گجرات کی انتخابی مہم میں کانگریس کی نئی حکمت عملی،بڑی بڑی ریلیوںکےبجائے گھرگھر پہنچنے پر توجہ مرکوز

Updated: November 27, 2022, 11:13 AM IST | saeed Ahmed | surat

مگر رائے دہندگان کے ذہنوںکو ٹٹولنا مشکل۔آسمان چھوتی مہنگائی ،بے روزگاری اورملازمتوںکےفقدان سےتوجہ ہٹانے کیلئے ووٹروں کو فرقہ وارانہ خطوط میں تقسیم کرنے کی کوشش تاہم کامیابی کا امکان کم

On the occasion of Modi`s rally, masks and party symbols were placed on chairs for the public.
مودی کی ریلی کے موقع پر عوام کیلئے کرسی پر رکھا گیا ماسک اور پارٹی نشان۔

گجرات میں  پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں چونکہ اب ۴؍ دن ہی  رہ گئے ہیں اس لئے سیاسی جماعتیں ہر طرح سے ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ پارٹی کارکن اور یومیہ اجرت پرالیکشن کا کام کرنے والے افراد اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ کانگریس کے لیڈروں اور   امیدواروں کا کہنا ہےکہ انہوںنے اس دفعہ حکمت ِ عملی تبدیل کی ہے۔  سڑکوں پربڑی بڑی ریلیوں یا شور شرابے کےبجائے گھرگھرپہنچنے اورمحلے کی سطح پرچھوٹی چھوٹی میٹنگوں میں لوگوں سے رابطہ قائم کرنے اوران کے مسائل کوسمجھنے کی کوشش کی  جارہی  ہے جس کااچھا اثر ہوا ہے۔ کہا جارہا ہےکہ لیڈران کی بھاری بھرکم فوج نہ اتارنا بھی کانگریس کی حکمت ِ عملی کاحصہ ہے تاکہ مقامی لیڈر اورجنہیںالیکشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ مقامی سطح پرباہمی تال میل سے رائے دہندگان تک آسانی سے پہنچیں اوران کے مسائل سمجھنےکی کوشش کرتے ہوئے کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔
 رائے دہندگان سے بات چیت کرنے پر  محسوس ہوا کہ ان کی تین اقسام ہیں۔ اول جوالگ الگ سیاسی جماعتوں سے لگاؤ رکھتےہیں وہ اسی  انداز میںگفتگو کرتے ہیں۔  دوسرے ووٹروں کا طبقہ وہ ہے جو مسائل پرگفتگو کررہا ہے اوراپنی ناراضگی بیان کرتا ہے اورتیسرا طبقہ وہ ہے جوناراض ہے ،پریشان ہے اورحکومت کی غفلت اور ۲۷؍ برس سے محض  وعدوں اورجھوٹی تسلی برداشت کررہا ہے ، وہ کھل کرتو کچھ نہیں کہہ رہا ہے مگرمحسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ طے کرچکا ہےکہ ’’کہیںگے نہیںبلکہ ووٹنگ والےبٹن دباکر فیصلہ سنائیں گے ۔‘‘یہی وہ طبقہ ہے جوسیاسی جماعتوںکی تقدیر لکھنے میںسب سے اہم رول ادا کرے گا۔ 

نمائندۂ انقلاب نے سورت کےنئے اور پرانے شہر کا جائزہ لیا ، لوگوں سے ملاقات کی اورمسائل معلوم کئے تو یہ محسوس ہوا کہ سڑکوں پر الیکشن کا وہ شور جو ۲۰۱۷ء میں تھا اس طرح کی سیاسی ہنگامہ آرائی نہیںہے بلکہ سیاسی جماعتیں پوری احتیاط کے ساتھ ضرب تقسیم کرتے ہوئے حکمت ِ عملی میںمصروف ہیںاوررائے دہندگان کا بڑا طبقہ الیکشن کے ہنگامے سے پرے روزی روٹی کے حصول میںعام دنوں کی طرح تگ ودو کرمیں مصروف ہے ۔ 
  نئے شہر کے حصے سے شب میںساڑھے دس بجے گزرتے ہوئے کورٹ صفیل روڈ نوساری بازار بی جے پی کا الیکشن کے لئے بنایا گیا صدر دفتر نظرآیا۔ یہاں وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امیت شاہ اورگجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیند ر پٹیل کے لائن سے کٹ آؤٹ کھڑے کئے گئے ہیں اور۶۰؍ ۷۰؍ نوجوانوں کا عملہ کاغذات اورناموں کی فہرست اوردیگر وہ ذمہ داریاں جو اسے دی گئی ہیں،دیکھنے اوردرست کرنے میں مصروف دکھائی دیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے بی جے پی اورسنگھ کاگڑھ کہا جاتا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی، مرلی منوہر جوشی ، ایل کے اڈوانی، پروین توگڑیااور نریندر مودی یہیں سے اپنی انتخابی اورغیر انتخابی ریلیوں کا آغاز کیا کرتے تھے۔ 
 سورت کے مشہور جھانپا بازار میں عام آدمی پارٹی کی ریلی دکھائی دی جو۸؍ سے۱۰؍موٹر سائیکلوں پر مشتمل تھی۔ عام آدمی پارٹی بھی چھوٹی چھوٹی نشستوں کےذریعے عوام تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے سی ایم چہرہ کی جانب سے ووٹ دینے کی اپیل کے ساتھ بار باریہ دہرایاجارہا ہے اوران کا پیغام ورکروں کے ذریعے رائے دہندگان تک پہنچایا جارہا ہے کہ عام آدمی کی کامیابی کے بعد ۱۵؍نومبر کوکابینہ کی بیٹھک ہوگی اورپہلی میٹنگ میں ہی بجلی بل معاف کرنے کے وعدے پرعمل درآمد ہوجائے گا۔
 لوگوںکاکہنا ہےکہ بی جے پی کو جب بھی  ناکامی کا اندیشہ ہوتا ہے تووہ آخری وقت میں ووٹروں کوہندو مسلم کے نا م پرتقسیم کرتی ہے اورکمیونل کارڈ کھیلتی ہے۔ یہ کوشش گجرات میں بھی کی جارہی ہے اورخود اعلیٰ لیڈرکررہے ہیں مگر   یہ کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے بلکہ آسمان چھوتی مہنگائی ،بیروزگاری، ملازمتوں کا فقدان اوردیگر عوامی مسائل حاوی ہیں ۔
 مہنگائی ،بےروزگاری ، بہترتعلیم اورصحت عامہ کا نظام، نالی گٹراورپانی جیسے مسائل تو ہیںہی، کپڑے کی تجارت ہو یا ہیرے کا کاروباریا ہوٹل کا کاروبار ،جس نے سورت کوملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پرایک الگ پہچان دلوائی ہے ۔ ان صنعتوں کابرا حال ہے اورجی ایس ٹی نے تاجروں کی کمرتوڑ دی ہے۔ان کی حالت یہ ہےکہ اگران کوراحت دینے کے لئے کوئی الگ سسٹم نہ بنایاگیاتوشاید تاجر تنگ آکرکسی اور کاروبار کی جانب رخ کرنے پر مجبور ہوں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK