سرد پانی میں ماہی پروری کا شعبہ آج ملک کی نیلگوں معیشت کا ایک انتہائی اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 11:46 AM IST | New Delhi
سرد پانی میں ماہی پروری کا شعبہ آج ملک کی نیلگوں معیشت کا ایک انتہائی اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔
سرد پانی میں ماہی پروری کا شعبہ آج ملک کی نیلگوں معیشت کا ایک انتہائی اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ یہ شعبہ پہاڑی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، غذائیت کی سطح میں سدھار کرنے، ماحولیاتی سیاحت (ایکو ٹورازم) کو فروغ دینے اور پہاڑوں کی پائیدار ترقی میں تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔ کبھی ہمالیہ کی ندیوں میں روایتی طور پر مچھلی پکڑنے تک محدود رہنے والا یہ شعبہ، آج سائنسی کاشت کاری اور جدید بنیادی ڈھانچے کی بدولت ایک جدید ترین آبی زراعت کے ماحولیاتی نظام (ایکوا کلچر ایکو سسٹم) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملک کے اونچے پہاڑی علاقوں میں برف سے ڈھکی ندیوں، جھرنوں، جھیلوں اور تالابوں میں سرد پانی کا مچھلی پالن کیا جا رہا ہے۔ اس کیلئے مثالی درجہ حرارت۵؍ ڈگری سے۲۵؍ ڈگری کے درمیان، گھلی ہوئی آکسیجن۶؍ ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ اور پی ایچ کی سطح ۶ء۵؍ سے۸؍ کے درمیان ہونا لازمی ہے۔ موجودہ وقت میں رینبو ٹراؤٹ، گولڈن مہاسیر اور اسنو ٹراؤٹ جیسی قیمتی مچھلیوں کو جدید ہیچریوں، ریس وے، آر اے ایس، بائیو فلاک نظام اور کولڈ چین جیسی خصوصی سہولیات کے ذریعے پالا جا رہا ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش عام طور پر۱۵۰۰؍ میٹر سے زیادہ کی بلندی پر ہوتی ہے جبکہ مہاسیر کی افزائش کم بلندی والے علاقوں میں زیادہ کامیاب رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مودی کے اٹلی دورہ میں اسرائیل کاکنکشن!
سرد پانی کا مچھلی پالن اب جموں کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اروناچل پردیش، سکم، میگھالیہ اور ناگالینڈ کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال، کیرالا، کرناٹک اور تمل ناڈو کے پہاڑی اضلاع میں تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ یہ پورا نظام مل کر ۵ء۳۳؍ لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ کے پہاڑی علاقے کا احاطہ کرتا ہے۔ ہندوستان نے اب تک سرد پانی کی۲۷۸؍ سے زیادہ مچھلیوں کی اقسام کی شناخت کی ہے، جس سے یہ شعبہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اورماحول دوست کیلئے بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ ۲۵۔۲۰۲۴ء کے دوران ملک میں مچھلیوں کی کل پیداوار تقریباً۱۹۷ء۷۵؍ لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔