بی جےپی الیکشن جیتےبغیرحکومت سازی میں ماہر۶ برسوں میں۴ مرتبہ آپریشن لوٹس کامیاب ہوا

Updated: June 23, 2022, 10:06 AM IST | new Delhi

۳؍ مرتبہ منہ کی بھی کھانی پڑی مگر زعفرانی پارٹی نےہمت نہیں ہاری، مہاراشٹر میں ۲۵؍ اراکین اسمبلی کی بغاوت سے شروع ہونےوالا آپریشن ۴۲؍ اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب

Maharashtra Assembly members being shifted from Surat to Guwahati.
مہاراشٹر کے اراکین اسمبلی کو سورت سے گوہاٹی منتقل کیا جارہاہے۔

 مہاراشٹر میں شیوسینا کے قدآور لیڈر ایکناتھ شندے کی بغاوت  کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں تک بی جےپی نے حالانکہ یہ دعویٰ کیا کہ اس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تاہم دیویندر فرنویس کا دہلی پہنچنا، باغی اراکین اسمبلی کا سورت میں پناہ لینا   وہاں سے انہیں سرکاری تحفظ میں نجی طیارہ سے گوہاٹی منتقل کیا جانا  اس بات کا مظہر ہے کہ زعفرانی پارٹی کی تائید  کے بغیر یہ بغاوت ممکن نہیں تھی۔ میڈیا نے اسے ’’آپریشن لوٹس‘‘ کا نام دیا ہے۔  ۲۵؍ اراکین  کی بغاوت سے شروع ہونےو الے اس آپریشن لوٹس میں خبر لکھے جانے تک  باغی اراکین تعداد بڑھ کر ۴۲؍ ہوچکی ہے ۔
۲۰۲۰ء میں مدھیہ پردیش میں کامیابی
 ’آپریشن لوٹس ‘  کا نام بی جےپی کی اس حکمت عملی کو دیاگیا ہے جس میں زعفرانی پارٹی اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کی کوشش کرتی ہے۔ گزشتہ ۶؍ برسوں میں وہ ایسی ۷؍ کوششیں کرچکی ہے جن میں سے ۴؍ میں  اسے کامیابی ملی۔ ۲۰۱۸ء میںمدھیہ پردیش میں اسمبلی الیکشن ہار جانے کے باوجود کانگریس لیڈر جیوترادتیہ سندھیاکی ناراضگی کا فائدہ اٹھایااور انہیں بغاوت کیلئے آمادہ کرلیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سندھیا نے ۹؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو اپنے حامیوں کے ساتھ علم بغاوت بلند کر دیا اورانہیں چارٹرڈ پلین میں لے کر بنگلور پہنچ گئے۔ تمام کوششوں کے باوجود کانگریس باغیوں کو منا  نہیں سکی اور ۲۰؍ مارچ کو محض ۱۵؍ مہینوں میں  
 کمل ناتھ  حکومت گر گئی ۔ 
راجستھان میں ناکامی
  مدھیہ پردیش کی ہی حکمت عملی کا فائدہ بی جےپی نے راجستھان میں بھی اٹھانے کی کوشش کی  جہاں وزیراعلیٰ نہ بن پانے سے سچن پائلٹ  ناخوش تھے۔۱۱؍ مارچ کو سچن پائلٹ نے گہلوت  حکومت  کے خلاف محاذ سنبھالا اور ۱۸؍ اراکین کے ساتھ گڑگاؤں کے ایک ہوٹل  میں پہنچ گئے۔  جواب میں گہلوت نے اپنے تمام بقیہ اراکین کو ایک ہوٹل میں محفوظ کیا جبکہ پرینکا گاندھی  نے سچن پائلٹ سے گفتگو کرکے ۱۰؍ اگست ۲۰۲۰ء کو انہیں  منا لیا اور آپریشن لوٹس ناکام ہوگیا۔
۲۰۱۹ء میں کرناٹک میں اقتدار چھینا
 ۲۰۱۹ء میں کانگریس اور جے ڈی ایس سرکار تھی مگر کانگریس کے ۱۳؍ اور جے ڈی ایس کے ۳؍ اراکین اسمبلی باغی ہوگئے جنہیں  بی جےپی کی تائید حاصل تھی۔ بھر پور ڈرامے کے دوران  معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، کمارا سوامی ایوان میں  اکثریت ثابت نہیں کرسکے اور بی جےپی  اقتدار میں آ گئی۔ 
 گوا اور ارونچل میں بھی کامیابی
  اس سے قبل فروری ۲۰۱۷ء میں گوا کا  الیکشن  ہار جانے اور کانگریس کے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے کے باوجود بی جےپی نے جوڑ توڑ کر کے حکومت بنالی۔اسی طرح ۲۰۱۴ء میں کانگریس نے اروناچل میں واضح اکثریت سے حکومت بنائی مگر ۱۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء میں وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے  ۴۲؍ اراکین کےساتھ کانگریس  چھوڑ دی، پیپلس پارٹی آف اروناچل پردیش میں شامل ہوئے اور بی جےپی  کے ساتھ  مل کر حکومت بنا لی۔ا لبتہ ۲۰۱۶ء میں اتراکھنڈ میں اور ۲۰۱۹ء میں مہاراشٹر میں  آپریشن لوٹس ناکام ہوا۔ 

shiv sena Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK