے ذریعے جاری کردہ پوسٹر پر ان۱۶؍ افراد کے نام لکھے ہیں جو گزشتہ ۲؍ برس کے دوران اس جگہ ہلاک ہوئے ہیں۔ اسے سوشل میڈیا پراپ لوڈ کرکے متنبہ کیا جارہا ہے

On July 19, 150 people were trapped near the waterfall.Picture:Inquilab
انیس جولائی کو ڈیڑھ سو افراد جھرنے کے قریب پھنس گئے تھے۔ تصویر انقلاب

یہاں کھارگھرعلاقے  کے پانڈوکڑاجھرنے  پر ہر ہفتے کے آخری دن کافی لوگ تفریح کیلئے آتے ہیں اور یہاں ڈوبنے کے حادثے بھی پیش آچکے ہیں اس لئے پولیس سیاحوں کو یہاں آنے سے لگاتار روک رہی ہے ، اس کے باوجود لوگ باز نہیں آرہے ہیں۔ یہاں آنے والوں کیلئے یہ جگہ خطرناک ہے اس لئے کھارگھر پولیس نے پوسٹرس چسپاں کئے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسے افراد کے نام  ظاہر کئے ہیں جو حال ہی میں  پانڈوکڑا واٹر فال پر ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے قبل جھرنے کے قریب ۱۵۰؍  افراد پھنس گئے تھے جس کے بعد ایس او ایس جاری کیا گیاتھا۔
 ۱۰۷؍ میٹر اونچے اس جھرنے سے کافی مقدار میں پانی نیچے چٹانی سطح پر گرتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کے سبب مانسون میں لوگ  اہل خانہ کے ساتھ یہاں تفریح کیلئے آتے ہیں اورٹریکرس بھی یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ بھیڑبھاڑ کو روکنے کیلئے ہر سال کھارگھر پولیس اس جگہ پر دفعہ ۱۴۴؍  نافذ کرتی ہے جس کے تحت جھرنے میں داخلہ ۷؍ جون سے ۳۰؍ستمبر تک ممنوع قرار دیا جاتا ہے،  اس کے باوجود لوگ اور سیاح ممنوعہ علاقے میں نظر آتے ہیں۔
 کھارگھر پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر شتروگھن مالی نے اس بارے میں کہا کہ ’’دفعہ ۱۴۴؍ نافذ کرنے کے باوجود ہم  جھرنے کی طرف جانے والی سڑکوں اور اطراف کے علاقے میں بھیڑ دیکھ رہے ہیں۔ ۲۵؍ جولائی کو ہم نے ممنوعہ علاقے میں نظر آنے والے ۵۰؍ سیاحوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ان کے خلاف کورونا گائیڈ لائن کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات کا اطلاق کیا گیا اور ۱۲۰۰؍ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس جگہ سے سیاحوں اور ٹریکرس کو دور رکھنے کیلئے ہم نے پوسٹر کا استعمال کرکے بیداری مہم شروع کی ہے۔‘‘
 اس پوسٹر میں ممبئی اور نوی ممبئی کے ان ۱۶؍ افراد کی فہرست ہے جو گزشتہ ۲؍ برس کے دوران پانڈوکڑا واٹرفال میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس پوسٹر میں لکھا ہے’فہرست میں دیئے گئے افراد میں سے کوئی بھی یہاں مرنے کیلئے نہیں آیا تھا ، وہ اس لئے ہلاک ہوئے کیونکہ پانی کا اندازہ نہیں کرپائے ،  مہربانی کرکے اپنا خیال رکھیں، آپ کی زندگی ایک تصویر سے زیادہ قیمتی ہے۔‘
 سینئر انسپکٹر شتروگھن مالی کے مطابق ’’لوگوں کیلئے یہ مہم جارحانہ ہوسکتی ہے لیکن کئی لوگ اپنی حرکت کی سنگینی کو نہیں سمجھتے۔ مانسون کے دوران یہ علاقہ پھسلن والا  ہوجاتا ہے ، اچانک ہی پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے اورجھرنے کے قریب جمع ہونے والے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ہر ہفتے کے آخر میں  لوگوں کوہم  ممنوعہ علاقے میں جانے سے روکنے کیلئے اس علاقے میںناکہ بندی کرتے ہیں۔ کئی لوگ ہم سے جھرنے کے قریب جانے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ تصاویر لے سکے یا ویڈیو بناسکے۔‘‘
 واضح رہے کہ ۲۴؍ جون کو گوونڈی کا ایک ۱۸؍ سالہ نوجوان پھسل کر پانی میں جاگرا تھا۔ موسم گھارتی اپنے ۵؍ ساتھیوں کے ہمراہ دوپہرتقریباً ساڑھے ۳؍بجے جھرنے پر گیاتھا۔ ان میں سے ۳؍ افراد پانی میں نہانے لگے اور اس دوران گھارتی ڈوب گیا۔ ۱۹؍ جولائی کو ۱۱۶؍ افراد اس وقت پھنس گئے تھے جب نالا جسے پار کرکے وہ جھرنے تک پہنچے تھے ، اچانک پانی سے بھر گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK