اومائیکرون جنوبی افریقہ سے پہلےیورپ میں موجودتھی، ہالینڈ حکومت کی جانب سے تصدیق

Updated: December 02, 2021, 11:17 AM IST | Agency | Washington

کورونا وائرس کی نئی قسم اومائیکرون دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔ البتہ نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اومائیکرون قسم جنوبی افریقہ سے قبل ہی مغربی یورپ میں موجود تھی۔

Airbus carrying Corona patients in Brazil.Picture:Agency
برازیل میں کورونا مریضوں کو لے جانی والی ایئربس ۔ تصویر: ایجنسی

 کورونا  وائرس کی نئی قسم اومائیکرون  دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔ البتہ نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اومائیکرون  قسم جنوبی افریقہ سے قبل ہی مغربی یورپ میں موجود تھی۔ہالینڈ  نے منگل کو ایک بیان میں کہا  کہ ۱۹؍  نومبر تک    لئے گئے کچھ نمونوں میں اومائیکرون   پائی گئی تھی جو جنوبی افریقہ سے ایمسٹرڈیم آنے والے مسافروں میں وائرس کی موجودگی سے ایک ہفتے قبل کے کیس ہیں۔ ادھر جاپان اور فرانس کے شعبۂ صحت نے منگل کو ملک میں اومائیکرون کے کیس کی تصدیق کی ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، اسکاٹ لینڈ، آسٹریلیا، آسٹریا، اسپین اور سوئیڈن میں او مائیکرون  کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔اومائیکرون  کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے منگل کو ہی دوا ساز کمپنی ماڈرنا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسٹیفن بینسل نے خبردار کیا کہ موجودہ ویکسین کورونا وائرس کی ڈیلٹا سمیت دوسری اقسام کے مقابلے میں اومائیکرون  کے خلاف شاید اتنی مؤثر نہ ہوں۔
 بینسل کے بقول کورونا کی نئی قسم اومائیکرون  کے خلاف ویکسین کے کم مؤثر ہونے کے بیان کے بعد دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔منگل کو ٹوکیو کے  اسٹاک مارکیٹ میں ۱ء۵؍  فی صد مندی دیکھنے میں آئی جبکہ خام تیل کی مستقبل کی خرید و فروخت میں ۳؍ فیصد مندی رہی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹوں کے مستقبل کے سودوں میں بھی مندی دیکھنے میں آئی۔دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم جس نے ایسٹرازینیکا ویکسین بنائی تھی، کا کہنا ہے کہ موجودہ ویکسین نے `بیماری کی شدت کے خلاف مسلسل حفاظت فراہم کی ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اومائیکرون  اس سے مختلف ہے۔ان کے بقول اگر ضرورت پڑی تو ان کے پاس ویکسین کو بہتر کرنے کا آپشن موجود ہے۔ادھر یورپی یونین میں ادویات کے کنٹرول کی تنظیم یورپین میڈیسن ایجنسی کے سربراہ ایمر کوک نے برسلز میں یورپی یونین کے عہدیداروں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ موجودہ  ویکسین اومائیکرون کے خلاف حفاظت کیلئے کافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو چار مہینوں کے مختصر عرصے میں نئی ویکسین بنا کر منظور کی جا سکتی ہے۔  کورونا  کی نئی قسم کے سامنے آنے پر عالمی ادراۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنہم نے متنبہ کیا کہ اومائیکرون کا سامنے آنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم کورونا  سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک کورونا ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے۔ان کے بقول ہم گھبراہٹ اور غفلت کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں محنت سے حاصل کئے ہوئے نتائج بہت جلدی کھوئے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ کا مرکز اس عالمی وبا کو ختم کرنا ہونا چاہئے۔عالمی ادارۂ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اومائیکرون    سے خطرہ بہت زیادہ ہے ۔البتہ اب تک اس کی وجہ سے کوئی ہلاکت ریکارڈ نہیں ہوئی ہے۔ نیز امائیکرون کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ نے پیر کو تمام بالغ آبادی کو کہا ہے کہ وہ ویکسین کے بوسٹر شاٹ لگوائیں۔ کورونا کی اس نئی قسم کے باعث مختلف ممالک نے سفری پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔ پولینڈ نے۷؍ افریقی ممالک سے اپنے ہوائی سفر کو معطل کیا ہے جبکہ جاپان نے بھی غیرملکی مسافروں کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔اس سے قبل اسرائیل اور مراکش نے بھی تمام غیرملکیوں کی آمد پر پابندی عائد کی تھی۔اس کے علاوہ  ا مریکہ، کینیڈا، برازیل اور کچھ یورپی یونین کے ممالک  نے افریقہ کے جنوبی خطے سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔ ​اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس  نے کہا ہے کہ انہیں ان پابندیوں کے ذریعے افریقی ممالک کو تنہا کرنے پر شدید تشویش ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK