گوونڈی ڈمپنگ گراؤنڈ پراب ویسٹ ٹو اینرجی پلانٹ

Updated: August 29, 2022, 11:05 AM IST | Agency | Govandi

علاقے کے رہنےو الوں اور عوامی نمائندگان نے اس پلانٹ کی مخالفت کی ، گوونڈی نیوسنگم ویلفیئر سوسائٹی نے قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان کیا ہے

 Govandi Dumping Ground where it has been announced to set up a waste to power plant.Picture:INN
گوونڈی ڈمپنگ گراؤنڈجہاں کچرے سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تصویر:آئی این این

یہاں کے گوونڈی ڈمپنگ گراؤنڈ میں کوڑا کرکٹ سے بجلی تیار کرنے کیلئے ’ویسٹ  ٹو اینرجی پلانٹ‘ شروع کرنے کو منظوری دے دی گئی ہے۔  اس نئے پلانٹ کی تنصیب کا کام بھی شروع ہوچکاہے۔ تاہم گوونڈی اور مانخورد میں رہنے والے افراد اور عوامی نمائندگان اس پلانٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کادعویٰ ہے کہ اس پلانٹ کے ذریعہ بھی  بائیو ویسٹ پلانٹ کی طرح  متعدد  بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے ۔   خیال رہے کہ علاقے کے مکین اور عوامی نمائندگان گوونڈی ڈمپنگ گراؤنڈ سے ملحق  ’بائیو ویسٹ پلانٹ ‘کو دوسرے علاقے میں منتقل کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ لیکن اب اسی علاقے میں واقع ڈمپنگ گراؤنڈ میں  پورےممبئی سےجمع ہونے والے کوڑا کرکٹ  سے بجلی تیار کرنے کے لئے ’ویسٹ ٹو اینرجی پلانٹ‘ ‘ کو منظور ی مل گئی ہے۔
پلانٹ کیخلاف قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان
 اس سلسلے میں مقامی تنظیم ’گوونڈی نیوسنگم ویلفیئر سوسائٹی‘ کے عہدیداروں نےاس  پلانٹ کے خلاف قانونی  لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔   ڈمپنگ گراؤنڈ کے قریب رہنے والے ’ گوونڈی نیو سنگم ویلفیئر سوسائٹی ‘ کے صدر فیاض عالم شیخ نے بتایا کہ گوونڈی کا  ڈمپنگ گراؤنڈ ۱۲۰؍ ہیکٹرزمین پر مشتمل ہے جو  ۱۹۲۷ء میں شروع کیا گیا اور   حال ہی میں ممبئی کلائمیٹ ایکشن نے ۲۰۲۵ء میں اس کو بند کرنے کیلئے گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ اس کا متبادل ممبئی کے کانجور مارگ  علاقےمیںبنانے کا منصوبہ ہے ۔ اس وقت اس ڈمپنگ گراؤنڈ میں تقریباً ۲۰؍ ملین ٹن کچرا موجود ہے اور روزانہ ممبئی سے اسی ڈمپنگ میں ۷؍ ہزار میٹرک ٹن کچرا نکلتا ہے اور اس میں سے ۶۰۰؍ میٹرک ٹن کوڑا کرکٹ ڈمپنگ میں ڈالا جاتا ہے ۔ فیا ض عالم  شیخ نے مزید کہا کہ گوونڈی ڈمپنگ بند ہونے سے پہلے میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ جمع ہونیوالے کچرے سے بجلی تیار کرنے کیلئے ’ویسٹ ٹو اینرجی پلانٹ‘ لگانے کی نہ صرف تجویز منظور کی بلکہ پلانٹ کیلئے ڈمپنگ گراؤنڈ میں کام بھی شروع ہوچکا ہے ۔ یہ پلانٹ  ڈمپنگ گراؤنڈ  کے ۱۲؍ ہیکٹر رقبے پر مشتمل ہوگا۔ پلانٹ کے ذریعہ بھی ’بائیو ویسٹ پلانٹ ‘کی طرح مہلک بیماریاں  پیدا ہونے  کا خدشہ ہے ۔ اس پلانٹ کے لگانے میں تقریباً ۵۰۴؍ کروڑ  روپے خرچ ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق پلانٹ کے ذریعہ روزانہ ۴؍ میگا واٹ اینرجی تیار ہوگی جبکہ ممبئی شہر کو روزانہ ۳۵۰۰؍ میگاواٹ کی ضرورت ہے۔ نیز مذکورہ پلانٹ کے ذریعہ جو  بجلی تیار کی جائے گی،اس کا خرچ بجلی تیار کرنے والی تمام کمپنیوں سے کہیں زیادہ خرچ ہوگا ۔  ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس پلانٹ میں روزانہ جلائے جانے والے کوڑا کرکٹ کی مقدار ۶۰۰؍ میٹرک ٹن ہوگی ۔ اس پلانٹ کی تجویز ۲؍ جون ۲۰۱۸ء میں پیش کی گئی تھی اور اس  پلانٹ  کی تجویز کو چیف انجینئر ایس ڈبلیوایم  کی سربراہ   چیف انجینئر شریمتی انجلی شرکے کے ذریعہ پیش کی گئی تھی۔ اس کی منظوری ۲۶؍ جون ۲۰۲۰ء میں ملی تھی اوراس پلانٹ کی آن لائن پبلک ہیرنگ  ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۱ءکو دوپہر ۱۲؍ بجے بھی ہوئی تھی اور ۷؍دسمبر ۲۰۲۱ء کو اس پلانٹ کو لگانے کی اجازت مل گئی۔ گوونڈی نیوسنگم ویلفیئر سوسائٹی کے  ذمہ دار رفیق شیخ نے کہا کہ گوونڈی میں جہاں ساڑھے ۱۲؍ لاکھ کی آبادی ہے۔  ان میں سے  پلانٹ لگانے کیلئے ہونے والی ’پبلک ہیرنگ‘ میں صرف ۲۴؍افراد شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے صرف ایک شخص گوونڈی کا  تھا اور سب گوونڈی کے باہرکے  رہنے والے تھے ۔ ان میں سے بھی صرف ۲؍ افراد پلانٹ کے حق میں تھے اور باقی افراد اس کی مخالفت میں تھے ۔  رفیق شیخ نے کہا کہ گوونڈی کے لاکھوں افراد پہلے سے ’ ایس ایم ایس اینو وکلین پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنی‘کی فضائی آلودگی کی مار جھیل رہے ہیں  اور  اب ایک دوسری کمپنی کے ذریعہ علاقے کی مکینوں کی زندگی سے کھلواڑ کیا جانے والا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت  اور میونسپل کارپوریشن اہل گوونڈی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے ۔  اس سے پہلے ملک کے ۱۴؍  شہروں میں یہ پلانٹ لگایا ہے لیکن ان میں سے ۵۰؍ فیصد پلانٹ بند اور ناکارہ ثابت ہوچکا ہے ۔ 
   اینرجی پلانٹ کو روکنے کیلئے ہمارا  احتجاج جاری ہے: ابوعاصم اعظمی
 اس ضمن میں مقامی رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی  نے کہا کہ گوونڈی کے  ڈمپنگ گراؤنڈ میں بھی   ویسٹ  ٹو انرجی کمپنی کو روکنے کیلئے ہمارا  احتجاج جاری ہے اوریہی وجہ ہے کہ پلانٹ لگانے کیلئے جو گڑھا وغیرہ کھودا گیا تھا، اسے روک دیا گیا ہے ۔ حالانکہ بی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔ اسی طرح کا پلانٹ حیدرآباد میں لگاہوا ہے اور ہم لوگ اس پلانٹ کو دیکھنے کیلئے بھی  جانے والے ہیں۔ جب تک ہم لوگ  ویسٹ ٹو اینرجی پلانٹ کے بارے میں سمجھ نہیں لیں گے اسے نہیں لگنے دیں گے ۔  علاقے کی سابق کارپوریٹر رخسانہ ناظم صدیقی نے کہا کہ بی ایم سی محکمہ علاقےکے نمائندگان سے چھپ کر یہ پلانٹ لگانا چاہتی ہے ۔ بی ایم سی کو پلانٹ لگانے سے پہلے پریزینٹیشن دینا چاہئے۔ اگر  ویسٹ ٹو اینرجی پلانٹ بہترہے توعلاقے کے عوام اور نمائندگان کو اعتماد میں لے کر کیوں نہیں لگا رہی ہے ۔ ہم اس پلانٹ کی مخالفت کررہے ہیں اور اس کے خلاف ہم پہلے بھی احتجاج کرچکے ہیں اور  مزید احتجاج  کا منصوبہ  ہے۔  اس ضمن میں ایم ایسٹ وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر مہیندر اوبالے کا کہنا ہے کہ ایس ڈبلیو ایم محکمہ کے چیف انجینئرکے ذریعہ پلانٹ لگانے کا منصوبہ ہے ۔اس پلانٹ کے تعلق سے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے ریجنل آفیسر سنجے بھونسلے سے بھی گفتگو کیلئے متعدد مرتبہ کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا ۔ 

govandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK