نیوزی لینڈ نے خاتون رپورٹر کو آنے سےمنع کیا ،طالبان نے پناہ دی

Updated: January 31, 2022, 11:47 AM IST | Agency | Kabul

حاملہ صحافی کو کورونا کے تحت نافذ پابندیوں کی وجہ سے خود اس کے ملک نے آنے نہیں دیا، طالبان سے رجوع کرنے پر رہائش کی اجازت مل گئی

New Zealand journalist seeking refuge in Afghanistan.Picture:INN
افغانستان میں پناہ لینے والی نیوزی لینڈ کی صحافی۔ تصویر: آئی این این

نیوزی لینڈ کی حاملہ صحافی نے کہا ہے کہ ان کے اپنے ملک کی جانب سے کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ان کو ملک واپس آنے سے روکنے کے بعد وہ افغانستان میں پھنسی ہوئی ہیں اور انہوں نے مدد کے لیے طالبان سے رجوع کیا ہے۔ خبروں کے مطابق نیوزی لینڈ ہیرالڈ میں شائع اپنے ایک مضمون میں شارلٹ بلیز کا کہنا ہے کہ یہ بہت ستم ظریفی ہےکہ کبھی وہ طالبان کے خواتین کے ساتھ سلوک کے بارے میں سوال اٹھاتی تھیں اور اب وہ اپنی حکومت کے خواتین کے ساتھ رویے کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہیں۔شارلٹ بلیز نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ جب طالبان ایک غیر شادی شدہ، حاملہ خاتون کو محفوظ پناہ دیتے ہیں اس سے آپ کا مؤقف کمزور ہوتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے کورونا وائرس ریسپانس کے وزیر کرس ہپکنز نے ہیرالڈ کو بتایا کہ انہوں نے حکام سے کہا ہے کہ کیا شارلٹ بلیز کے کیسز میں مناسب طریقہ کار پر عمل کیا ہے جسے ابتدائی طور پر دیکھنے سے لگتا ہے کہ معاملے کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچھے انتظامات کیے ہیں ۵۰؍لاکھ کی آبادی کے ملک نیوزی لینڈ میں وبا کے دوران صرف ۵۲؍ اموات ریکارڈ ہوئیں۔تاہم قومی سطح پر پابندی ہے کہ ملک کے اپنے شہری بھی ملک واپسی پر افواج کے زیر انتظام قرنطینہ ہوٹلز میں۱۰؍روزعلاحدگی میں گزاریں گے جس کی وجہ سے وطن واپس آنے والے ہزاروں لوگ جگہ ملنے کے انتظار میں ہیں۔بیرون ملک برے حالات میں پھنسے شہریوں کی کہانیاں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور ان کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے لیکن شارلٹ بلیز کی صورتحال خاص طور پر کافی الگ ہے۔گزشتہ سال امریکی افواج کے انخلا کی کوریج کے لیے وہ الجزیرہ کے لیے کام کر رہی تھیں اور انہوں نےطالبان سے ان کے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق سوالات پوچھ کر عالمی توجہ حاصل کی تھی۔اپنے کالم میں انہوں نے کہا کہ جب وہ ستمبر میں قطر گئیں تو انہیں اپنے ساتھی کے ساتھ حاملہ ہونے کا معلوم ہوا جو نیویارک ٹائمز کے ساتھ کام کرنے والے ایک فری لانس فوٹوگرافر ہیں۔ انہوں نے اپنے حاملہ ہونے کو ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈاکٹرز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کے بچے نہیں ہوسکتے، اب وہ مئی میں بچی کو جنم دیں گی۔شارلٹ بلیز کا کہنا ہے کہ قطر میں بغیر شادی کے جنسی تعلقات غیر قانونی ہیں اس لیے انہوں نے سوچا کہ انہیں واپس جانا چاہیے، انہوں نے کئی مرتبہ نیوزی لینڈ کے قرعہ اندازی کے نظام کے تحت بھی وطن واپس جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکیں۔ شارلٹ بلیز نے بتایا کہ انہیں طالبان نے کہا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ آپ شادی شدہ ہیں اور اگر کوئی سنگین معاملہ ہو تو ہمیں آگاہ کریں اور پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے افغانستان میں نیوزی لینڈ کے حکام کو۵۹؍دستاویزات بھیجے لیکن انہوں نے ہنگامی واپسی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ نیوزی لینڈ کے قرنطینہ سینٹر اور قرنطینہ نظام کے مشترکہ سربراہ کرس بنی نے ہیرالڈ کو بتایا کہ شارلٹ بلیز کی ہنگامی درخواست اس شرط کے تحت نہیں آتی جس کے مطابق وہ۱۴؍دن کے اندر سفر کریں۔انہوں نے کہا کہ حکام نے شارلٹ بلیز سے رابطہ کیا ہے اور ان سے مطلوبہ شرائط کے مطابق درخواست تیار کرنے کو کہا ہے۔کرس بنی نے لکھا کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے اور نیوزی لینڈ کے مشکل میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی ٹیم کی ایک مثال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK