کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ۶؍ کروڑ سےمتجاوز

Updated: November 26, 2020, 7:59 AM IST | Inquilab Desk | Geneva

امریکہ اور ہندوستان میں مریضوں کی بہتات، دونوں ممالک میں ایک ہی دن میں متاثرین کی تعداد میں لاکھوں کا اضافہ۔ روس فرانس کو پیچھے چھوڑ کر دوبارہ چوتھے نمبر پر ۔ میکسیکو میں مہلوکین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد۔ اسپین ، برطانیہ اور اٹلی میں کورونا کی لہر تیز، مہلوکین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ

Coronavirus - pic : Agency
کورونا کی دوسری لہر کےدوران کئی مقامات پر لاکھ ڈائون نہیں لگایا گیا ہے لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہیں(تصویر: ایجنسی

دنیا  بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے ۶؍ کروڑ کے اوپر پہنچ چکی ہے۔ ستمبر اکتوبر میں جہاں کورونا کی لہر کے سرد پڑنے کی امید پیدا ہوئی تھی وہیں نومبر میں کورونا کی دوسری لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ اس کے باوجود  امریکہ  سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اب تک دوبارہ لاک ڈائون نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ورڈو میٹر کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق، اب تک دنیا بھر میں ۶؍ کروڑ ۲؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار  ۲۱۰؍ افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ ۱۴؍ لاکھ  ۱۸؍ ہزار ۳۲۰؍ افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔  اہم بات یہ ہے کہ ۴؍ کروڑ ۱۶؍ لاکھ ؍ ہزار ۴۰۲؍ مریض شفایاب بھی ہوئے ہیں جوکہ ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تعداد ہے۔  
 امریکہ اور ہندوستان میں مریضوں کی بہتات
  جہاں تک بات ہے دنیا بھر کے ممالک کی تو امریکہ اب بھی دنیا کا سب سے بڑا کورونا مرکز ہے۔ یہاں اب تک ایک کروڑ  ۲۹؍ لاکھ  ۶۴؍ ہزار ۲۰۴؍  مریض پائے گئے ہیں جن میں سے  ۲؍ لاکھ ۶۶؍ ہزار  ۷۶؍  مریضوں کی موت ہو گئی ہے۔  واضح رہے کہ امریکہ میں مریضوں کی تعداد  میں ایک روز کے اندر کم وبیش ۲؍ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ادھر ہندوستان  جہاں ایک روز قبل مریضوں کی تعداد ۹۱؍ لاکھ سے زائد تھی وہاں اب یہ تعداد ۹۲؍ لاکھ  ۲۷؍ ہزار ۵۵۷؍ ہو گئی ہے۔ یعنی یہاں بھی کم وبیش ایک لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہندوستان میں  ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار  ۸۰۴؍  ہے۔  واضح رہے کہ  کورونا کی لہر میں دوبارہ تیزی آنے کے باوجود ان دونوں ممالک میں لاک ڈائون لگانے کا کوئی فیصلہ  نہیں کیا گیا ہے۔تیسرا ملک ہے برازیل جہاں ایک روز قبل  ۶۰؍ لاکھ سے زیادہ مریض تھے لیکن اب وہاں مریضوں کی تعداد ۶۱؍ لاکھ  ۲۱؍ ہزار ۴۴۹؍  ہو چکی ہے  ، جبکہ یہاں مہلوکین کی تعداد ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار ۱۷۹؍  ہو چکی ہے۔ 
  روس پھر فرانس سے آگے
  ایک روز پہلے تک فرانس دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد کے معاملے  میںچوتھے نمبر پر تھا لیکن اب روس نے اسے دوبارہ پیچھے چھوڑ دیا  ہے اور وہ پانچویں نمبر سے چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ روس میں اب تک  ۲۱؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار  ۵۰۳؍ مریض پائے گئے ہیں جبکہ یہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۷؍ ہزار  ۵۳۸؍ ہے۔ ادھر فرانس میں  اس سے کچھ ہی کم یعنی ۲۱؍ لاکھ ۵۳؍ ہزار  ۸۱۵؍ مریض ملے ہیں جبکہ مہلوکین کی تعداد ۵۰؍ ہزار ۲۳۷؍ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فرانس میں ایک دن میں کوئی ۳؍ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ 
  اسپین برطانیہ او ر اٹلی
 یہ تینوں ہی ممالک ایسے ہیں جہاںایک حد تک کورونا پر قابو پالیا گیا تھا لیکن اب یہاں دوبارہ اس مرض نے اپنے پیر پھیلانے شروع کر دئیے ہیں۔ اسپین میں ۱۶؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار  ۱۲۶؍ افراد کورونا میں مبتلا ہیں جبکہ  ۴۳؍ ہزار ۶۶۸؍ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ادھر برطانیہ میں ۱۵؍ لاکھ  ۳۸؍ ہزار ۷۹۴؍ مریض پائے گئے ہیں جن میں سے  ۵۵؍ ہزار ۸۳۸؍ کی موت ہو چکی ہے۔ جبکہ اٹلی میں ۱۴؍ لاکھ ۵۵؍ ہزار ۲۲؍ مریض ملے ہیں اور  ۵۱؍ ہزار ۳۰۶؍ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ  ارجنٹائنا اور کولمبیا بھی سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست  میں شامل ہیں جہاں بالترتیب ۱۳؍ لاکھ ۸۱؍ ہزار  ۷۹۵؍ اور  ۱۲ لاکھ  ۶۲؍ ہزار ۴۹۴؍ ہے۔ جہاں تک بات ہے اموات کی تو  ارجنٹائنا میں ۳۷؍ ہزار  ۴۳۲؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کولمبیا میں ۳۵؍ ہزار ۶۷۷؍ ۔
  میکسیکو میں ایک لاکھ سے زائد اموت
  امریکہ کے پڑوسی ملک میکسیکو میں  اب تک ۱۰؍ لاکھ  ۶۰؍ ہزار ۱۵۲؍ افراد کورونا کا شکار ہوئے ہیں جبکہ  ایک لاکھ  ۲؍ ہزار ۷۳۹؍ افراد موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ یعنی یہاں کورونا میں مبتلا ہونے والےکل افراد میں سے ۱۰؍ فیصد لوگوں کی موت ہو چکی ہے جو کہ مریضوں کے مقابلے میں  مہلوکین کا  سب سے بڑا تناسب ہے۔
ٍ  ان کے علاوہ جرمنی، پیرو ، پولینڈ اور ایران وہ ممالک ہیں جہاں مریضوں کی تعداد دھیرے دھیرے ۱۰؍ لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش  اور چلی ایسے ممالک ہیں جہاں جولائی اور اگست کے دوران کورونا مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا لیکن اب وہاں حالات پوری طرح قابو میں نظر آ رہے ہیں۔  ان ممالک میں کورونا کی رفتار ایک حد پر جا کر رک گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK