افغانستان کے ۳۱؍ صوبوں میں شبینہ کرفیو نافذ

Updated: July 26, 2021, 1:49 PM IST | Agency | Kabul

افغان حکومت کے مطابق طالبان کے حملوں اور ان کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہے

Picture.Picture:INN
ملک کے بیشتر علاقوں میں افغان فوج نے سیکوریٹی اقدامات بڑھا دیئے ہیں۔۔تصویر: آئی این این

:افغان حکومت نے طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ختم کرنے اور حملوں کو روکنے  کے لئے ملک بھر میں رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔ تاہم اس کا اطلاق کابل اور ننگرہار اور پنج شیرصوبوں میں نہیں ہوگا۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے ۳۱؍ صوبوں میں رات ۱۰؍ بجے سے صبح ۴؍  بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد طالبان کے حملوں اور ان کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔اس فیصلے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کابل میں وزارت داخلہ کے نائب ترجمان احمد ضیا  کی طرف سے میڈیا  کیلئے ایک  آڈیو بیان بھی جا ی کیا گیا۔
 افغان فورسیز  کے طالبان کے ٹھکانوں پر حملے 
 دوسری جانب افغان وزارت دفاع کا یہ بھی  کہنا ہے کہ تمام صوبوں میں طالبان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، افغان فورسیز ہر طرح سے مسلح ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر طالبان کے زیر اثر علاقوں کا کنٹرول حکومت سنبھال رہی ہے۔افغان سیکیورٹی فور سیز کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ۲۴؍گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں ۲۶۲؍ طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔افغانستان کے وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ ہلمند صوبے میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے ہوائی حملوں میں ۲۵؍ جنگجو مارے گئے ۔وزارت دفاع کے بیان کے مطابق جنگی طیاروں نے سنیچر کی دیر رات ناد علی اور سنگین اضلاع کے کچھ حصوں میں طالبان  کے ٹھکانوں پر حملہ کیا جس میں ۲۵؍  طالبان مارے گئے۔ علاوہ ازیں  شمالی بلخ صوبے کے کالدار اور چمتال اضلاع میں بھی ۸۱؍ جنگجوؤں کو ڈھیر کرنے اور متعدد ہوائی حملے میں طالبان  کے ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی تباہ ہو گیا ہے۔تاہم طالبان نے ان  ہلاکتوں کو مسترد کردیا ہے۔
امریکہ کی طالبان سے `سنجیدہ مذاکرات کی  اپیل 
 امر یکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہوں۔امریکہ نے یہ اپیل طالبان کے ا س  موقف  کے تناظر میں کی ہے جس میں طالبان نے افغانستان میں اشرف غنی  کے مستعفی ہونے اور نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ  تب     امن کی کوششوں ممکن نہیں  ہے۔ افغان حکومت اس مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔ 
  امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر نے کہاکہ ہم طالبان سے افغانستان کے مستقبل کے لئے ایک سیاسی روڈ میپ طے کرنے کے لئے `سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں  تاکہ  جس کے ذریعے ایک منصفانہ اور دیرپا حل نکل سکے۔پورٹر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان تنازع میں امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ ترجمانوں اور دیگر افغانیوں کے خلاف تشدد اور مظالم کی حالیہ اطلاعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  طالبان  انسانی حقوق کا بہت کم احترام کر ر ہے ہیں۔ہم ان ہدف بنا  کر  کئے گئے حملوں  میں اہم انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ  افغانستان کے عوام پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ امریکہ کی اس اپیل  پر طالبان کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK