تعلیمی تنظیموں سے ناراض اساتذہ کی ’ نو یونین نو لیڈر‘ مہم

Updated: August 24, 2022, 10:16 AM IST | saadat khan | Mumbai

ساتویں پے کمیشن کے مطابق تنخواہ نہ ملنے کے سبب اساتذہ میں بے چینی ، مگر تعلیمی تنظیمیں نہ احتجاج کر رہی ہیں نہ کوئی اہم اقدام، اساتذہ خود میدان میں، کو آرڈی نیشن کمیٹی قائم

Teachers handing over a memorandum to Member of Assembly Ram Kadam
اساتذہ رکن اسمبلی رام کدم کو میمورنڈم دیتے ہوئے ( تصویر: انقلاب)

 بی ایم سی کی امدادیافتہ نجی پرائمری اسکولوں کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ساتویں پےکمیشن کے مطابق تنخواہ نہ ملنے سے شہرومضافات کے ان اسکولوں کے سیکڑوں اساتذہ ناراض ہیں۔اس ضمن میں گزشتہ ۳؍سال سے تعلیمی تنظیمیںلاکھ کوششوں کےباوجود ٹیچرس کو نئے ضابطے کے تحت تنخواہ دلانے میں ناکام ہے۔اس سے مایوس ہو کر تقریباً ۷؍ہزار اساتذہ نے ان تنظیموں کا دامن چھوڑکر اپنے طورپر ’’نویونین نولیڈر‘‘ مہم شرو ع کی ہے جس کےذریعے اساتذہ ممبئی کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کرکے اس مسئلہ کو خود ہی حل کرنےکی کوشش کریں گے۔
 اس ضمن میں ممبئی نجی پرائمری تدریسی وغیر تدریسی عملے کی ایک کوآر ڈی نیشن کمیٹی بنائی گئی ہے  جس کے رکن پربھاکر داتے نے بتایاکہ ’’برہن ممبئی کی نجی پرائمری اسکولوں کاعملہ بی ایم سی اسکولوں کے عملے کی طرح پرائمری اسکولو ںکے طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری اداکرتاہے۔ بی ایم سی اسکولوں کے عملے کو۲۰۱۶ ءمیں ساتویں پےکمیشن کے مطابق تنخواہ دینےکا اعلان کیا گیا تھا۔ اس پر ۲۰۱۹ءسے عملدرآمدہوا۔ ساتھ ہی ۲۰۱۶ء تا ۲۰۱۸ء کا ایریرس ( بقا یاجات ) بھی انہیں ان کی تنخواہ کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔مگر نجی پرائمری اسکول کے اساتذہ کو ابھی تک ساتویں پےکمیشن کے مطابق تنخواہ  نہیں دی جارہی ہےجس کی وجہ سے ان اسکولوںکے اساتذہ میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ ‘‘
  انہوںنےکہاکہ ’’ بی ایم سی کی ۹؍اپریل ۱۹۷۹ء کی تجویز نمبر ۹۸؍اور ایجوکیشن کمیٹی کی ۱۶؍جولائی ۱۹۷۹ء کی تجویز نمبر ۴۸۸؍ کےمطابق نجی پرائمری اسکولوں کے عملے کی تنخواہ بھی بی ایم سی عملے کےمطابق ہونی چاہئے۔ ا ن تجاویز کے مطابق نجی پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو بھی جنوری ۲۰۱۹ء سے ساتویں پےکمیشن کےمطابق تنخواہ ملنی چاہئےتھی۔ مگر ۳؍سال گزر جانےکےباوجود ہمیں  بی ایم سی اور ریاستی محکمہ ٔ  تعلیم ساتویں پےکمیشن کے مطابق تنخواہ نہیں دے رہی ہے ۔اسکےباوجود ہم کسی طرح کا احتجاج نہیں کررہےہیں۔ ہماری تدریسی خدمات جار ی ہیں۔حالانکہ ۲۰۰۵ءمیں جب چھٹا پے کمیشن نافذ ہوا تھا۔ اس وقت ہماری تنخواہ میں چھٹے پے کمیشن کے مطابق اضافہ ہوا تھا مگر ساتویں پے کمیشن  کے وقت  نجی پرائمری اسکولوںکے اساتذہ کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا جا رہاہے۔‘‘
  اسی کمیٹی کی ایک رکن کمود ٹھکر نے بتایاکہ ’’ ۲۰۱۹ء سے متعدد تعلیمی تنظیمیں بی ایم سی اورریاستی حکومت سےاس بارےمیں بات کررہی ہیں مگر ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے پرائیویٹ پرائمری اسکولوںکے ۵؍ تا ۷؍ ہزار عملےمیں مایوسی آگئی ہے۔ اسلئے ان اسکولوںکے عملے نےفیصلہ کیاہے کہ وہ اپنی لڑائی خود لڑیں گے۔ اسی غرض سے ہم نےایک کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی ہے جس کےمعرفت ’’نویونین نولیڈر‘‘مہم شروع کی گئی ہے۔ چونکہ ہمارا معاملہ کی فائل ریاستی محکمہ کے دفتر میںبھی ہے ، اسلئے ہم ممبئی کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کرکے انہیں بتارہےہیں کہ قانونی طورپر بی ایم سی کے اسکولی عملے کی طرح ہمیں بھی ساتویں پے کمیشن کے مطابق تنخواہ ملنی چاہئے ۔ ابھی تک ہم نے رکن اسمبلی آشش شیلار، منگیش کڈالکر ، بھرت گوگائولےاور رام کدم سے ملاقات کی ہے۔ان ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ اسمبلی میں وہ ہمارامعاملہ اُٹھائیں اور یہ مسئلہ حل ہوسکے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK