’’مغربی کنارہ کا یہودی آباد کاری کا نیا منصوبہ واپس لیا جائے‘‘

Updated: May 15, 2022, 9:50 AM IST | Jerusalem

فرانس، جرمنی ،بلجیم ،ڈنمارک سمیت کل ۱۵؍ یورپی ممالک نے اسرائیل سےمطالبہ کیا

Israel has forcibly built several such settlements in the West Bank. File photo
مغربی کنارہ میں اسرائیل نے اس طرح  جبراًکئی بستیاں بنائی ہیں۔ فائل فوٹو

: یورپ کے۱۵؍ ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں۴؍ ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹوں کی تعمیر کا منصوبہ واپس لے۔ ان ممالک میں فرانس، جرمنی اور اٹلی شامل ہے۔ جمعہ۱۳؍مئی ۲۰۲۲ءکو جاری ایک مشترکہ بیان میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’’اسرائیلی منصوبہ بندی کونسل کی جانب سے مغربی کنارے میں ۴؍ ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری پر ہم اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اسرائیلی حکام سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
 وزرائے خارجہ نے بیان میں تل ابیب سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مغربی کنارے بالخصوص ’مسافر یطا‘ میں گھروں کے انہدام اور جبری بے دخلی کی کارروائیاں بند کی جائیں۔بدھ کے روز اسرائیلی عدالت نے فوج کے اس موقف کی تائید کر دی تھی کہ مغربی کنارے کے جنوب میں مسافر یطا کا علاقہ۱۹۸۰ء سے عسکری تربیت کا زون ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے علاقے کی آبادی کو بے دخل کرنے اور نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ مسافر یطا کے علاقے  کے اندر۱۲؍ فلسطینی دیہات آتے ہیں۔بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر دو ریاستی حل کے راستے میں اضافی رکاوٹ بن جائے گی۔ مزید یہ کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے ، یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بیچ جامع ، مستقل اور منصفانہ امن کے آڑے آ رہی ہیں۔

 یہ مشترکہ بیان فرانس ، بلجیم ، ڈنمارک ، فن لینڈ ، پولینڈ ، جرمنی ، یونان ، آئرلینڈ ، اطالیہ ، لیگزمبرگ ، مالٹا ، ہالینڈ ، ناروے ، ہسپانیہ اور سویڈن کے وزرائے خارجہ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیا گیا ہے ۔

israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK